دو روز قبل بلند شہر (اترپردیش) سے ایک خبر آئی کہ کورونا سے متاثر ایک ہندو کا انتقال ہوگیا تو اس کے گھر والوں نے اس کی آخری رسوم ادا کرنے سے انکار کردیا _ اس کی لاش پڑی رہی _ بالآخر محلے کے کچھ مسلمانوں نے ہمّت کی _ وہ آگے بڑھے _ اس کی نعش کو شمشان گھاٹ لے گئے اور وہاں ہندو رسم و رواج کے مطابق اسے نذرِ آتش کیا۔

      یہ خبر ایک پہلو سے تو خوش آئند ہے کہ مسلم پڑوسیوں اور اہلِ محلہ نے وہ کام انجام دیا جسے وفات پانے والے ہندو کے گھر والے اور رشتے دار کرنے کی ہمّت نہ کرسکے ، لیکن اس کا دوسرا پہلو تشویش ناک ہے _ سوشل میڈیا پر اس واقعہ کا جو ویڈیو سامنے آیا ہے اس میں نعش کو اپنے کندھوں پر لے جانے والے مسلمان ‘ رام رام ستّیہ ہے’ (وہ کلمات جو ہندو اپنے مردہ کو لے جاتے وقت دہراتے ہیں) کہہ رہے ہیں _ اسلامی نقطۂ نظر سے یہ کسی طرح قابلِ قبول نہیں ہے _ ہندو پڑوسیوں اور اہلِ تعلق کی مدد کرنا اور ان کے کام آنا مسلمانوں سے مطلوب ہے ، لیکن اس طرح کہ ان کے دین و ایمان پر حرف نہ آئے اور وہ شرکیہ عقائد و اعمال اور مراسم سے بچے رہیں۔

       دوسری خبر آج ریاست مہاراشٹر سے آئی ہے _ وہاں ایک مسلمان کی کورونا سے وفات ہوئی تو اسے مسلمانوں نے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا _ بالآخر ہندوؤں کے شمشان گھاٹ میں اس کی نعش کو جلا دیا گیا _ یہ خبر پڑھ کر میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا کیا کسی جگہ کے مسلمان اس حد تک گرسکتے ہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی نعش کو موہوم اندیشوں کی بنا پر اسلامی طریقے سے دفن نہ ہونے دیں ، جس کی بنا پر اسے جلانا پڑے۔

       عالمی ادارۂ صحت  نے واضح کردیا ہے کہ کورونا کے مرض میں انتقال ہونے کے تھوڑی دیر بعد نعش پر وائرس کے اثرات باقی نہیں رہتے _ یہ وضاحت نہ آتی اور مردہ کے جسم پر وائرس موجودہ ہونے کا خطرہ باقی رہتا تب بھی کیا انتہائی احتیاطی تدابیر اختیار کرکے مسلم میّت کی تدفین کا انتظام نہیں کیا جا سکتا تھا؟

     ہماری انسانیت کہاں مرگئی ہے؟ ہمارا دین و ایمان کہاں رہ گیا ہے؟ مسلمان کے معنیٰ یہ ہوتے ہیں کہ ہم اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردیں اور زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں اس کی منشا اور اس کے رسول کی ہدایات کے مطابق عمل کریں _ پھر ہم کہاں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں؟ ہماری مثال اس ریوڑ کی سی ہوگئی ہے جسے تاریکیوں میں کوئی راہ نہیں دکھائی دے رہی ہے اور وہ اِدھر اُدھر بھاگ رہا ہے۔

    اس صورت حال میں دین کا شعور رکھنے والوں کی ذمے داری ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور دوسرے بے شعور مسلمانوں کو سمجھانے بجھانے اور صحیح راہ پر چلنے پر آمادہ کریں _ اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو ان کی مثال اس دو منزلہ کشتی کے سواروں کی سی ہوگی جن میں سے نچلی منزل کے سواروں نے کشتی میں سوراخ کرکے نیچے ہی سے پانی لے لینے کا ارادہ کیا _ اگر اوپری منزل کے مسافروں نے انہیں نہ روکا تو سب ڈوب جائیں گے ، سوراخ کرنے والے بھی اور انہیں نہ روکنے والے بھی۔

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here