بی جے پی کو ہریانہ میں صرف 40 سیٹیں ملی تھیں اور انھیں 6 سیٹوں کی ضرورت تھی۔ لیکن جمعہ کی دوپہر تک 9 ممبران اسمبلی نے بی جے پی کو سپورٹ کرنے کا اعلان کیا ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اب منوہر لال کھٹر میں کل 49 ایم ایل اے ہیں۔

چنڈی گڑھ : جمعرات کو دیر رات ہریانہ کے پانچ آزاد ایم ایل اے نے بی جے پی کے ایگزیکٹو صدر جے پی نڈا اور ہریانہ بی جے پی انچارج اور جنرل سکریٹری انیل جین سے ملاقات کی تاکہ ہریانہ میں بی جے پی کی حمایت پر مہر لگا سکیں ۔ اس کے بعد باقی ایم ایل اے بھی بی جے پی کے ساتھ آئے اور حمایت کا اعلان کر دیا۔ منوہر لال کھٹر دیوالی کے بعد وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لے سکتے ہیں۔
گوپال کانڈا پہلے بی جے پی کی حمایت میں آئے ، بعدازاں آزاد امید واروں نے بھی ان کی حمایت کی۔ انتخابات سے قبل ٹکٹ نہ ملنے پر بی جے پی سے ناراض ایم ایل اے نے پارٹی کی حمایت کی بات کی ہے۔ اس کے علاوہ کے ابھے چوٹالہ بھی بی جے پی کے ساتھ آئے ہیں۔

جے پی نڈا اور انیل جین سے ملنے والے ارکان اسمبلی یہ ہیں

رندھیر گولن۔ پنڈری
بلراج کندو- ماہم
رنجیت سنگھ۔ رانیاں
راکیش دولت آباد۔ بادشاہ پور
گوپال کنڈہ – سرسا
سومویر سنگوان۔ دادری
دھرمپال گوندر۔ نیلو کھیڑی
ابھے چوٹالہ۔ آئی این ایل ڈی
نین پال راوت۔ پرتھلہ

جمعرات کی سہ پہر کے نتائج کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت بنانے کے پلان میں مصروف رہی ۔ بی جے پی کو 6 ایم ایل اے کی ضرورت تھی اور آزاد امیدواروں کی تعداد سات تھی۔ ان میں سے چار بی جے پی کے باغی ایم ایل اے تھے ، ایسی صورتحال میں بی جے پی نے 24 گھنٹوں کے اندر ان کا سپورٹ اپنے ساتھ لے لیا ۔
ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر جمعہ کو نئی دہلی روانہ ہوئے اور انہوں نے بی جے پی کے ورکنگ صدر جے پی نڈا سے ملاقات کی۔

ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر

اس دوران ہریانہ انتخابات کے نتائج پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ منوہر لال کھٹر نے ہریانہ بھون میں آزاد ممبران اسمبلی سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے یہاں کہا کہ بی جے پی ہریانہ میں حکومت بنانے جارہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here