وہ معاشرہ خوشحال رہتا ہے جس میں انوائرمنٹ/ماحولیات کے حوالے سے بیداری ہوکیونکہ ایسے معاشرے میں بیماریاں کم ہوتی ہیں،ماحولیات کا دائرہ نہایت وسیع ہے،ندی،جنگل اور پہاڑ سے لے کر کارخانے،کاروبار یہاں تک آسمان تک یہ لفظ محیط ہے۔یعنی یہ زندگی کے ہر شعبے سے متعلق ہے لیکن ہر شعبہ و مقام ہر ایک کے بس میں نہیں ہے،ایسے میں جو شخص جہاں ہے اور جس سطح پر ہے اس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ماحولیات کے حوالے سے بیدار رہے اور اس کو وہ نقصان نہ پہنچنے دے۔اس کابظاہر سب سے چھوٹا حصہ شجر کاری یعنی پودے لگانا ہے لیکن در حقیقت یہ سب سے اہم حصہ ہے۔
ان ممالک کو ترقی یافتہ مانا گیا ہے جہاں ماحولیات کے حوالے سے بیداری ہے،ہمارا ملک ہندستان خود ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے ”کنونشن آن بایو لوجیکل ڈائیورسٹی“ (سی بی ڈی) پر دستخط کئے ہیں۔وفاقی سطح پر وزارت ماحولیات ہے جو ملک ندیوں،جنگلات،پہاڑ سمیت ماحولیات سے متعلق تمام شعبوں پر نظر رکھتی ہے اور اس بات کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ ماحولیات کا توازن برقرار رہے۔ریاستی سطح پر محکمہ جنگلات قائم ہیں جو شجر کاری کرنے کے ساتھ ہی ان کی دیکھ بھال کرتے ہی اور ایسے درختوں کو بچاتے ہیں جن کے کاٹنے سے ماحولیات میں عدم توازن کا خطرہ ہوتا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق 1992میں 743534کلو میٹر پر جنگلات تھے جس کا 92فیصد حکومت کے ماتحت تھا۔ایک دوسری رپورٹ کے مطابق جو وزارت ماحولیات کی ہے 7672336پیڑ 2016-2017اور208-2019میں کاٹے گئے۔حکومت کے متعدد ایسے پروجیکٹ رہے ہیں جنہوں نے جنگلات کو بہت نقصان پہنچایا ہے جس کی مخالفت بھی کی گئی ہے۔ریاستی سطح کے محکمہ جنگلات جہاں ایک طرف جنگلات کی حفاظت کرتے ہیں۔ وہیں اس کے ملازمین ہی غیر قانونی طور پر جنگلات کو اندر سے خالی بھی کرا دیتے ہیں،حکومت کو اس جانب سختی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ اس کی چوکیاں صرف ان کا تحفظ ہی نہیں کرتی ہیں بلکہ ان کے پیچھے ایک بہت بڑا کاروبار چلتا ہے۔حکومت اور اس کے کارندوں کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں جو لوگ جنگلات کے کنارے یا آس پاس رہتے ہیں وہ اس سے اچھی طرح واقف ہیں۔
مسلمانوں کو تو اس جانب خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں ہی یہ شامل ہے کہ پودے لگائے جائیں علاقے کو سرسبز و شاداب رکھا جائے۔ انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ اگر قیامت آجائے اور آپ کے ہاتھ میں کوئی پودا ہو اور اس بات کی استطاعت ہوکہ قیامت سے قبل اس کو لگادیں تو اس کو لگادینا چاہئے۔
ایک دوسری حدیث ہے یہ بھی حضرت انس بن مالک ؓ نے ہی روایت کی ہے کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی بھی مسلم شخص جب درخت لگاتا ہے یا کھیتی کرتا ہے تو اس سے پرندے کھالیں یا انسان اور جانور کھالیں تو وہ اس کیلئے صدقہ ہے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایاکہ جو شخص بنجرزمین کو قابل کاشت بنائے گا اس کیلئے اجر ہے اور اس سے نکلنے والے پھل سے اگر کوئی شخص کچھ کھاتا ہے تو اس کیلئے صدقہ ہے۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐنے ارشاد فرمایاکہ جس شخص نے کوئی ایسی زمین آباد کی جوکسی کی نہ ہو تو وہ اس کا حقدار ہے۔
معاویہ بن حیدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایاکہ بیری کے درخت کو کاٹنے والے کو اللہ تبارک وتعالیٰ اوندھے سرجہنم میں ڈالے گا۔
مندرجہ بالا احادیث کا اگر سائنسی نقطہ نظرسے جائزہ لیاجائے تو ایک خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ آپؐ نے ان باتوں کی طرف ہزاروں برس قبل توجہ دی تھی جن سے انسانیت آج نبردآزماہے اور ان کا خیال نہ رکھ کر اس نے اپنی زندگی کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے۔زمانے قدیم میں آلودگی کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن آج طرح طرح کی آلودگیوں سے انسان پریشان ہے جس کے اثرات موسم، پیڑ، پودوں اور چرندوپرند پر مرتب ہوتے ہیں۔ماحولیاتی آلودگی، آبی آلودگی اور صوتی یہ وہ اہم مسئلے ہیں جن سے پوری دنیا پریشان ہے۔ترقی کیلئے انسان نے شفاف فضا کو آلودہ کرکے رکھ دیا ہے۔دوسری طرف نبی کریمؐ کی تعلیمات ہیں جویہ بتاتی ہیں کہ اگر ان پر عمل کیاجاتا تو کسی بھی طرح کی آلودگی کا سامنا نہ کرناپڑتا اور آج بھی اگر آپؐ کی بتائی ہوئی تعلیمات پر عمل کرلیاجائے تو آلودگی جیسے اہم مسئلے سے ہمیں نجات مل سکتی ہے۔ہمارے روایتی موسم بھی اب بدل چکے ہیں، ایسے میں شجرکاری ہی وہ کنجی ہے جس کے ذریعہ ان سبھی موسموں کو درست کیاجاسکتاہے۔
دراصل نبی کریمؐ دنیا کیلئے محسن انسانیت بن کر آئے۔آپ نے صرف مذہبی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ انسانوں کی بھلائی کیلئے بھی عملی اقدامات کئے اور زبان سے صحابہ کرام کو احکامات دئے۔جن کی معنویت آج دوچند ہوگئی ہے۔آپؐ نے شجرکاری کی تعلیم اس وقت دی تھی جب ان پودوں کی کوئی بہت زیادہ اہمیت نہیں تھی اور ماحولیات میں عدم توازن بھی اس قدر خراب نہیں ہواتھا لیکن انسان کی ترقی کی لالچ اور آگے بڑھنے کی دھن نے جنگلات کا خاتمہ کردیا۔ بڑی بڑی صنعتیں اور یونٹیں بھی درختوں کی کٹان پر ہی منحصررہیں۔درخت تو کاٹے جاتے رہے لیکن نئے پودے لگانے کی طرف توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے ماحولیات کا توازن خراب ہوگیا اور سانس لینے میں بھی انسانوں کو دشواری ہونے لگی۔کھلی فضا اور صاف ہوا کیلئے شہری لوگ ترس گئے۔اس تناظر میں اگر اس حدیث کا مطالعہ کیاجائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ احادیث نبویہ شجرکاری کے باب میں کس قدر اہم ہے۔اللہ کے نبی کریمؐ نے صرف شجرکاری کا ہی حکم نہیں دیا ہے بلکہ اس کے توسط سے انسانوں کی صحت کی طرف توجہ دی ہے۔آپؐ نے شجرکاری سے اچھی صحت کو وابستہ کردیا ہے۔آج کے دورمیں رفاہی تنظیمیں اور سماجی کام کرنے والے ادارے اس جانب سب سے زیادہ توجہ دیتے ہیں۔جبکہ نبی کریمؐ نے بہت پہلے شجرکاری کی نہ صرف تعلیم دی بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ اگر قیامت سامنے کھڑی ہو اور کسی کے ہاتھ میں ایک پودہ ہواور اس کو یقین ہے کہ قیامت آنے سے قبل وہ پودا لگادے گا تو اس کو لگادینا چاہئے اس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ کس قدر شدت کے ساتھ آپؐ نے شجرکاری کی طرف راغب کیا ہے۔اگر آپؐ کی اس ہدایت پر ابتداسے عمل کیاجاتا تو آج بڑے درختوں کے پلانٹیشن کی ضرورت نہ پڑتی اس کے باوجود اگر ہرشخص انفرادی سطح پر ان احادیث پر عمل کرنے لگے تو محض چند برسوں میں ماحولیات کا تواز ن بدل جائے گا۔سانس کی پریشانیاں ختم ہوجائیں گی اور ہرطرف خوشگوار فضا ہوگی جس میں ہم اور ہماری آئندہ کی نسلیں سانس لینے لگیں گی۔
اگر ہم نبی کریمؐ کی حیات طیبہ اور آپؐ کی تعلیمات کا جائزہ لیں تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپؐ نے ہمیشہ پودا لگانے کی تلقین کی ہے جبکہ درخت کاٹنے سے منع فرمایا ہے۔آپؐ جب فوجوں کو روانہ کرتے تھے تو اس بات کی ہدایت کیاکرتے تھے کہ وہ درختوں کو نہ کاٹیں اسی طرح جب حضرت ابوبکرؓ خلیفہ بنائے گئے اورانہوں نے فوجوں کو روانہ کیا تو جو رہنما ہدایات جاری کیں ان میں ایک یہ بھی ہدایت تھی کہ کھیت کھلیان نہ جلائے جائیں اور درختوں کو نہ کاٹاجائے۔جب بیری جیسے کانٹے دار درخت کو کاٹنے پر اس قدر تہدید آمیز لہجے میں منع کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے شخص کواللہ رب العزت اوندھے منھ جہنم میں ڈالے گا تو بھلا پھل دار درخت کاٹنے کی کہاں اجازت ہوسکتی ہے۔درختوں سے جہاں ایک طرف ہمیں پھل اور سایہ ملتاہے وہیں دوسری طرف ان سے ماحولیات کا توازن بھی برقراررہتا ہے۔جہاں درخت نہیں ہوتے ہیں وہاں سردی، گرمی اور بارش میں کوئی توازن نہیں رہتا ہے۔انسان ہمیشہ پریشان رہتا ہے اور طرح طرح کی بیماریاں پیداہوجاتی ہیں لیکن جہاں کی آب وہوا خوشگوار ہوتی ہے اور فضا اچھی ہوتی ہے وہاں کی زمین میں قوت نمو بھی اچھی ہوتی ہے اور وہاں رہنے بسنے والے انسان بھی صحت مند اور توانا رہتے ہیں۔درخت کاٹنے سے منع کرنا محض پیڑپودوں سے محبت نہیں ہے بلکہ دراصل یہ انسانی زندگی سے محبت کی علامت ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپؐ نے پیڑپودوں کو کاٹنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء کو نماز،روزہ اور دیگر مذہبی امور کی طرح اپنی تحریر و تقریر میں شجر کاری سے متعلق عوام کو بیدار کرنا چاہئے اور ان کو بتانا چاہئے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس حوالے سے کیا کیا فرما یا ہے۔ان کو مسلکی تنافر بڑھانے کے بجائے انسانی زندگی کو خوشحال بنانے کی طرف توجہ دینا چاہئے۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ علماء اس سے بالکل اغماص برتتے ہیں،ان کی تقریر و تحریر کہیں بھی ماحولیات کے حوالے کچھ دکھائی نہیں دیتا،انہوں نے خود کوفرائض تک سمیٹ لیا ہے بلکہ اسلام کو نماز،روزہ،حج اور زکوۃ تک محدود کردیا ہے جبکہ ان کا یہ فریضہ تھا کہ نبکی کریم ﷺ نے عام انسانی زندگی کے حوالے سے جو باتیں کہیں تھیں لوگوں تک ان کو پہنچاتے،اس سے جہاں ایک طرف اسلام اور اسلامی تعلیمات کی وسعت کا اندازہ ہوتا وہیں انسانی زندگی بھی مزید خوشحال ہوتی۔ اسی طرح حکومت کو چاہئے کہ جہاں ایک طرف وہ وزارت ماحولیات اور محکمہ جنگلات کے اپنے کارندوں کی کارستانیوں پر روک لگائے وہیں دوسری جانب وہ عوامی سطح پر پودے لگانے کے لئے ایک خاص پروجیکٹ لائے اور جو لوگ باغ لگانا چاہیں ان کو وہ سبسڈی دے۔ اگر حکومت اس طرح کی اسکیم لے آتی ہے تو عوامی سطح پر نہ صرف بیداری پیدا ہوگی بلکہ لوگ خود باغات کی طرف مائل ہوں گے اس سے جہاں ملک میں پھل پھول میں اضافہ ہوگا،لوگوں کو اچھے پھل کم قیمت پر دستیاب ہوں گے وہیں انفرادی سطح پر لوگ اس کی جانب مائل ہوں گے۔جس سے ماحولیات کا توازن بھی بہتر ہوگا۔یہ بارش کا موسم ہے اس میں ہر شخص کو خواہ شہر کا رہنے والا ہو یا دیہات کا کم از کم ایک ایک پودا ضرور لگانا چاہئے،اب تو گھروں میں لگانے والے پودے بھی بازار میں دستیاب ہیں تو پھر تاخیر کس بات کی؟

محمد حنیف خان

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here