عرفان خان ہم سے رخصت ہوئے۔ اور ان کے ساتھ ہی فلمی دنیا کے ایک اہم باب کا خاتمہ ہو گیا۔ یہ سانحہ فلمی دنیا کے لیے اندوہناک ہو یا نہ ہو، لیکن ہماری نسل کے لئے ضرور ہے۔ ہوش سنبھالنے کے بعد جب فارغ البالی نے مجھے فلمیں دیکھنے کا موقع دیا تو میرے ذہن پر دو فنکاروں نے اپنی الگ جگہ بنائ ۔ ان میں سے پہلا فنکار تھا “عرفان خان” اور دوسرا “نواز الدین صدیقی”۔ آج اچانک خبر آئی کہ عرفان خان اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ اور اس خبر کے ساتھ ہی ذہن کے پنوں پر کنداں عرفان خان کی متحرک تصویریں، ان کے بولنے کا انداز، آواز کا بھاری پن، لہجہ کی نیرنگی، آنکھوں کی شعلگی، تیور کا اتار چڑھاؤ سب کچھ آنکھوں کے سامنے ایک ہالہ بن کر گردش کرنے لگا۔ اس کی آواز خدا داد تھی۔ جو دنیا میں بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ اور دوسری خوبی جس نے اس شخص کو عرفان بخشا وہ اس کی آنکھوں کی شعلگی تھی، خمار آلود،نشہ آور اور ادھوری نیند کی سرخی لئے وہ بوجھل آنکھیں۔ جن میں شفق اپنے کتنے ہی رنگوں کے ساتھ ڈوب گئ تھی اور گنگا جمنا کا سارا مقدس پانی اس آگ سی دہکتی پتلی کو سرد کرنے کے لیے امنڈتا رہتا تھا۔ وہ آنکھیں جو دیکھتی کم اور گھورتی زیادہ تھیں۔ وہ آنکھیں جو گھورتی نہیں بلکہ درون ذات کی حرارت کو آنسوؤں کے ساتھ پگھلا کر باہر نکال دیتی تھیں۔ ان میں ایک سچائی تھی۔ ایک صداقت، جو کسی بھی کردار کی روح تک پہنچ جاتی تھیں۔ کیا آج وہی آنکھیں بند ہو گئیں؟، وہ دو شعلے بجھ گئے؟ ابھی تو کائنات میں ہر سمت آگ ہی آگ لگی ہوئی ہے۔ ان آنکھوں نے کیسے ہار مان لی۔ یا پھر شعلہ شعلے کو ہضم کر گیا۔ اور ایک شعلہ جو کئ سالوں سے کسی مہلک کینسر کی شکل میں عرفان کے جسم میں اتر گیا تھا اس کی لپٹیں ان آنکھوں تک آ پہنچیں تھیں

عرفان تو چلا گیا، اور اپنی متحرک تصویریں چھوڑ گیا۔ ہاں ٹھیک ہے ہم ان تصویروں کے ذریعہ تیری خشمگیں آنکھوں کو دیکھ سکیں گے، تیری آواز سے اٹھتی لپٹوں کو محسوس کر سکیں گے مگر۔۔۔۔۔۔!! وہ کتنے ہی ادھورے کردار جو تیری آواز کے پیاسے تھے، ان کا کیا ہوگا۔ وہ باغیوں کے تیور ہم اب کہاں ڈھونڈیں گے جو تو نے ” پان سنگھ تومر” کے ذریعہ ہمیں دکھائے تھے۔ ہاں مجھے سکوت پسند ہے۔ طبیعت میں یک گونا عزلت نشینی بھی ہے۔ اور فطرت، خاموش فطرت سے گفتگو کا شوق بھی۔ سو ہم ” لائف آف پائ” دیکھا کرتے تھے۔ وہ دریا کا سکوت، وہ کشتی کے ہچکولے، وہ چیتے کی شکل میں وحشت کا تیرے قریب آنا اور پھر تیری چچکار، تیرے پیار اور تیری آنکھوں کی جادوگری سے اس کا رام ہو جانا۔ ہاے۔۔۔!! کتنا کچھ تھا اس معمولی سی کشتی پر۔ تو چپو نہیں چلا رہا تھا۔ تو تو کائنات سے باتیں کر رہا تھا، فطرت سے فطرت کی آغوش میں بیٹھ کر کی جانے والی باتیں۔ اور پھر جب ساحل تجھے اپنے قریب لے آیا تھا، تیری وحشت کو بھی قرار آ گیا تھا۔ تیرے موذی دوست نے بھی کشتی سے اتر کر ایک انگڑائی لی تھی۔ اور پھر وہ ہوا، جو تو نہیں چاہتا تھا کہ ہو جائے۔ وہ وحشت اب تیری محبت بن چکی تھی۔مگر کیا ہوا۔ وہ تو جنگل کو دیکھ کر ایک بار پھر اپنی راہ پر چلی گئی۔ اور تیری آنکھیں۔۔۔۔۔اف وہی شعلہ بردار آنکھیں، کس قدر مایوس، بے زبان اور لاچار سی ہو کر رہ گئی تھیں۔ اور تیری وحشت پلک جھپکتے ہی تجھ سے دور جا چکی تھی۔

ریت پہ تھک کے گرا ہوں تو ہوا پوچھتی ہے

آپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر

وحشت تو تو ساتھ لے کر آیا تھا، مگر بیچ میں ساتھ چھوڑ گئی تو تیری کیا غلطی۔

   ہاں تو بتاؤ عرفان! تم نے ایک فلم ” لنچ باکس” میں میرے دوسرے پسندیدہ کلاکار نواز الدین صدیقی کو بھی اپنے ساتھ کر لیا تھا۔ اور اس طرح دو منفرد فنکار ایک ہی نقطے پر جمع ہو گئے تھے۔ ہاں اس فلم میں تمہاری غائبانہ محبت کا جادو کئ لوگوں کے دل پر چلا تھا۔ تم ” مقبول” کی خلا کو پر کرنے کے لیے کسے اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہو؟ یا پھر کوئی ہے جو ” ہندی میڈیم، مداری، بلو باربر یا “حاصل” میں تمہاری جگہ لے سکے۔ اگر میری مانو تو بلو باربر کے اصل ہیرو تو تمہیں تھے۔کیا عام سے کردار میں تم نے ایک خاص اداکاری دکھائی تھی۔ واقعی شاہ رخ خان نے اس بلو باربر کو اس دن اپنی تقریر میں اتنا یاد نہیں کیا ہوگا جتنا وہ آج کر رہے ہوں گے۔ تمہاری آخری فلم جو میری نظروں سے گزری وہ “انگریزی میڈیم” ہے۔ کسے خبر تھی کہ اب تم اس کے بعد کسی اور نئے کردار میں نظر نہیں آوگے۔ ورنہ بغور دیکھتا۔ روک روک کر دیکھتا۔ ہندوستان کے معمولی علاقے میں زندگی گزارنے والا ایک ” باپ ” اپنی بیٹی کے لیے کیا کیا کر سکتا ہے یہ تم نے اس فلم کے ذریعہ اچھی طرح بتا دیا۔ اور ہاں اس نئی نسل کی اپنے والدین سے بڑھتی دوری کا قصہ بھی بڑے ہی دلچسپ انداز میں بیان کر دیا۔ واقعی تمہاری دوکان کی مٹھائیوں کا برانڈ کوئی دوسرا نہیں لے سکتا۔

تمہارے ساتھ بہت زیادتی ہوگی اگر میں اردو والوں سے تمہارے ایک ایسے کردار کے بارے میں نہ بتاؤں جس کو تم نے اپنی کلاکاری سے از سر نو زندہ کر دیا ۔ ہاں میں بات کر رہا ہوں دکن کے شاعر انقلاب “مخدوم محی الدین” پر بنائی گئی ڈاکیومنٹری کی۔ اب جب کہ میں اس ڈاکیومنٹری کو دیکھ چکا ہوں تو کیسے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے مخدوم کو نہیں دیکھا۔ وہ جلسوں کی تقریریں، وہ گھر والوں سے شفقت، وہ شعر گوئی کا انداز کیا کچھ نہیں دیکھا میں نے۔ ہاں میں نے تو تمہاری شکل میں مخدوم کو دیکھا ہے۔ نصیر الدین شاہ کے ” غالب کردار” سے کچھ کم فنکاری دکھائی ہے کیا تم نے۔اب میں تم سے کیا کہوں اور کیا نہ کہوں۔ دل بہت اداس ہے۔ تم نے جانے میں ذرا عجلت سے کام لیا۔ وہ تمہارے زود رنج و زود پشیماں والی طبیعت یہاں بھی غالب آگئ۔ خیر اب چلے ہی گئے ہو تو خدا تمہاری بہترین ضیافت فرمائے اور تمہارے پہنچنے سے قبل تمہاری مغفرت کا فرمان جارے فرما دے۔لیکن بہر حال ایک شکوہ تو رہے گا ہی

کیا تیرا بگڑ تا جو نہ مرتا کوئی دن اور

فیضان الحق

 ریسرچ اسکالر، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here