شاہین باغ میں راستہ کھولنے کے راستے نکلے ، اس پر سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل دی گئی بات چیت کرنے والوں کی ٹیم بدھ کے روز مظاہرین کے پاس گئی ۔ لیکن مظاہرین ابھی بھی اس پر قائم ہیں کہ جب تک سی اے اے  واپس نہیں ہو گا ، وہ وہاں سے  نہیں ہٹیں  گے۔

شاہین باغ : دہلی کے شاہین باغ میں ، مرکزی حکومت اور مظاہرین کے مابین مفاہمت کی راہ کھل سکتی ہے۔ سینئر ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے اور ایڈوکیٹ سادھنا رام چندرن بدھ کے روز شاہین باغ پہنچے۔ انہوں نے مظاہرین سے مفاہمت کے فارمولے پر بات کی۔ دریں اثنا جب مذاکرات کاروں نے مظاہرین سے پوچھا کہ راستہ کیسے کھولا جائے گا ؟ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) واپس نہیں لیا جاتا تب تک ہم ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ، چاہے کوئی ہم پر فائرنگ ہی کیوں نہ کرے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم پر غدار ہونے کا الزام لگایا جارہا ہے۔ کچھ لوگ ہمیں گولی مارنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم غدار نہیں ، محب وطن ہیں۔ ہم انگریزوں سے لوہا منوا چکے ہیں۔ اسی دوران ، جب مصالحت کار شاہین باغ اسٹیج پر پہنچی تو لوگوں نے تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد ، مصالحت کار وںنے کہا کہ میڈیا کی موجودگی میں ہم مظاہرین سے بات چیت نہیں کرنا چاہتے۔  میڈیا پہلے ہمیں  مظاہرین سے بات کرنے دیں۔ اس کے بعد ہم اس کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کریں گے۔

احتجاج کے مقام پر پہنچنے کے بعد سنجے ہیگڈے نے کہا کہ ہمارے پاس وقت ہے۔ ہم آپ کو سننے آئے ہیں۔ اس مرحلے پر پہنچنے کے بعد سنجے ہیگڈ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی پڑھا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایک کو احتجاج  کرنے کی اجازت ہے ، لیکن کسی کو بھی راستہ روکنے کا حق نہیں ہے۔ سنجے ہیگڑے نے یہ بھی کہا کہ ہم یہاں فیصلہ سنانے نہیں آئے ، بلکہ بات کرنے آئے ہیں۔

احتجاج کرنے والی خاتون سے بات کرنے کے بعد سنجے ہیگڑے نے کہا ، ‘میں آپ کی گفتگو سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ میرے بچے ایک بڑے لا کالج میں پڑھتے ہیں ، لیکن وہ بھی اپنے خیالات کو اتنی اچھی طرح سے پیش کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے نے کہا کہ آزادی ہندوستان کے لوگوں کے دل میں ہے۔ اگر آپ جیسے لوگ آئین کو آگے لے کر چلیں  تو پھر ملک میں آزادی اور آگے بڑھے  گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here