کورونا کی وبا نے دینی شعائر اور معمولات پر عمل میں طرح طرح کی دشواریاں پیدا کر دی ہیں اور ایسے مسائل کھڑے کر دیے ہیں جن کا کوئی معقول حل سجھائی نہیں دیتا۔ اس صورت حال میں طرح طرح کے سوالات پیدا ہو رہے ہیں، جن کے مختلف جوابات دیے جا رہے ہیں۔ چنانچہ عوام کنفیوژن کا شکار ہیں۔ ضرورت ہے کہ نئے پیش آمدہ مسائل کو دین کی بنیادی تعلیمات اور مقاصدِ شریعت کی روشنی میں حل کیا جائے۔
ہر سال قربانی کا زمانہ آنے سے کچھ عرصہ پہلے بعض حضرات کی طرف سے ایسی باتیں کی جاتی ہیں جن سے قربانی کا عمل ہی لایعنی اور بے مصرف ٹھہرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حج کے موقع پر حاجی بڑے پیمانے پر قربانی کرتے ہیں اور عید الاضحٰی کی مناسبت سے غیر حاجی بھی قربانی کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس طرح لاکھوں کی تعداد میں بڑے چھوٹے جانور ذبح کیے جاتے ہیں۔ جانوروں کو ذبح کرنے میں جو بے رحمی اور وحشیانہ پن پایا جاتا ہے اسے نظر انداز کر دیا جائے تو بھی گوشت بہت بڑی مقدار میں ضائع ہوتا ہے اور لذّتِ کام و دہن کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ قربانی میں صرف ہونے والے اربوں روپے رفاہی کاموں میں خرچ کیے جائیں،اسپتال بنائے جائیں اور علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جائیں،اسکول اور کالج کھولے جائیں اوراعلیٰ کورسز میں داخلہ کے لیے معیاری کوچنگ سینٹرز قائم کیے جائیں،تاکہ اس سے ہزاروں لاکھوں غریب انسانوں کا بھلا ہو اوروہ تعلیمی اور معاشی میدانوں میں ترقی کرسکیں؟ اب اسی طرح کے سوالات کورونا اور لاک ڈاؤن کے پس منظر میں کیے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ کئی مہینے کے لاک ڈاؤن نے ملکی معیشت کی کمر توڑ دی ہے۔ لاکھوں انسانوں کے روز گار ختم ہوگئے ہیں اور وہ بھکمری کا شکار ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کی مالی امداد کی جائے اوران کی بنیادی ضروریات پوری کی جائیں۔ کیا امسال قربانی نہ کرکے انسانی بنیاد پر ان غریبوں کی مدد نہیں کی جاسکتی؟

           غریبوں کا تذکرہ اور رفاہی کاموں کی تلقین اس انداز میں کی جاتی ہے کہ لگتا ہے، قربانی کو موقوف کیے بغیر غریبوں کی کچھ بھی امداد نہیں کی جاسکتی، حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ قربانی کرکے بھی غریب انسانوں کی امداد ہوسکتی ہے اور ان کی ضرورتیں پوری  کی جاسکتی ہیں۔ کتنے مال دار اور صاحبِ حیثیت لوگ ہیں جو عید الاضحٰی کے موقع پر قربانی کرتے ہیں اور پورے سال بڑھ چڑھ کر غریبوں کی مدد بھی کرتے ہیں اور کتنے مال دار اور صاحبِ حیثیت لوگ ایسے ہیں جو مال و دولت کی حرص،بخل اور دل کی تنگی کی وجہ سے نہ قربانی کرتے ہیں اور نہ کبھی غریبوں پر پھوٹی کوڑی خرچ کرتے ہیں۔ اس لیے قربانی کی عبادت کو موقوف کرکے غریبوں کی امداد کی بات کرنا دانش مندی نہیں ہے۔

         دینی اعتبار سے دیکھا جائے تو قربانی مسلمانوں کا ایک شعار ہے۔ اس کاثبوت قرآن و سنت سے ملتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ ہجرتِ مدینہ کے بعد دس برس زندہ رہے۔ہر برس آپ ؐ نے پابندی سے قربانی کی۔آپ نے اپنے اصحاب کو بھی اس کا تاکیدی حکم دیا اور قربانی نہ کرنے والوں کی سخت الفاظ میں مذمّت کی۔اس لیے شرعی طور پر قربانی کرنا ہر صاحبِ حیثیت مسلمان کے لیے واجب ہے۔ کوئی عمل قربانی کا بدل نہیں ہوسکتا۔ایامِ قربانی میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک جانور کی قربانی سے زیادہ محبوب اور کوئی عمل نہیں۔ دین میں جس کام کا جیسے حکم دیا گیا ہے اس پر جوں کا توں عمل مطلوب ہے۔کسی اور شکل میں اس کی انجام دہی کی اجازت نہیں ہے۔

          قربانی کے عمل کو موقوف کرنے کی بات کرنا غریبوں کے ساتھ ہم دردی نہیں ہے، بلکہ دیکھا جائے تو یہ غریبوں کے حقوق کی پامالی ہے۔قربانی کے ساتھ ہزاروں غریبوں کا کاروبار وابستہ رہتا ہے۔وہ پورے سال جانوروں کی پرورش کرتے ہیں اور قربانی کے موقع پر اچھے داموں میں انہیں فروخت کرتے ہیں۔ جانوروں کو ذبح کرنے کے لیے قصائیوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں،چنانچہ وہ ذبح کرکے اچھے پیسے کماتے ہیں۔چرم قربانی کی خاصی بڑی مارکیٹ ہے، جسے ایک سازش کے تحت گزشتہ چند برسوں سے ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔خلاصہ یہ کہ قربانی سے ہزاروں غریبوں کو روزگار حاصل ہوتا ہے۔قربانی کو موقوف کرنے کا مشورہ دینا در حقیقت ان غریبوں کو بے روزگار بنانا اور ان کی روزی چھیننا ہے۔

اس صورتِ حال میں قرینِ عقل و انصاف یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صاحبِ حیثیت مسلمان قربانی کرنے کی حتّی الامکان کوشش کریں۔اگر کہیں حکومتی سطح پر پابندی عائد کی جائے تو ان کے سربرآوردہ لوگ اجتماعی طور پر اہل کاروں سے مل کر اور ان کے اشکالات دور کرکے قربانی کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔اگر اس کے باوجود اجازت نہ مل سکے تواپنی قربانی ایسے علاقوں میں کروانے کی کوشش کریں جہاں اس کی اجازت ہو۔ اگر یہ بھی نہ کرسکیں تو بہ درجہئ مجبوری علما نے اجازت دی ہے کہ ایام ِ قربانی گزرنے کے بعد وہ قربانی کے بہ قدر رقم غریبوں میں صدقہ کردیں۔

          بعض حضرات کہتے ہیں کہ کورونا کی شدّت اور خطرناکی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ بہت بڑی تعداد میں لوگ اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس کا مقابلہ صرف یوں ممکن ہے کہ سماجی فاصلہ برقرار رکھا جائے اور صفائی ستھرائی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ جانوروں کی مارکیٹ لگانے کی اجازت دی جائے تو سماجی فاصلہ کے ضابطہ پر عمل ممکن نہیں۔ ذبح کرنے سے قبل انہیں باندھنے رکھنے میں اور ذبح کرنے کے بعد ان کی آلائشیں ٹھکانے لگانے میں بڑی زحمتیں پیش آتی ہیں اور گندگی ہوتی ہے۔ اس لیے کورونا سے تحفظ کے پیش نظر بہتر ہے کہ امسال قربانی نہ کی جائے اور اس کے بہ قدر رقم کا صدقہ کردیا جائے؟یہ مشورہ بھی بہ ظاہر بہت معصوم اورضرر سے بچانے والا معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت کی دنیا سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ کورونا کی موجودگی کے باوجود دنیا کا ہر کام ہو رہا ہے۔مارکٹس کھل رہی ہیں اور خرید و فروخت ہو رہی ہے۔ نکاح کی تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔جنازے اٹھ رہے ہیں اور تجہیز و تکفین کے لیے لوگ جمع ہورہے ہیں۔مذہبی تقریبات کا انعقاد ہو رہا ہے، خاص طور سے ہندو تقریبات میں ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں کی بھیڑ ہوتی ہے۔کورونا کی وجہ سے ان کاموں کو روک دینے کا مشورہ کوئی نہیں دیتا، بلکہ صرف سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔پھرقربانی کے سلسلے میں یہ بات کیوں نہیں کہی جاتی؟ اور اسے یک لخت  موقوف کردینے کا مشورہ کیوں دیا جاتا ہے؟

قربانی کے سلسلے میں ایک رجحان یہ پایا جاتا ہے کہ بعض علاقوں میں صاحبِ حیثیت مسلمان ایک سے زیادہ قربانیاں کرتے ہیں۔عام حالات میں یہ غلط نہیں ہے۔بعض فقہا کے نزدیک ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر،چاہے وہ مرد ہو یا عورت،قربانی واجب ہے۔اس طرح اگر ایک گھر میں تین چار کمانے والے ہوں تو ہر ایک کی طرف سے قربانی ہوتی ہے۔اللہ کے رسول ﷺ سے ایک سے زیادہ قربانی ثابت ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپؐ نے سو اونٹ ذبح کیے تھے۔دیگر برسوں میں آپؐ دو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے۔بعض حضرات اپنی قربانی کے ساتھ اپنے مرحوم رشتے داروں کی طرف سے بھی قربانی کرتے ہیں۔ بعض فقہا نے اسے جائز قرار دیا ہے۔البتہ کورونا کے موجودہ ماحول میں غریبوں کی مالی امداد کے پیش نظرایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ صاحب ِ حیثیت مسلمان صرف واجب قربانی کرنے پر اکتفا کریں، ہر گھر میں صرف ایک قربانی ہو اورنفلی قربانی یا مرحومین کی طرف سے قربانی کرنے کے بجائے اس کی رقم صدقہ کردیں۔ایک گھر میں ایک قربانی کا ثبوت بعض احادیث سے ملتا ہے۔حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے ان کے شاگرد نے دریافت کیا:رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کیسے قربانیاں ہوتی تھیں؟ انھوں نے جواب دیا:”ایک آدمی ایک بکرے کی قربانی کرتا تھا، جو اس کی طرف سے اور اس کے گھر والوں کی طرف سے کفایت کرتی تھی۔لوگ خود کھاتے تھے اور دوسروں کو بھی کھلاتے تھے۔لیکن بعد میں لوگ فخر و مباہات کے لیے زیادہ سے زیادہ قربانیاں کرنے لگے۔“(موطا مالک: 1396، ترمذی:1505،ابن ماجہ:3147)

          بعض حضرات اس خدشہ کا اظہار کر رہے ہیں کہ امسال قربانی کا گوشت تقسیم کرنے میں زحمت ہوگی۔شرپسندوں کی شر انگیزی تو اب معمول کی بات ہوگئی ہے، کورونا کا اندیشہ مزید بڑھ گیا ہے۔ اس بنا پرقربانی کرنے والے گوشت تقسیم کرنے میں دشواری محسوس کریں گے اور اس کا بھی قوی امکان ہے کہ جن لوگوں کو گوشت دیا جائے وہ کورونا سے تحفّظ کے پیش نظر اسے لینے سے انکار کردیں۔ قربانی نہ کرنے سے ان سب مسائل سے چھٹکارا مل جائے گا۔ پھر کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ قربانی کرنے کے بجائے اس کی رقم غریبوں میں صدقہ کردی جائے؟ یہ عذر بھی قربانی کو موقوف کرنے کے لیے وجہ ِ جواز نہیں بن سکتا۔ قربانی کا عمل بذات خود مطلوب و مستحسن ہے، گوشت کھانا اور کھلانا اس کا ثانوی فائدہ ہے۔حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ابتدا میں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کردیا تھا، لیکن بعد میں آپؐ نے اجازت دے دی تھی اور فرمایا تھا:”خود کھاؤ، تقسیم بھی کرو اور ذخیرہ بھی کرو۔“(مسلم:1973) بہتر یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جائیں:ایک حصہ خود استعمال کیا جائے اور دو حصے رشتے داروں، پڑوسیوں، متعلقین اور غریبوں میں تقسیم کردیے جائیں۔اللہ کے رسولﷺ اور صحابہئ کرام سے ایسا کرنا ثابت ہے۔لیکن ایسا کرنا لازمی نہیں ہے کہ اگر اس تناسب سے گوشت تقسیم نہ ہو تو قربانی درست اور عند اللہ مقبول نہ ہو گی۔سہولت سے جتنا گوشت تقسیم ہو جائے،ٹھیک ہے، باقی قربانی کرنے والا خود استعمال کر سکتا ہے۔

         قربانی کو ایک عبادت سمجھ کر انجام دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔کسی معقول عذر کی بنا پر آدمی قربانی نہ کرسکے تو عند اللہ وہ بری الذمہ ہوگا، لیکن موہوم اندیشوں کی بنا پر اس میں لیت و لعل سے کام لینا اور اسے موقوف کرکے رفاہی کاموں کی انجام دہی کا مشورہ دینا درست رویّہ نہیں ہے۔مومن ِ صادق سے مطلوب یہ ہے کہ دین میں جس کام کا بھی حکم دیا گیا ہے اسے جوں کا توں انجام دینے کی کوشش کرے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here