جنت نظیرکشمیر جہاں اپنے حسن کے لئے دنیا میں مشہور ہے وہیں جانوں کی ارزانی بھی اس کا ایک شناخت نامہ ہے اس سے قطع نظر کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ہندستان کا یہ واحد علاقہ ہے جہاں سب سے زیادہ جانوں کا زیاں ہوتا ہے،لوگ گھروں سے کام کے لئے جاتے ہیں اور پھر کبھی پلٹ کر واپس نہیں آتے ،ان کو زمین نگل جاتی ہے یا آسمان؟کوئی نہیں جانتا۔ان کی موت و زیست کا بیانیہ ہندستان کے دوسرے خطوں سے بالکل ہے ۔بوڑھی ماؤں،جوان بہنوں اور چھوٹے بچوں کا ذمہ دار کون ہو گا؟کوئی نہیں جانتا ،بس سب کی زندگی ایک ان دیکھی طاقت کے سہارے گذرتی ہے لیکن جب جمہوریت میں انسانی حرمتیں اور قدریں پامال ہوتی ہیں تو اس کے لئے سب سے پہلے حکومتیں ہی ذمہ دار قرار دی جاتی ہیں،کوئی بھی حکومت یہ کہہ کر خود کو نہیں بچاتی سکتی ہے اور نہ ہی وہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہوسکتی ہے کہ دوسروں کی در اندازی کی وجہ سے ایسا ہورہاہے۔جب کنٹرول حکومت کا ہے تو ذمہ دار بھی وہی ہوگی۔کشمیر کا یہ المیہ ہے وہاں ہونے والی اموات کا ذمہ دار کوئی نہیں ہوتا سوائے مرنے والے کے ۔حکومت اور اس کے ادارے تو بالکل ذمہ دار نہیں ہوتے۔

ترنم ریاض کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی فکشن نگار ہیں جن کے ناول اور افسانوں میں کشمیر کی زمینی حقیقت اور کشمیریوں کا درد ابھر کر سامنے آگیا ہے ۔ان کا ناول ’’برف آشنا پرندے‘‘2009میں شائع ہوا تھا،جس میں انہوں نے اپنے جگرکے پھپھولے کاغذ کے اوراق پر رکھ دیئے ہیں۔ وہ لکھتی ہیں

’’صبح کے وقت گھروں سے اکثر لوگ کچھ ایسے اجازت لے کر کام پرجاتے ہیں گو یا اب کبھی ملاقات نہیں ہو گی،زخمی دلو ں نے حالات کے ساتھ یہ ستم کیش سمجھوتہ کر لیا تھا مگر اس کی قیمتیں نیم جان لیوا تھیں۔کئی لوگ، خصوصی طور پر عورتیں دل کی مریضائیں ہو گیں تھیں،بہت سے نیم دیوانگی سے دو چار تھے۔ بہت کم خوش نصیب ہی ایسے تھے جن کی لاوارث لاش کسی راستے میں پڑی نظر آجاتی جنہیں شکوک کی بنیاد پر گرفتار کر لیاتھا اور پھر وہ لوٹ کر ہی نہیں آئے نہ ان کے بارے میں کو ئی خبر ملی،ان کے والدین کرفیوں میں گھروں کے اندر دروازوںسے لگے سردی سے کانپتے منتظر کھڑے رہتے اور کرفیو نہ ہو تو دیوانوں کی سی حالت میں سڑکوں پر آنسو بہاتے نظر آتے کبھی کسی حاکم کے وعدے پر اعتبار کرے تو کچھ پل جھوٹی تسلی سے بہل جاتے۔پھر رفتہ رفتہ اپنی پہلی حالت پر لوٹ آتے۔ص242

اس اقتباس سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ یہ برف آشنا پرندے کس طرح اپنی زندگی جی رہے ہیں،ترنم ریاض کے اس جملے’’بہت کم خوش نصیب ہی ایسے تھے جن کی لاوارث لاش کسی راستے میں پڑی نظر آجاتی‘‘میں بلا کا درد ہے ترنم ریاض خود برف آشنا ہیں اس لئے انہوں نے اپنے دردکو اس ناول کی صورت میں دنیا کے سامنے رکھا ہے۔

ہندستان کا یہ واحد علاقہ ہے جس کے بارے میں زبان کھولنے سے لوگ ڈرتے ہیں ،جس کے کئی اسباب ہیں۔اول کشمیر پر منصفانہ بات کرنے سے بولنے والے کی حب الوطنی شک کے دائرے میں آجاتی ہے ،جس کی وجہ سے جب اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے دانشور بھی خاموشی اختیار کر لیتے ہیں تو اقلیتی طبقے کی کیا مجا ل؟اس سے تعلق رکھنے والے افراد حکومت کی نظر میں خوشنودی کے لئے اس کے ہر فیصلے پر صاد کرنے کے لئے بیتاب نظر آتے ہیں۔حالانکہ یہ سب کو معلوم ہے کہ اسٹیٹ کی اپنی ضروریات و ترجیحات ہوتی ہیں،اور کبھی کبھی غلطی سے بھی غلطیاں ہو جاتی ہیں لیکن ان امکانی صورتوں پر بھی گفتگو کا کسی میں یارا نہیں ہوتا ہے کیونکہ اس کے بعد زندگی اجیرن ہونے کا خوف رہتا ہے۔اس کے باوجود حقیقتیں ملمع سازی سے بدل نہیں جاتی ہیں۔ہندستان کا کوئی حصہ محض قطعہ اراضی سے اپنی شناخت نہیں رکھتا ہے بلکہ اس علاقے میں رہنے بسنے والوں کی تہذیب و ثقافت اس کا اصل شناخت نامہ ہے ،جس کا تحفظ اسٹیٹ کے ساتھ ہی عوام کا بھی فریضہ ہے۔جو بغیر انسانی اقدار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے ممکن نہیں ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ اس علاقے سے تو محبت ہو لیکن اس کے رہنے بسنے والوں سے کسی قسم کی انسیت اور الفت نہ ہو ۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیر کے عوام کو بھی مرکزی دھارے میں جوڑ ان کو بھی ہندستان  کے جمہوری نظام میں شامل کیا جائے اور ان کی جان و مال کے تحفظ کو بھی وہی اہمیت دی جائے جو دوسرے ہندستانیوں کی ہے۔کہنے کو بلند بانگ دعوے کئے جا سکتے ہیں لیکن جب تک زمینی حقیقتیں تبدیل نہیں ہوتی ہیں اس وقت تک زبانی دعوؤں کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

راجہ ہری ہری سنگھ اور حکومت ہند کے مابین معاہدے سے قطع نظر کشمیر ہندستان کا حصہ ہے (گرچہ ابتدا میں اس کے اصول و شرائط تھے،جن کا اب کوئی مطلب نہیں ہے)۔لیکن کیا ہندستان کے کسی اور حصے میں ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جو کشمیر میں دکھائی دیتے ہیں؟کتنا دلدوز منظر تھا جو دو دن قبل سامنے آیا ۔یہ صرف ایک تصویر نہیں تھی جس سے صرف نظر کیا جا سکے ،یہی کشمیر کا ماضی تھا اور یہی کشمیر کا مستقبل بھی نظر آ رہا ہے ۔حکومت کے اداروں نے تو یہ کہہ کر خود کو الگ کر لیا کہ بشیر احمد کی موت پولیس کی گولی سے نہیں ہوئی بلکہ مجاہدین نے اس کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا ۔اہل خانہ کے الزامات بھی سختی سے مسترد کرد یئے گئے ۔ایسے میں عوام کو حقیقت کا کیسے پتہ چلے گا؟حکومت نے کشمیر میں نئی میڈیا پالیسی کا اعلان کیا ہے،جس کے خلاف کشمیری اخبارات کے مدیران و مالکان نے سخت احتجاج کیا مگر کوئی فرق نہیں پڑا ،جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کشمیر کی خبروں کوبغیر چھانے ہوئے باہر نہیں آنے دینا چاہتی ہے ۔میڈیا جمہوریت کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے ،اگر اسی ستون کو منہدم کردیا جائے گا تو حقیقت اور سچائیوں سے عوام کیسے رو برو ہو پائیں گے۔کشمیر سے جو تصویر سامنے آئی ہے اس کے دو پہلو ہیں ،پہلا ایک دل دوز منظر ہے کہ ایک تین سالہ بچہ خون میں لت پت اپنے دادا کی لاش پر بیٹھا ہوا ہے،یہ منظرایک شقی القلب کی بھی آنکھیں بھگو سکتا ہے اور دوسری تصویرایک فوجی بچے کو گود میں اٹھائے ہوئے ہے جس سے سی آر پی ایف کی تصویر نہ صرف نکھرتی ہے بلکہ اس کا انسانی پہلو سامنے آتا ہے ۔انتظامیہ نیمیڈیا کو جاری بیان میں بھی یہی کہا ہے کہ تین سالہ بچے کو بچایا گیا لیکن حکومت و انتظامیہ کے دعوے کو کیسے درست مان لیا جائے جبکہ مہلوک کے اہل خانہ اسی پر الزامات عائد کر رہے ہیں؟ایسے میں اگر نئی میڈیا پالیسی نہ نا فذ ہوتی تو کچھ امیدیں ہوتی کہ حقائق سامنے آئیں گے لیکن اب اس کی کوئی امید نہیں ہے ۔اس تصویر کے شوسل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد دونوں طرح کی باتیں ہو رہے ہیں ،چونکہ موت ایک عام شہری کی ہوئی ہے اس لئے اس کو حکومت اور مجاہدین کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے انسانی نقطہ نظر سے دیکھا جا نا چاہئے۔میڈیا پالیسی پر سوال کے بعد ایک سوال اور اٹھتا ہے کہ اگر فوج مجاہدین کے خلاف آپریشن کر رہی تھی تو پھر ناکہ بندی کیوں نہیں کی گئی تاکہ عام شہری اس زون میں داخل نہ ہو سکیں؟؟یہ دونوں سوالات بھی ذہن میں رکھ کر میڈیا میں جاری بیان کے دعوے کی صداقت پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

محمد حنیف خان

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here