اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کرونا وائرس کی وجہ سے آج ساری دنیا شدید معاشی بحران کی شکار ہے۔بہت سارے ذرائع معاش بند ہو چکے ہیں اور لوگ گھروں میں نظر بند ہیں۔جس کی وجہ سے فقر و فاقہ کی صورت حال بڑھ رہی ہے۔ایسے میں سماج کے خوشحال طبقہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ضرورت مندوں کی مدد کے لئے آگے بڑھے۔یہ خوش آئند بات ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی بڑی ہستیاں بھیانک مصییت کی اس گھڑی میں باہمی تعاون میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔

حالیہ کرونا وائرس نے جہاں بہت سارے فقہی مسائل  کو جنم دیا ہے،ان میں یہ بھی ہے کہ ابھی جبکہ لوگ گھروں میں محبوس ہیں، کام دھندے بند پڑے ہیں،یومیہ مزدور مفلوک الحالی کے شکار ہیں،اس لیے حکومتی اداروں اور سول سوسائٹی کی پہلی ترجیح ایسے لوگوں کی امداد ہے،تو کیا جن لوگوں کے پاس زکوٰۃ کے شرعی نصاب کے مطابق مال و دولت ہے،وہ وقت مقررہ سے پہلے اپنی زکوٰۃ ادا کرسکتے ہیں؟اور  وقت مقررہ سے کتنے دن پہلے تک زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟

اکثر اہل علم نے قبل از وقت زکاۃ کی ادائیگی جائز قرار دی ہے بشرطیکہ مال نصاب کے مطابق ہو اور جلد بازی کے پیچھے کوئی خاص مقصد اور ضرورت کار فرما ہو۔ اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ کرونا کی وجہ سے لوگوں کو بھیانک معاشی خسارے کا سامنا ہے۔ حکومتی اقدامات اور پابندیوں  کی وجہ سے ذریعہ آمدنی بڑی حد تک بند ہے اچانک سے بے شمار افراد فقرو فاقہ کی زد میں آگئے ہیں اور ایسے افراد کی مدد کرنا سماج کی ذمہ داری ہے جو زکاۃ کا عین مقصد ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبل از وقت زکاۃ کی ادائیگی کی رخصت دی ہے۔ علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب سے فرمایا : ہم نے عباس بن مطلب سے پورے سال کی زکاۃ سال کے آغاز میں ہی لے لی ہے۔( رواہ الترمذی وحسنہ البانی) امام ترمذی کہتے ہیں :”اس حدیث کی بنا پر اکثر اہل علم کی رائے یہ ہیکہ مقررہ وقت سے پہلے زکاۃ نکالنی کسی شرعی مصلحت کے پیش نظر جائز ہے” ۔

البتہ دیگر مسائل کی طرح فقہاء کے مابین اس بارے میں اختلاف ہیکہ زکوۃ کی ادائیگی کے متعینہ وقت سے کتنی مدت قبل زکوۃ نکالی جاسکتی ہے۔مالکی مسلک میں ایک ماہ قبل، شافعیہ کے ہاں ایک سال پہلے اور فقہ حنفی کے مطابق دو سال پہلے بھی زکوۃ دی جاسکتی ہے۔ احناف کے بقول پیشگی طور پر کئی سال پہلے ادا کی جاسکتی ہے ۔دراصل ایک ماہ قبل سے لیکر کئی سال قبل تک کی یہ مختلف مدتیں پیش آمدہ مسئلہ کی ضرورت کے اعتبار ہے۔ اور یہی نرمی اور لچک فقہ اسلامی کا طرہ امتیاز اور خوبصورتی ہے ۔ یہاں الگ الگ آراء اور اجتہادات کی پوری گنجائش ہے ۔اس لئے جن لوگوں کا مال زکوۃ کے نصاب کو پورا کرتا ہو انہیں چاہئے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا شدہ معاشی بحران میں اپنے ضرورت مند بھائیوں کی مدد کیلئے آگے بڑھ کر مدد کریں۔اور جن کا مال نصاب زکوۃ سے کم ہو وہ اپنی بساط بھر اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here