کروناوائرس کے  متعلق پریشان کن خبریں لگاتار جاری ہیں ، جس کی وجہ  سے بعض حضرات مایوسی  اورشکستہ دلی کے  شکار ہورہے ہیں لیکن اب ہم آپ کو کرونا وائرس کے متعلق کچھ اچھی خبریں بتانے جا رہے ہیں۔

 تاہم ان اچھی خبروں کے بارے میں بات شروع کرنے سے پہلے ، ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں  کہ ہماری گفتگو کا قطعاً یہ مقصد نہیں کہ بیماری کی سنگینی کو کم کیاجاءے، یا اپنے ملک میں حکام کی طرف سے عائد کردہ حفاظتی تدابیر، قرنطین یا تنہائی کے اقدامات پر عمل سے غفلت اور لاپرواہی برتی جائے  ، اور  اس کی روک تھام اور ذاتی حفظان صحت سے متعلق ہدایات پر عمل  سے گریز کیا جائے۔

نمبر 1۔ یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس میں مبتلا 99٪ افراد صحت یاب ہوجائیں گے ، اور کچھ متاثرین  میں کرونا وائرس کی علامات بھی نشوونما  نہیں کریں گے۔

نمبر2۔ ہزاروں افراد کی اموات کے باوجود ، موت کی کل شرح تقریبا 1٪ یا اس سے بھی کم ہے ، جو  “سارس” کے مریضوں کی موت کی شرح سے بہت کم ہے جو 11٪ تھی یا ایبولا جس سے مرنے والوں کی شرح 90٪ تھی۔

 نمبر 4۔ اگرچہ اموات کی شرح ایک زمرے سے دوسرے زمرے میں مختلف ہے ، لیکن مجموعی شرح تقریبا  1٪ ہے۔  مثال کے طور پر ، ہسپانوی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ، 70 سے 79 سال کی عمر کے درمیان  کےکورونا مریضوں میں مرنے کی شرح 5٪ ہے ، اور یہ کم ہو کر ساٹھ سے انہترسال کی عمر کے لوگوں میں 2.16٪ اور چالیس کی دہائی میں صرف 0.3 فیصد ۔

نمبر 5۔ ایسا لگتا ہے کہ بچے  اس بیماری سےکم متاثر اور کم بیمار ہوتے ہیں۔

نمبر 6۔ پوری دنیا اس صورتحال کی سنگینی سے پوری طرح واقف ہے اور اسی وجہ سے ممالک اور حکومتیں اس کے خلاف جنگ کے لئے سنجیدگی اور عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔

نمبر 7۔ سائنس دانوں نے پتہ لگالیا ہے کہ کس طرح کورونا وائرس انسانی خلیوں کو متاثر کرتا ہے ، اس تحقیق سے علاج کی تلاش میں بہت مدد ملے گی۔

نمبر 8۔ دنیا کے ممالک کرونا وائرس کے لئے ایک ویکسین تک پہنچنے کے لئے تگ ودو کررہے ہیں ،  عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ، ٹائڈروس اذانم گبریسوس نے گذشتہ بدھ کوکرونا وائرس کے ممکنہ علاج اور ادویات کی تلاش کیلئے ایک متحدہ تجربہ کا اعلان کیا ۔

نمبر 9۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں محقق آرٹورو کاساڈیول کے مطابق ، اینٹی باڈیز کورونا وائرس کے مریضوں سے لی جاسکتی ہیں اور متاثرین  کی حفاظت کے لئے استعمال کی جا سکتی ہیں۔

آسٹریلیائی محققین کورونا وائرس کی دو دوائوں پر کام کر رہے ہیں۔  ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ پتہ لگالیاہے کہ کس طرح جسم کا مدافعتی نظام کورونا وائرس سے لڑتا ہے۔  یہ تحقیق نیچر میڈیسن جریدے میں شائع ہوئی ہے۔چین میں اس بیماری پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔

نمبر 10۔ جرمنی کی کمپنی کورواک کے سربراہ فرانز فرنر ہسی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ دسیوں ہزار افراد اگلی موسم خزاں میں یہ ویکسین لے سکتے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ “کمپنی کے سائنسدانوں کی پیش رفت کے بعد ، اس ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز اگلے موسم گرما میں شروع کیے جائیں گے۔”

 ہاس نے مزید کہا ، “اگر حکام راضی ہوگئے تو ہم پیداواری عمل شروع کردیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کمپنی میں ایک سال میں کورونا وائرس کے لئے دو سو ملین سے چار سو ملین خوراک کی ویکسین کی پیداواری صلاحیت موجود ہے۔

نمبر 11۔ چین کورونا وائرس کے خلاف پانچ مختلف ویکسین اختیارات کی جانچ کر رہا ہے ، اور اس کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اپریل تک ویکسین تیار ہوسکتی ہے۔

تحریر: اسدالرحمن تیمی

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here