ان تاریخی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے محمت بوزدک نے تخیل کی مدد سے واقعات تخلیق کئے ہیں ۔ تیر اندازی ، تلوار بازی ، نیزہ زنی کے تخیلی اور کرشماتی طریقوں کی آمیزش  سے سیریل کو حیرت انگیز اور دلچسپ بنایا گیا ہے ۔

قیام نو ارطغرل ” (ط اور ر پر پیش اور غین کو تلفظ میں ظاہر نہیں کیا جاتا )  تاریخ نہیں فکشن ہے جو تاریخ سے تحریک پاکر تالیف کیا گیا ہے ۔ اس میں شامل کئے گئے  متعدد کردار ، آشخاص کے نام ، مقمات ، ریاستیں اور تنظمیں بھی اپنا تاریخی وجود رکھتی ہیں ۔قبائلی زندگی کی  تصویر( طرز معاشرت، لباس ، آپسی تعلقات ، جرگہ وغیرہ ) بھی حقیقت سے مماثلت رکھتی ہے ۔  سلیمان شاہ ، ارطغرل،  دوندار، حلیمہ، ہائمہ،  عثمان،اور اس کے بھائی  ، ترگت الپ ، بامسی ، آرتک بے ، سلجوقیان روم کی سلطنت، سلطان علاء الدین کیقباد، قلج ارسلان، سلطان غیاث الدین کیخسرو، عز الدین کیکاؤس، سعد الدین کوپیک، حشمت الدین کاراجہ برکے خاں ۔مملوک سلطان بیبرس، اوکتائی خان، ہلاکو خاں، بیجو نویان ، اریک بوقا، امیر حلب العزیز محمد، شہاب الدین،محی الدین ابن العربی، صدرالدین قونوی، جلال الدین رومی ،صلیبی نائٹس ٹیمپلر، سفید داڑھی والے، قراجہ حصار کا قلعہ ،اناطولیہ ،سوغوت اور بازنطینی سلطنت وغیرہ تاریخ سے ہی ماخوذ ہیں ۔

ترک قبائل کا تصوف سے متاثر ہونا اور مختلف صوفیاء سے کسب فیض کرنا بھی ایک تاریخی حقیقت ہے ۔ اسے اس ٹی وی سیریز میں دکھانے کی نہ صرف کوشش کی گئی ہے بلکہ کچھ اس طرح پیش کیا گیا یے جیسے واقعی صوفیاء  غیب کی سلطنت میں کچھ رسائی رکھتے ہوں ۔

ٹھیک اسی طرح منگولوں کے مذہب ٹینگری ازم اور ان کے کچھ عقائد  کو بھی نمایاں کیا گیا ہے ۔ مثلا روحوں سے رابطہ رکھنے اور ان کے ذریعہ غیب جاننے کی صلاحیت رکھنے والے شمن کا عقیدہ  وغیرہ ۔

۔ 1916 تک مورخین اس بات پر اتفاق رکھتے تھے کہ یہ قبیلہ سلیمان شاہ کے دور سے ہی مسلمان تھا بلکہ شاید وسط ایشیا سے اناطولیہ منتقل ہونے سے قبل ہی اسلام کی آغوش میں آچکا تھا یہی ترک روایتوں میں بھی معروف ہے ۔ لیکن اس کے بعد کے مغربی محققین نے اس پر کچھ شبہات پیش کئے ہیں اور ان کی تحقیق کا رجحان یہ ہے کہ عثمان (جس کا نام ان کے مطابق شاید عثمان کے بجائے آتمان تھا ) اور اس کے قبیلہ نے شیخ ایدیبالی کے ہاتھوں اسلام قبول کیا تھا ۔ اس سے پہلے تک یہ لوگ بت پرست تھے  ۔ لیکن ان محقیقین نے بھی تسلیم کیا یے کہ ارطغرل کے باپ کا نام سلیمان شاہ تھا( آثار بھی یہی بتاتے ہیں ۔ ایک سکہ ایسا بھی دریافت ہوا ہے جس میں سلیمان شاہ کے بجائے ارطغرل بن گندوز الپ لکھا ہوا ہے لیکن وہ سکہ خود مستند نہیں ہے )  جس کی موت دریائے فرات میں ڈوبنے سے ہوئی تھی ۔ سلیمان شاہ کا نام ہی یہ ثابت کرتا ہے کہ اوغوز ترکوں کی شاخ قائی سے موسوم  یہ قبیلہ پہلے  ہی اسلام قبول کرچکا تھا ۔ ترکوں کے یہاں  سلیمان شاہ کے سلجوق افواج میں خدمت انجام دینے کی روایت بھی  ملتی ہے ۔

تاریخ سے یہ بات ثابت یے کہ قائی قبیلہ کے جنگجوؤں نے منگولوں کے خلاف ایک جنگ میں سلجوقیوں کی مدد کی تھی جس کے انعام کے طور پر  انھیں سغوت اور آس پاس کی زمین بطور جاگیر عطا کی گئی تھی ۔ اور اس کے بعد وہ قبیلہ نہ صرف یہ کہ سلجوقیان روم کے  قریبی رابطہ میں رہا ہے بلکہ فوجی خدمات انجام دینے کے علاوہ سرحد پر بازنطینیوں کے خلاف بفر زون بھی بنارہا ہے ۔ منگولوں  بازنطینیوں اور صلیبیوں کی خفیہ تنظیم نائٹس ٹمپلر کے چھوٹے چھوٹے دستوں سے ان کی جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں ۔

ان تاریخی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے محمت بوزدک نے تخیل کی مدد سے واقعات تخلیق کئے ہیں ۔ تیر اندازی ، تلوار بازی ، نیزہ زنی کے تخیلی اور کرشماتی طریقوں کی آمیزش  سے سیریل کو حیرت انگیز اور دلچسپ بنایا گیا ہے ۔

رومانوی داستانوں کے بغیر ڈرامے تخلیق ہی نہیں کئے جا سکتے اس لئے اس میں محبت کی دلفریب  داستانوں کو بھی نہایت کامیابی کے ساتھ پرویا گیا ہے ۔

خفیہ تنظیموں، جاسوسوں اور منافقوں کی اندرون خانہ سازشوں کی روداد ہی اس فکشن کا ناظرین کو باندھےرکھنے کا سب سے مضبوط عنصر ہے ۔ اس روداد کے تخیل کے پیچھے کوئی مستند ت تفصیلات نہیں ہیں لیکن قبائل میں سرداری کے لئے جوڑ توڑ ، صلیبیوں اور منگولوں کےساتھ مل کر سازش ایک ایسی حقیقت یے جو اس دور میں یقینا موجود تھی ۔ گو اس کی تفصیلات نہیں ملتی ہیں ۔

سعد الدین کوپیک کا کردار ایک تاریخی کردار ہے ۔ اسے سلطان علاء الدین کی اچانک موت کا ذمہ دار ٹھہرایا بھی جاتا یے ۔ شہزاہ قلج ارسلان اور اسکے بھائی کو کمان کی تار سے گلا کاٹ کر قتل کردینے کا قصور بھی تاریخ میں اس کے نام درج ہے ۔ وہ خود کو شاہی خاندان کا فرد ثابت کرنے کے لئے سلطان کا بیٹا ہونے کا دعوی کرتا تھا تاکہ سلطنت کا استحقاق ثابت کرسکے ۔ دربار میں اس کے بڑھتے اثر و رسوخ سے پریشان ہوکر  سلطان کی ایماء پر حشمت الدین کاراجا نے اسے قتل کردیا تھا  ۔ لیکن منگولوں کے ساتھ اس کی گٹھ جوڑ ، ترک قبائل کے امور میں دخل اندازی اور صلیبیوں سے اس کی خفیہ ساز باز یہ صرف کہانی نویس  کے قیاس اور تخیل کا نتیجہ ہے ۔

اپنے ہیرو کو سپر مین کا روپ دینے کے لئے تخلیق کار نے ہرجگہ ارطغرل کی موجودگی اور ہر واقعہ میں اس کی سرگرم شرکت کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے ۔ چاہے وہ قونیہ کے دربار کی سازشوں  کی روک تھام کا معاملہ ہو یا سعد الدین کوپیک کے قتل یا پھر برکے خان سے منگولوں کے خلاف اتحاد قائم کرنے کی مشاورت کا ۔ حالانکہ یہ سب صرف اور صرف تاریخی ملاوٹ ہے ۔

چنگیز خان کا پوتا برکے خان گولڈن ہارڈ اور بلیو ہارڈ پر حکمرانی کرنے والا وہ منگول لیڈر ہے جس نے اسلام قبول کرنے کے بعد منگول آندھی کو روکنے کی کامیاب کوشش کی تھی۔ اسی کی وجہ سے ہی بیبرس اور سیف الدین قطز معرکہ عین جالوت میں منگولوں کو شکست دے سکے تھے ۔ اور اسی کی بدولت منگولوں میں خانہ جنگی اور تقسیم کو فروغ ملا تھا  اور اسی کی بدولت دمشق، فلسطین اور قاہرہ وغیرہ کو وہ انجام نہیں دیکھنا پڑا جو بغداد کا ہوا تھا ۔ لیکن ارطغرل سے اس کے کسی قسم کے تعلقات کا ثبوت  نہیں ملتا ہے ۔

سفید داڑھی والوں کی خفیہ تنظیم جس کے بارے میں دعوی کیا جاتا یے کہ وہ آج بھی موجود یے ۔ارطغرل کو اس کا ممبر بناکر داستان کو پراسرار بنایا گیا ہے ۔ 

اس سیریل کی سب سے کرشماتی چیز ہے آرتوک بے کی طب ۔ ہر زخم کا علاج ، اور ہر زہر کا تریاق۔ جو ان کے مطب میں پہنچ گیا وہ زندہ ہوگیا ۔ کاش سلطان علاء الدین کیقباد کو بچانے جب ارطغرل گیا تھا تو آرتوک بے کو ساتھ لے گیا ہوتا ۔اور جو کام  ان سے نہ ہوسکا وہ ابن عربی نے کردیا ۔ بلکہ ابن عربی تو پر اس موقع ہر آدھمکتے جہاں معاملات غیبی قوت کے بغیر سنبھالے نہیں جا سکتے تھے ۔ آرتوک بے ایک سلجوقی کمانڈر تھے الپ ارسلان کی فوج میں ۔ ان کا زمانہ اور ارطغرل کا زمانہ سے قبل کا ہے  ۔

یہ سیریل مسلمانوں کے عروج کی داستان یے  ۔ جوش وجذبے سے بھر پور ۔ آج کے نوجوانوں کی  پدرم سلطان بود کی نفسیات کے لئے بھر پور غذا ۔  سنہرے ماضی کا بیان بجائے خود دلچسپ ہوتا ہے اس پر مستزاد بہترین اداکاری عمدہ پلاٹ اور سحر انگیز قدرتی مناظر نے تو ناظرین کا  نشہ دوآتشہ کردیا ہے ۔

جابجا قرانی آیات ، قیمتی مواعظ، اسلامی تعلیمات کا ذکر، اسلامی اخلاق و آداب،  جواں مردی و شجاعت کے مظاہر، عدالت وانصاف کے نمونے اور  اقوال زرین وغیرہ  نے چار چاند لگا دیا ہے ۔ سیکھنے کے لئے بہت کچھ فراہم کردیا گیا ہے  ۔

خوابوں اور  تصوف کے فرضی کرشموں ، اور ترک قومیت کے من جانب اللہ منتخب  ومامورہونے کے خیال نے ذہنی گمراہی کا بھی وافر سامان بہم پہنچارکھا ہے ۔

سیریل مۓن بعض تاریخی حقائق جو تاریخ میں نمایاں طور پر درج ہیں انھیں بھی مجبوری میں تبدیل کرنا پڑا ہے مثلا حلیمہ سلطان اور ارطغرل کا سن وفات ایک ہی ہے لیکن اسرا بلجک سے معاہدہ برقرار نہ رہنے کی وجہ سے اسے پہلے ہی مارنا پڑا ۔

سنہرا ماضی دکھا کر قوم پرستی  اور کرشماتی لیڈر کی تلاش کا جذبہ پیدا کر ( ہٹلر اور مسلوینی کی طرح ) سیاسی استعمال کو بھی یکسر خارج کیا جانا ممکن نہیں ہے ۔

تحریر :  ڈاکٹر نفیس اختر ۔ کانپور

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here