ہر ملک میں موجود سیاسی پارٹیوں کے کچھ نظریات ہوتے ہیں جن کے مطابق وہ قانون بناتی ہیں، یہ نظریات کئی طرح کے ہوسکتے ہیں مثلا معاشی، علاقائی، تاریخی ،روایتی، تجدد پسند اور سخت گیر،آخری الذکر دونوں نظریات کے تصادم سے سب سے زیادہ ذہنی اور طویل مدتی طور پر عوام متاثر ہوتے ہیں. چونکہ اول الذکر کا تعلق حال اورمستقبل سے ہوتاہےجبکہ ثانی الذکر کا ماضی سے، ایسے میں صرف دو نظریات میں تصادم نہیں ہوتا بلکہ حقیقت میں وہ زمانوں ٹکراؤ ہوتا ہے۔

اس وقت ہندستان ایسی ہی نظریاتی کشمکش کا شکار ہے، پارلیمنٹ کے ایک سخت نظریاتی فیصلے نے ملک کے ماحول کو متاثر کرکے رکھ دیا ہے. جس دن سے پارلیمنٹ میں شہریت ترمیمی بل منظور ہوا ہے اسی دن سے پورے ملک میں عوام سڑکوں پر آگیے اور وہ مسلسل پولیس کی ظلم و بربریت کا شکار ہیں، تشدد کا صرف ایک پہلو نہیں ہے جس سے پولیس کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اس کے دونوں پہلو ہیں لیکن چونکہ پولیس عوام کی محافظ ہوتی ہے اس لیے اس پر ذمہ داریاں زیادہ عائد ہوتی ہیں، اب اگر پولیس مظاہروں کو روکنے کے لیے عوامی تکالیف کے بہانے تراش کر ظلم و بربریت پر اتر آئے تو ایسی صورت میں اس کو ہی کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا، پولیس کے خلاف اتنے معاملات اور رپورٹ کے سامنے آنےکے باوجود ابھی تک کوئی جانچ اور کارروائی تو دور کی بات ایسے لوگوں کو حکومت تحفظ دیتی ہوئی نظر آئی ہے جنہوں نے آئین کے خلاف کام کیاہے اور اس کے ایسے ثبوت بھی ہیں جن کا کوئی انکار نہیں کرسکتا، یہاں تک کہ خود متعلقہ افسر نے اس بات کو قبول کیا کہ ہاں اس نے ایسا کیا ہے مثلا میرٹھ کے پولیس سربراہ کا مسلمانوں کو دھمکی اور پاکستان جانے کی بات کہنا، یوپی حکومت اس کے بچاؤ میں پوری طرح سے اتر آئی۔

شہریت ترمیمی بل آزاد ہندستان کا پہلا ایسا بل ہے جس کے خلاف اس طرح سے پورے ملک کے طول و عرض میں مظاہرے ہوئے اور پچیس سے زائد جانیں گئیں جن میں زیادہ تر پولیس کی گولی سے گئیں، اس کے باوجود پولیس نہ صرف اپنا وہی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے بلکہ اب وزیر اعظم بھی میدان میں آگیے ہیں. وہ عوام سے اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس بل کے حق میں آن لائن اور زمینی سطح پر مہم چلائیں، یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اب اس ملک میں پارلیمنٹ کی قدر اتنی رہ گئی ہے کہ دونوں ایوان سے پاس قانون کے نفاذ کے لیے وزیر اعظم عوامی تحریک چلائیں. کم ازکم وزیر اعظم سے تو ایسی امید نہیں تھی، جب انہوں نے اس قانون کو منظور کرایا تو اس کے نفاذ کے لیے عوامی مہم کی کیوں ضرورت پڑی؟ اس سوال کے وہ کئی جواب دے سکتے ہیں لیکن شاید وہ اس کے مضرات اور عواقب سے واقف نہیں اور اگر واقف ہیں تو اغماص سے کام لے رہے ہیں جو پارلیمنٹ کی توہین ہے. وزیر اعظم کی اس طرح کی اپیل ملک کے عوام کو باہم دست و گریباں کرسکتی ہے، بھاجپا کا دعوی ہے کہ وہ ممبران کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہے، ایسے میں ان کی اپیل پر ہزاروں اور لاکھوں ممبران سڑکوں پر آسکتے ہیں اور ان اس کے مخالفین سے برسرپیکار ہوسکتے ہیں حالانکہ پارٹی ورکر کبھی بھی جانبدار نہیں ہوسکتاہے وہ تو پارٹی لائن اور نظریات کی بنیاد پر کام کرتاہے تو کیا یہ سمجھا جائے کہ وزیر اعظم پولیس فورس کے بعد اب پارٹی ممبران کے ذریعہ مخالفت کی اس آواز کو دبانا چاہتے ہیں؟ کیا ان کو اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ یہ ایسی تحریک ہے جو پیچیس سے زائد شہادت، ہزاروں زخمیوں اور گرفتاریوں کے باوجود وہ اور ان کی انتظامیہ اسے ختم کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے؟ کیا اب وہ یہ جنگ پارلیمنٹ کے بعد سڑکوں پر شروع کرنے کا منصوبہ بنا چکے ہیں؟ حالانکہ آخری سوال برائے سوال ہی ہے ورنہ ان کی اپیل کے بعد ان کا منصوبہ طشت ازبام ہو چکاہےاور دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایک بڑی جمہوریت کا سربراہ پارلیمنٹ میں جیت کر اب سڑک پر جنگ لڑ رہاہے، جس کا خمیازہ عوام اور ملک کو ہی بھگتنا ہوگا۔.

وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت اتنی مخالفت کے باوجود آخر اپنے فیصلے کو غلط ماننے کے لیے تیار کیوں نہیں ہورہی ہے؟ ملک میں اتنی نفرت اور دہشت کے بعد بھی لوگ اس کی مخالفت کیوں نہیں ترک کر رہے ہیں؟ یہ وہ دو سوال ہیں جس پر مسلسل غور کر رہا ہوں اور قارئین سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ وہ غور و خوض کریں، اب تک میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ فریقین یعنی حکومت اور اس بل کے مخالف عوام کے مابین نظریاتی طور پر بُعد المشرقین ہے، ایک ندی کے اس کنارے کھڑا یے اور دوسرا ندی کے اُس کنارے کھڑا ہے، دونوں اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اس لیے ہاتھ نہیں ملا رہے ہیں، ایک طرف نظریہ ہے اور دوسری طرف وجود اور آئین کی روح. حکومت اس بل کے ذریعہ ہندو راشٹر کی راہ ہموار کرنے کی کوشش میں ہے جو اس کی سیاسی فکر کی بنیاد ہے جس سے وہ ذرا بھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہتیی.حکومت مذہبی بنیاد پر خلیج پیدا کرنا چاہتی ہے، وہ اس کو قانونی حیثیت دے چکی ہے جس سےملک کے مذہبی اور سماجی تنوع کو خطرہ لاحق ہوگیاہے، عوام اس خطرے سے ملک کوبچانا چاہتے ہیں اسی لیے وہ میدان میں ہیں، جبکہ حکومت چلانے والے نظریاتی اسیر بھی اس بات سے واقف ہیں کہ دھیرے دھیرے ان کے ہاتھ سے ایک کے بعد ایک ریاستیں پھسلتی جا رہی ہیں ایسے میں شاید ان کو دوبارہ یہ پوزیشن پارلیمنٹ میں نہ مل سکے، اس لیے وہ نظریاتی سطح پر اپنا پودا لگاکر ہی جانا چاہتے ہیں تاکہ ان کو وہ خواب پورا کرنے میں کامیابی مل سکے جسے دو قومی نظریہ ساز ساورکر نے دیکھا تھا کہ ہندستان صرف ہندوؤں کا ہے، یہاں مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اسی لیے آر ایس ایس تین محاذ پر کام کر رہی ہے ایک تو سیاسی سطح پر وہ ایسے قوانین وضع کرا رہی ہے جس سے اس کے نظریات زمینی شکل اختیار کر سکیں اور دوسرے وہ پورے سماج میں اپنا نظریہ پھیلا کر عوام کو اپنا ہمنوا بنا سکے یا کم از کم ان کے ذہنوں میں ایسے بیج ڈال سکے جو مستقبل میں اس کی اس راہ کو آسان کردیں. حیدرآباد میں جو بیان موہن بھاگوت نے دیا کہ جو بھی ہندوستانی روایات کا امین ہے وہ ہندو ہےاسی کا غماز ہے. وہ ملک کے تنوع کو ختم کرکے اس کو بھی مذہبی اسٹیٹ بناناچاہتے ہیں جو آئین کی روح کے منافی ہے. تیسرے شہریت ترمیمی بل کے خلاف اب آر ایس میدان میں آچکی ہے، اس نے مغربی اترپردیش کے مرکزی دفتر میں میٹنگ کرکے نہ صرف اپنے ارادے ظاہر کردیئے ہیں بلکہ یہ عندیہ بھی دے دیا ہے کہ پولیس فورس کے بعد اب آرایس ایس کے کارکن سڑکوں پر اتر کر دہشت پھیلائیں گے، ان کو معلوم ہے کہ اس کی سیاسی ونگ کی حکومت میں پولیس میں ہمت نہیں کہ وہ اس کے کارکنان کی طرف ٹیڑھی نگاہ سے بھی دیکھ سکے، تبھی تو کھلے عام نعرے بازی ہوتی “دیش کے غداروں کو گولی مارو…..” یہ گولی مارنے کی بات ایسے ہی نہیں کی جا رہی ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک میکانزم اور گٹھ جوڑ ہے.آر ایس ایس نے مرکزی و ریاستی وزراء کے ساتھ ہی اب بھاجپا کے ممبران پارلیمنٹ و اسمبلی کو پلان چارٹ دے دیا ہے کہ اس کو کس طرح کام کرنا ہے، ان کا یہ کام مخالفین کو سمجھانے اور ان کے غم و غصے کو کم کرنے کے بجائے حامیوں کی فوج تیار کرنے والا ہوگا تاکہ وزیر اعظم کی اپیل کا اثر بھی وہ سڑکوں پر دکھا سکیں، اسی لیے ریلیوں اور جلوس کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

حکومت، بھاجپا اور آر ایس ایس کے منصوبوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ شہریت ترمیمی بل کے خلاف عوام کی یہ جنگ طویل سے طویل تر ہوسکتی ہے، اس جنگ میں کسی کو بھی جیت اب عام مظاہروں کی طرح اس کے فور بعد نہیں ملنے والی ہے، حکومت کو بھی اندازہ ہوگی ہے کہ مخالفت کی آگ جلد بجھنے والی نہیں ہے. قرآن کی آیت ہے جس کا مفہوم کہ”وہ منصوبے بناتے ہیں، اللہ بھی منصوبے بناتاہے اور اللہ زیادہ بہتر منصوبے بنانے والاہے” ہمیں آیت پر کامل یقین رکھتے ہوئےعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ نگر اور شاہین باغ میں ہونے والےمظاہروں کی طرح تشدد سے پاک مظاہروں کا اہتمام کرنا چاہیے، کوئی بھی ایسا موقع پولیس اور انتظامیہ کو نہ دیں جس کا بہانہ بناکر وہ اس تحریک کو توڑنے کے اپنے منصوبے میں وہ کامیاب ہوسکے۔

تشدد سے پاک مظاہروں کے نقصانات کم اور فوائد زیادہ ہیں، اس کا نقصان یہ ہے کہ جمہوری نظام میں آئینہ دکھانے والا اور عوام و حکومت کے مابین پل کا کام کرنے والا میڈیا اب اس جانب توجہ نہیں دیتا، اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس مظاہرے میں تو کوئی ندرت نہیں لیکن جیسے ہی مظاہرہ تشدد میں تبدیل ہوتاہے خواہ وہ کسی بھی طرف سے ہو فورا میڈیا کوریج شروع ہوجاتی ہے جس سے ملک و بیرون ملک ایک فضا بننے لگتی ہے یہ منفی بھی ہوسکتی ہے اور مثبت بھی. تشدد سے پاک مظاہروں کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے پبلک پراپرٹی کو نقصان اور جانوں کا ضیاع نہیں ہوتا اور لوگ زخمی نہیں ہوتے. ملک پر امن رہتاہے اور احتجاج جاری رہتاہے. کہتے ہیں خاموشی کی ضرب بہت کاری ہوتی ہے تو اس طرح کے مظاہرے خاموشی، عزم و حزم کی علامت ہوتے ہیں جن کوتوڑنا حکومتوں کے لیے بھی آسان نہیں ہوتاہے اور طویل جد وجہد میں تشدد سے کامیابی نہیں مل سکتی ہے کیونکہ تشدد وقتی ہوتاہے اس میں ٹھہراؤ نہیں ہوتا جبکہ عدم تشدد اس کے برعکس دیر پااور اس کے نتائج مثبت و معنی خیز ہوتے ہیں گاندھی جی کی تحریکات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔

تحریر: محمد حنیف خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here