ہندستان اور نیپال کے رشتوں کی قدامت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 500؁ قبل مسیح گوتم بودھ کے والد راجہ سدھون کی حکومت نیپال کے ترائی تک قائم تھی۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان دونوں کے درمیا ن کوئی سرحد  نہیں تھی بلکہ دونوں ایک ہی تھے۔مرور زمانہ کے ساتھ سرحد کی ایک لکیر کھینچ کر دونوں کو خواہ الگ کر دیا گیا ہو لیکن تب سے لے کر آج تک روٹی اور بیٹی کا رشتہ ختم نہیں ہوا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ دشمن اور دوست تو تبدیل کئے جاسکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں بدلا جا سکتا ہے۔آج ان دونوں ممالک کے درمیان سرحد کی لکیر سے بھی بڑی ایک غیر مرئی لکیر کھنچتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔جب بھی دو بھائیوں اور دو دوستوں میں دراڑ پیدا ہوتی ہے تو عقلمند انسان سب سے پہلے کسی ایسے تیسرے شخص کی موجودگی کی تلاش کرتاہے جو ان دونوں کے درمیان دیوار اٹھانے کی کوشش کر رہا ہو۔لیکن نیپال و ہند کے مابین کسی کو بھی تیسرے کیتلاش   کی ضرورت نہیں ہے، وہ سب کے سامنے ہے اور دونوں بھائی اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔بس فرق اتنا ہے کہ ایک کو نظر آ رہا ہے کہ اگر میرا بھائی مجھ سے دور ہوا تو چند دنوں میں یہ تیسرا شخص اس کے وجود کو نگل جائے گا،اس لئے وہ پریشان ہے،اس کو دکھ وقتی لڑائی کا نہیں ہے کیونکہ معلوم ہے کہ جب دو برتن ایک ساتھ ہوتے ہیں تو کھٹ پٹ کی آواز لازمی ہے،اور یہاں تو دو ملکوں کا معاملہ ہے،اس کوپریشانی اس بات کی ہے کہ چھوٹے بھائی کو جو آج ہرا ہرا دکھائی دے رہا ہے کل اس کے پاس سیاہ دیکھنے کے لئے بھی آنکھیں نہیں ہوں گی۔اس میں اس وقت طمطراق اس لئے   ہے کیونکہ اس کو اپنی قوت بازو کے بجائے اس تیسرے کی قوت بازو پر زیادہ بھروسہ ہے۔حالانکہ نیپال کو بھی معلوم ہے کہ ہندستان اس کا ایک ایسا پڑوسی ہے جو صرف پڑوسی ہی نہیں ہے بلکہ اس پورے خطے میں ایک ایسے بڑے بھائی کے طور پر موجود ہے جو ہر وقت اور ہر موقع پر نہ صرف اس کی مدد کرتا رہا ہے بلکہ اگر اس کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھے تو سب سے پہلے اس کے لئے میدان میں آنے والا ہندستان ہی ہوگا لیکن اس کے باوجود آج وہ ہندستان کو آنکھیں دکھا کر چین کی طرف جھک رہا ہے۔

کالا پانی اور لیپو لیکھ ہندستان کا اٹوٹ حصہ ہیں،یہ نیپال کو بھی معلوم ہے اور چین کو بھی اس نے تو 2015میں ہوئے ایک معاہدے میں ان دونوں علاقوں پر نہ صرف ہندستانی عملداری کو تسلیم کیا تھا بلکہ اس کو ہندستان کا اٹوت حصہ بھی مانا تھا لیکن آج وہ اسی معاملے میں نیپال کی پشت پناہی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ہندستان کو اس سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی اس کی پشت پناہی کر رہا ہے،کسی کی پشت پناہی سے ہندستان نہ ایک قدم پیچھے ہٹا ہے اور نہ ہی ہٹے گا البتہ اس کا ایک نقصان نیپال کو ضرور اٹھانا پڑے گا۔نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی کابینہ نے ان دونوں علاقوں کو نیپال کے نقشے میں شمولیت کی منظوری دے دی ہے۔یہ صرف منظوری نہیں ہے اس کے بہت دور رس عواقب سامنے آئیں گے۔جس کی سب سے پہلی مثال نیپال کی طرف سامنے آگئی،کے پی شرما اولی نے ہندستانی سرحدوں پر نیپالی فورس کو جہاں ایک طرف چاق و چوبند رہنے کا حکم دیا ہے وہیں دوسری طرف نیپالی پولیس کی فائرنگ میں ہندستانیوں کی اموات کی بھی خبریں ہیں۔یہ وہ واقعات ہیں جو نیپال اور ہندستان کے رشتوں کو پاک وہند کے تعلقات کی جانب لے جا رہے ہیں۔نیپال کو شاید اندازہ نہیں ہے کہ وہ ایک ایسی بنیا درکھ رہا ہے جو اخوت و محبت کے بجائے دشمنی اور نفرت کے ساتھ ہی غاصبانہ جذبے پر مبنی ہے۔پاک وہند کیتعلقات میں سرحدی معاملہ ہی سب سے اہم ہے،جو ہند ونیپال کے مابین نہیں تھا لیکن کے پی شرما اولی نے اس کی بنیاد رکھ دی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ نیپال کے وزیر اعظم ان کے دور رس منفی نتائج سے واقف نہیں ہیں،ان کو خوب معلوم ہے کہ سرھد کے معاملات کس قدر نازک ہوتے ہیں،صدیوں کی دوستیاقں دشمنیوں میں بدل جاتی ہیں۔پاکستان ہندستان کا ہی جز تھا لیکن ان دونوں کے مابین سرحدی تنازعات نے آج وہ رخ اختیار کر لیا ہے کہ دونوں کو اب کسی پر اعتبار نہیں ہے۔نیپال اور ہندستان کو ایک دوسرے پر بھر پور اعتماد تھا لیکن نیپالی وزیر اعظم کی نا عاقبت اندیشی کی وجہ سے یہ اعتماد ٹوٹ رہا ہے بکھرر ہا ہے۔وہ چین کے کے ذریعہ دکھائے جا رہے سبز باغوں میں آ کر نیپال کے طویل مدتی رشتوں کو توڑ رہے ہیں جس کو بھگتنا نیپال کے عوام کو ہوگا۔ان کی اس طرح کی جلد بازیوں سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے یہ سب کر رہے ہیں جس پر نیپالی کانگریس اور مدھیسی پارٹیوں نے سرکار کو ہر سطح پر گھیراہے لیکن چونکہ وہ اس وقت بزعم خود بنے شہ کے مصاحب ہیں اس لئے اترا رہے ہیں،اس اتراہٹ میں ان کو نیپال کا سیاہ مستقبل نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ان کو اندازہ نہیں ہو رہا ہے کہ چین نیپال جیسے چھوٹے ملک کی پیٹھ کیوں تھپتھپا رہا ہے۔اس نے پاکستان اور سری لنکا کو آج کے وقت میں غیر معلنہ نو آبادی بنا رکھا ہے،اس کی کوشش ہے کہ وہ نیپال کو بھی اسی زمرے میں شامل کر لے،جس سے اس کے مفادات ہر طرف سے محفوظ ہو جائیں۔لیکن یہ اس کو نیپال و ہند کے رشتوں کی قدامت اور ان میں گرماہٹ کا بھی اندازہ ہے،اس لئے جانتا ہے کہ اس کا یہ مقصد اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا ہے جب تک کہ دونوں ممالک کھل کر آمنے سامنے نہ آجائیں۔جس کے لئے ایک ایسے مضبوط بنیاد مکی ضرورت تھی جس میں عوام کے جذبات کو بھی بھڑکا یا جا سکے اس لئے سرحدی تنازعہ کھڑا کر کے اس کو ہوادے دی۔اس سے عوام میں بھی اضطراب پیدا ہوگیا اور وہ وزیر اعظم کے ظاہری ایجنڈے کے طرفدار نظر آنے لگے،ان کی نظروں سے بھی چین کا ایجنڈا غائب ہے۔چین کا دوسرا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ نیپال میں پناہ گزیں تبتیوں کے لئے دشواری پیدا کرنا چاہتا ہے۔ہندستان کے سامنے اس کی دال نہیں گلتی ہے اس لئے کم از کم نیپال میں پناہ گزیں تبتیوں کے خلاف ہی وہ استحصاری کارروائی جاری رکھنا چاہتا ہے تاکہ کسی بھی طرح سے وہ لوگ اٹھ نہ سکیں اس طرح تبت پر اس کے قبضے کو کہیں سے چیلنج نہ مل سکے۔

چین پوری طرح سے اس کوشش میں ہے کہ ان دونوں ممالک کی دوستی کو ایک پائیدار دشمنی میں تبدیل کیا جا سکے،جس کے لئے اس نے چین کو طرح طرح سے اپنی جانب راغب کیا۔گزشتہ پانچ چھ برسوں میں متعدد معاہدے کئے جن مین فوجی معاہدے بھی شامل ہیں ،یہ اس کی کامیابی کا ہی نتیجہ ہے کہ نیپال آج ہندستان کو آنکھیں دکھانے کی حماقت کر رہا ہے۔کے پی شرما اولی کی سیاسی زمین ہندستان کی مخالفت اور چین سے دوستی پر ہی مبنی ہے۔جب بھی ان کو موقع ملا ہے اس کو بھنانے کی کوشش کی ہے۔2015میں نیپال میں نیا آئین تیار ہو رہا تھا،جس میں ترمیم و تنسیخ کا مطالبہ کرتے ہوئے مدھیسی سیاسی پارٹیوں نے نیپالی سرکار کے خلاف پر تشدد تحریک شروع کردی تھی جس کی وجہ سے ہندستان کی جانب سے اشیاء ضروریہ کی فراہمی پر بھی منفی اثر پڑا تھا۔لیکن نیپال کمیونسٹ پارٹی نے اس کو ہندستان سے جوڑ دیا حالانکہ یہ سچ ہے کہ ہندستان جمہوریت میں یقین رکھتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ پوری دنیا میں جمہوری نظام قائم ہو،وہ مدھیسیوں کو بھی جمہوری حقوق دیئے جانے کا حامی رہا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس نے نیپال کے اندرونی معاملات میں کسی طرح کی دخل اندازی کی۔یہ کمیونسٹ پارٹی کا ایک غلط الزام تھا جس کا سہارا لے کر اس نے عامی جذبات کو بھڑکایا اور 2018میں اس سے فائدہ اٹھاکر اقتدار میں آگئی۔وہ اسی ایجنڈے کو آئندہ بھی برقرار رکھنا چاہتی ہے۔اس کو اس سے سیاسی فائدہ تو ضرور مل سکتا ہے لیکن یہ سودا نیپال اور نیپالی عوام کے لئے نہ صرف مصیبت کا سبب بن سکتا ہے بلکہ نیپال کو ایک ایسی راہ پر ڈال رہا ہے جو چین کی نو آبادیات کی طرف جاتا ہے۔اس لئے نیپالا ور ہند دونوں کو کسی بھی تنازع کو گفتگو کی میز پر حل کرنے میں یقین رکھنا چاہئے اور معاملات جتنی جلد حل ہوجائین بہتر ہے کیونکہ سرحدوں پر جب گولیاں چلنے لگتی ہیں تو دارالحکومت میں بھی محفوظ گھروں میں رہنے والوں کی نیندیں اڑ جاتی ہیں۔یوں بھی اخوت و محبت کا راستہ ہمیشہ نفرت اور دشمنی سے زیادہ بہتر رہا ہے اور دونوں ملکوں اور ان کے عوام کی بھلائی بھی اسی میں پوشیدہ ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین امن قائم رہے،صدیوں قبل روٹی بیٹی کا جو رشتہ قائم ہوا تھا وہ بھی برقرار رہے تو سرحدوں کی لکیریں پہلے کی طرح کل بھی کوئی معنی نہیں رکھیں گی۔

محمد حنیف خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here