عزیز نبیل کی شاعری میں جدید لفظیات واستعارات کی پیکر تراشی: پروفیسر خواجہ اکرام

نئی دہلی: ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہرلعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی اور ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کی طرف سے منعقدہ ’گفتگو‘ میں خلیجی ممالک کے نمائندہ ادیب وشاعر جناب عزیز نبیل سے ملاقات کے لیے ایک نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں دوحہ قطر کے نمائندہ شاعرعزیز نبیل کی تشریف آوری ہوئی ۔ اس نشست میں استقبالیہ کلما ت پیش کرتے ہوئے پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے جے این یو اور ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کی طرف سے دیارِ غیر میں جدید لب و لہجہ کے شاعر عزیز نبیل کا استقبال کرتے ہوئے ان کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا ۔

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے جے این یو اور ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کی طرف سے شاعر عزیز نبیل کا استقبال کرتے ہوئے ان کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا ۔ فوٹو: محمد رکن الدین

قبل ازیں اس اہم نشست کی نظامت کرتے ہوئے ڈاکٹر شفیع ایوب نے عزیز نبیل کا ادبی تعارف پیش کیا اور کہا کہ عزیز نبیل کی پذیرائی عصر حاضر کے نمائندہ ادیبوں اور نقادوں نے کی ہیں جن سے ان کی شعری جہاں کی معنویت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ جناب عزیز نبیل دوحہ ، قطر میں طویل عرصے سے قیام پذیر ہیں ۔ ان کے شعری سرمائے میں ’ خواب سمندر ‘اور ’ آواز کے پر کھلتے ہیں ‘ قابل ذکر ہیں ۔ شعری مجموعوں کے علاوہ تحقیقی و تنقیدی مضامین بھی کافی تعداد میں موجود ہیں جن میں ’ فراق گورکھپوری، شخصیت، شاعری اور شناخت، عرفان صدیقی حیات ، خدمات اور شعری کائنات، آنند نرائن ملا شخصیت اور فن، پنڈت برج نرائن چکبست اورسالانہ کتابی سلسلہ (دستاویز)‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔ جناب عزیز نبیل سامعین سے خطاب کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں اردو تنظیم پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اپنی شاعری بھی سنائی جسے سامعین نے خوب سراہا

کچھ تو ایسا تھا کہ بنیاد سے ہجرت کرلی
خاک یونہی تو نہیں اپنے وطن سے نکلی
وہ کیسا موسم تھا، زرد شاخوں سے سبز بیلیں لپٹ رہی تھیں
وہ سبز بیلیں کہ جن کی آنکھوں میں کوئی خوف خزاں نہیں تھا
چند ٹوٹی صدائیں اٹھائے پھرے ، شاعری کب ہوئی
ہاں مگر حرمتِ لفظ کا دائرہ ہم نے توڑا نہیں
روز دستک سی کوئی دیتا ہے سینے پہ نبیل
روز مجھ میں کسی آواز کے پر کھلتے ہیں

گفتگو‘ کے اخیر میں صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے عزیز نبیل کی شاعری کی جہات و ابعاد پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دیارِ غیر میں جہاں مشکلات کے انبار ہیں ، ان ممالک میں ان جیسے جواں سال شاعر وادیب اردو کے لیے نئے امکانات تلاش کررہے ہیں ۔ جدید لفظیات و استعارات عزیز نبیل کی شناخت ہے ، ہم امید کرتے ہیں کہ تخلیق کا یہ سلسلہ یوں ہی قائم و دائم رہے اور اردو زبان کی چاشنی سے نئی نسل لطف اندوز ہوتی رہے ۔ اس پروگرام میں اردو ، فارسی اور عربی کے ریسرچ اسکالرس نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here