سپریم کورٹ میں فڈنویس حکومت کے قیام سےمتعلق سماعت کا دوسرا دن ختم ہوگیا۔ آج ہونے والی سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ اب منگل کو صبح ساڑھے دس بجے سپریم کورٹ اس معاملے پر اپنا فیصلہ دے گی۔

ممبئی : وزیر اعلی دیویندر فڈنویس کی طرف سے پیش ہوئے ایڈووکیٹ مکل روہتگی نے کہا کہ نتائج کے بعد اور الیکشن  سے پہلے کے ساتھی سے اختلاف ہوگیا تھا ۔ پھر اجیت پوار نے ہماری حمایت کرنے اور حکومت بنانے کی پیش کش کی۔ ایک پوار ہمارے ساتھ ہے اور دوسرا اپوزیشن کے ساتھ ہے۔ اس کیس کا کرناٹک کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مکل روہتگی نے وزیر اعلی دیویندر فڈنویس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جوہمارا دوست تھا وہ دشمن بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب اجیت پوار نے فڈنویس سے کہا کہ مجھے 53 ایم ایل اے کی حمایت حاصل ہے اور میں قانون ساز پارٹی کا قائد ہوں ، تب انہوں نے گورنر کے سامنے حکومت بنانے کا دعوی کیا۔

روہتگی نے کہا کہ اجیت پوار نے 53 ایم ایل اے کو حمایتی خط دکھائے۔ انہوں نے کرناٹک کیس سےموازنہ کے خلاف احتجاج کیا۔ روہتگی نے کہا کہ ہمارے یہاں ایک این سی پی کے پوار ہیں اور دوسرا حزب اختلاف میں۔ ہمیں خاندانی جھگڑوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ آئینی پہلو بھی یہاں شامل ہیں۔ ہم پر ہارس ٹریڈنگ کا جھوٹا الزام لگایا جارہا ہے۔ اپوزیشن اب مضبوطی سے ایم ایل اے کے دستخطوں کو جعلی قرار دےرہی  ہے ۔

روہتگی نے کہا کہ اجیت پوار نے خط میں کہا ہے کہ ہمارے پاس 54 ایم ایل اے ہیں اور ہم بی جے پی کی حمایت کر رہے ہیں۔ اسی لئے ہم چاہتے ہیں کہ دیویندر فڈنویس کو وزیر اعلی کے حلف کے لئے بلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں ووٹوں کی تقسیم ہوگی لیکن گورنر پر الزام کیوں؟ انھو ں  نے بھی اکثریت ثابت کر نے کے لئے کہا ہے۔ اکثریتی امتحان کب ہوگا اس کا فیصلہ گورنر کو کرنے  کا حق حاصل ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here