مغربی بنگال کے مسلمانوں کی سوفیصد مسلم آبادی نے اسی برہمن واد ممتا بنرجی پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرتے ہوئے اقتدار کی عظیم کرسی پر بیٹھادیا مگر بدلے میں گزشتہ 10سالوں کا ایک لمبا عرصہ گزرجانے کے باجود مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی ومعاشی ترقیاتی میدان میں کسی بھی طرح کے ترقیاتی کام نہیں کئے گئے۔ دھرم کا استعمال کرتے ہوئے“ ہندو مسلم“اور ذات پات کی سیاست کو ہوادیکر ”امام وموذن“ کوچند روپے دیکر انہیں استعمال کیا گیا۔ جبکہ تعلیم کے نام پر کسی بھی طرح کی پیش ورفت نہیں کی گئی۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتابنرجی کو کانگریس پارٹی کا دامن تھامنے پر1991 میں وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ کے ذریعہ یونین منسٹری کا عہدہ دیا گیا۔ اگرچہ بعد میں کچھ وجوہات کی بنیاد پراس عہدے سے ممتابنرجی نے استعفیٰ دے دیا۔1997میں ممتا بنرجی نے کانگریس پارٹی کو الوداع کہتے ہوئے مکل رائے کے ساتھ ملکر اپنی الگ اور نئی پارٹی آل انڈیا ترنمول کانگریس کی بنیاد رکھ دی۔ اقتدار کی ہوس کیا ہوتی ہے اور لوگ اس کی تکمیل کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں کچھ اسی طرح کا واقعہ 1999میں پیش آیا۔ ممتا بنرجی نے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی حکومت سازی میں شامل ہوگئی۔ این ڈی اے کی حکومت نے ممتا بنرجی کو ریلوے منسٹری کا عہدہ دیا۔ چند سال اس عہدہ پر کام کرنے کے بعد یہاں سے بھی ممتابنرجی نے استعفیٰ دے کر دوبارہ 2001میں کانگریس پارٹی سے مربوط ہوگئی۔ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا ہوگا کہ پٹرول ڈیزل اور کوئلے کے قیمتوں میں تخفیف کی مانگ کولیکر معاملہ طول پکڑنا شروع ہوا۔ اسی گہماگہمی کے دوران 2004کے جنرل لوک سبھا الیکشن کے ذریعہ اے آئی ٹی ایم سی کی واحد سیٹ پر ممتابنرجی نے جیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی پھر این ڈی اے میں واپس ہوگئی۔2006میں ہگلی ضلع کے سنگور میں ”ٹاٹا نانوکی کمپنی“ کو غریب اور کسانوں کی زمینات کوزمینداروں کی رضامندی کے بغیرحکومت کی جانب سے دئیے جانے معاملہ کافی بھیانک رخ اختیار کیا جانے لگا۔اس وقت سماجی کارکن میدھاپاٹکر نے باضابطہ ریاستی حکومت کی جانب سے مظلوم زمینداروں کے حقوق کی حق تلفی اور ان کے ساتھ ناانصافی کے خلاف حکومت کو آگاہ بھی کیا۔ مگر اس وقت کی حکومت نے اپنی من مانی اور ظلم وحق تلفی جاری رکھی۔ جب اس واقعہ کی چیخ وپکار قومی سطح پر زوروشور سے اٹھایا جانے لگا تواس موقع کا ممتابنرجی نے فائدہ اٹھا کر میدان میں اتر گئی اورعلاقے کے مظلوم اور محروم عوام کے ساتھ احتجاج و بھوک ہڑتال کی شروعات کی۔جن سانحوں کے ذریعہ ممتابنرجی کو ریاستی وقومی سطح پر شہرت ملی۔ اس سے آل انڈیا ترنمول کانگریس پارٹی کو بھی کافی زیادہ سیاسی فائدہ حاصل ہونا شروع ہوا۔2009میں پارٹی نے زمینی سطح پر انہیں وجوہات کی بنیاد پر 19لوک سبھا سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوگئیں۔اس کے بعد(یونائیٹڈ پروگریسیو الائینس (یوپی اے) سے 2011 کو ممتا بنر جی نے اپنی پارٹی کا الحاق کرتے ہوئے دوبارہ ریلوے منسٹری کا عہدہ حاصل کیا۔ 2011کے ریاستی اسمبلی الیکشن کے ذریعہ ممتابنرجی نے دیگر پارٹیوں سے ملکرالیکشن لڑنے کے بعد اپنی پارٹی کیلئے جملہ 294سیٹوں میں سے 184سیٹ حاصل کرتے ہوئے اقتدار کی باگ ڈور پر قبضہ جمالیا۔یہ جیت تاریخ کا حصہ بن کر کمیونسٹوں کی 34سالہ لال قلعے کو مسماریت کی صورت میں ظاہرہوا۔ممتابنرجی کی پارٹی نے اپنی سیاسی میدان میں توسیع اور تشہیر کرتے ہوئے دوبارہ 2016کے اسمبلی الیکشن میں جملہ 294میں سے 204سیٹ کے ذریعہ اقتدار پر برقرار آئی۔

 اپنی سیاسی کیریئر کو ارتقاوپروان چڑھانے کیلئے موجودہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے 2007-08 میں جو رول ادا کیا تھا،خاص کر قتل وغارت گری کی سیاست کے ذریعہ مظلوم اور مقہورعوام کی آواز بن کر میدان سیاست میں مختلف وعدوں اور ارادوں کے ذریعہ ریاست کے عوام کو اپنی پارٹی کی جانب راغب کیا تھاحکومت کی کرسی پر براجمان ہوجانے کے بعد ان وعدوں اور ارادوں کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ سچر کمیٹی رپورٹ میں مغربی بنگال کے اضلاع میں رہنے والے میناریٹی مسلم کمیونٹی کی تعلیمی، سماجی اورمعاشی میدان میں بچھڑے پن کا اظہار کیا گیا تھا اورمرکزی حکومت کی جانب سے ریاستی حکومت کو اس جانب فوری اقدامات کرنے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔ریاست میں اقتدار کے حصول سے پہلے  ممتابنرجی نے بھی کہا تھاکہ ریاست کے مسلم میناریٹی طبقے کو قومی دھارے میں شامل کئے جانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اردوآبادی والے علاقوں میں سرکارح سطح پر اردو کو دوسری سرکاری زبان تصور کرتے ہوئے اس پر عملی اقدام کئے جائیں گے۔انہیں وجوہات کی بنیاد پر ریاست کے اکثریتی طبقے نے ممتا بنر جی پر بھروسہ کرتے ہوئے 2011میں ترنمول کانگریس کو ریاست میں اقتدار سونپ دیا۔ ان تمام وعدوں اور ارادوں کو ممتابنر جی اور ان کی پارٹی نے درکنار کرتے ہوئے گزشتہ دس سالوں کی اپنی دوران حکمرانی میں زمینی سطح پر صرف اور صرف سیاسی بالادستی اور برتری کے حصول میں گنوادئے۔دیگر پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے سارے افراد اور لیڈر وں کو اپنی پارٹی میں شمولیت کیلئے زوروشور سے ترقی کے نعرے کا نام لیکرتشہیرکے ذریعہ ترنمول کانگریس میں شامل ہونے کیلئے کہا گیاالغرض ریاستی سطح پر اپوزیشن کے مکمل خاتمے کیلئے تمام تر حربے استعمال کئے گئے۔یہ کہا جائے تو زیادہ صحیح ہوگا کہ ترنمول کانگریس نے اقتدارپر براجمان ہونے کے بعداگر کسی میدان میں پرزور طریقے سے پوری طاقت اور قوت سے ترقیاتی کاموں کے نام اور اس کی آرمیں اپنی پارٹی کی سیاسی برتری کا حصول تھا۔ جس کیلئے پنچایت سطح کے ممبر سے لیکر ایم ایل اے اور ایم پی جیسے ممبران کو مختلف بہانوں کے ذریعہ عام عوام کوترقی کا خواب دیکھاکر جگہ جگہ تشہیری پروگرام کے ذریعہ عام عوام کو گمراہ کیا گیا۔ساری طاقت اور قوت اپنی سیاسی برتری کے حصول میں صرف کردی نتیجہ یہ ہوا کہ تمام سرکاری شعبوں اور اداروں میں بھی کافی زور وشور سے سیاست کا کھیل شروع ہوگیا۔ تمام شعبوں اور اداروں کے سرکاری ملازمین نے بھی اپنے کاموں کو صحیح طریقے سے انجام دینے کے بجائے سیاسی کارندہ بن کر سیاستدانوں کے جال میں پھنس کر اپنے کاموں سے غفلت برتتنے لگے۔ اس سے بدعنوانیوں میں بہت زیادہ اضافہ ہونا شروع ہوا۔ ممتابنرجی کی سیاسی کیرئیر کا اگر سیاسی جائزہ لیا جائے تو یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ ممتابنرجی ایک کٹر برہمن ہیں اور تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ برہمنوں کی اکثریت کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ دیگر ذات یا مذہب والے تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی میں ان کے شانہ بشانہ نہ چل سکے۔ وقتی طورپر اپنی مفاد کیلئے مسلمان یا پھر دیگر ذات کے لوگوں کو یہ برہمن وادی طبقہ استعمال کرتے ہیں مگر جیسے ہی اس برہمن وادی طبقے کو لگنے لگتا ہے کہ مفاد پرستی میں کچھ کمی ہورہی ہے بس پھر اپنی اصل شناخت اور برہمن وادی سوچ پر عمل پیرا ہوکراپنی اصلیت کا اظہار کرنے لگ جاتے ہیں۔ مغربی بنگال کے مسلمانوں کی سوفیصد مسلم آبادی نے ریاست میں تبدیلی لانے کیلئے اسی برہمن واد ممتا بنرجی پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرتے ہوئے اقتدار کی عظیم کرسی پر بیٹھادیا مگر بدلے میں گزشتہ 10سالوں کا ایک لمبا عرصہ گزرجانے کے باجود مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی ومعاشی ترقیاتی میدان میں کسی بھی طرح کے ترقیاتی کام نہیں کئے گئے۔ دھرم کا استعمال کرتے ہوئے“ ہندو مسلم“اور ذات پات کی سیاست کو ہوادیکر ”امام وموذن“ کوچند روپے دیکر انہیں استعمال کیا گیا۔ جبکہ تعلیم کے نام پر کسی بھی طرح کی پیش ورفت نہیں کی گئی۔ اسکولوں کی حالت نہایت ابتر ہوتی چلی گئی۔اپنے سرپرستوں کی خون وپسینہ کی کمائی کے ذریعہ باصلاحیت ٹیچروں نے بی ایڈ اور ڈی ایل ایڈ کی تعلیم حاصل کی۔ مگر ویسٹ بنگال اسکول سروس کمیشن کو بالکل ہی ناکارہ بنادیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیچروں کی بحالی میں بھی دھاندلیاں ہونا شروع ہوگئی۔بے بیروزگارکی جانب سے اہلیتی امتحان میں کامیاب ہوجانے کے باوجود جب ان کو لمبے عرصے تک ملازمت سے محروم رکھ جانے پراحتجاجی شکل میں اپنی آواز بلند کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو ریاستی حکومت کے وزیروں کی جانب سے ملازمت کے عوض امیدواروں سے پارٹی کیلئے کام کرنے پر زوردیا جاتاہے۔ ریاستی حکومت کے ماتحت چلنے والے اکثر اداروں میں صاف شفاف اور نقائص سے پاک ملازمت میں بحالی کے طریقہ کار کو نظرانداز کرتے ہوئے ان شعبوں میں بہتری لانے کی بالکل بھی کوشش نہیں کی گئی۔ تعلیمی شعبوں کو بدعنوانیوں کا اڈہ بناکر ذاتی سیاسی مفاد کیلئے استعمال کیا گیا۔ اردواکثریت والے علاقوں میں واقع سرکاری اداروں کی خستہ حالی پر دھیان نہ دیکر مزید خستہ حال ہونے پر مجبور کیا گیا۔ اردو زبان کو جان بوجھ کر درکنار کرتے ہوئے بنگلہ زبان کو زبردستی اردو آبادی والے علاقوں میں نافذ کیا گیا۔ پرائمری سطح پر تعلیم سے مربوط قانون ”رائٹ ٹو ایجوکیش ایکٹ“ کے خلاف کھلے عام ورزی کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے پرائمری اسکولوں میں اردو زبان کے ٹیچروں کو بحال نہ کرتے ہوئے ان کی جگہ میں بنگلہ زبان کے ٹیچروں کو بحال کیا۔ اردو ذریعہ تعلیم سے تعلیم حاصل کئے ہوئے بچوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کرتے ہوئے انہیں سرکاری نوکریوں سے مسلسل محروم رکھنے کی کوشش کی گئی۔ انہیں وجوہات کی بنیاد پر مغربی بنگال کے مسلمانوں اور دیگر طبقات کے اندرآہستہ آہستہ ترنمول کانگریس پارٹی کی دھوکے بازی اور فریب‘روز وروشن کی طرح عیاں ہونا شروع ہوا۔  ریاست کے مسلمان اور دیگر طبقات متبادل کے طور پر کسی نئی پارٹی کو ایک نئی امید اور اپنی نسل نو کی مستقبل کی بہتری کیلئے دیکھ رہے ہیں۔ یہ بات ممتا بنرجی بھی بخوبی جان چکی ہے یہی وجہ ہے کہ جب ریاست کے مسلمانوں نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی طرف رخ کرنے کا ارادہ کیا تو ممتابنر جی کی اصل ذہنیت ابھر کر سامنے آنا شروع ہوگئی۔ ممتابنرجی کے ذریعہ مسلمانوں کو ”شدت پسند“،”انتہاپسند“ جیسے القاب کے ذریعہ قومی سطح بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وقت اور حالات کا تقاضہ ہے کہ ریاست کے میناریٹی طبقے خاص کر مسلمانوں کواور چند مفاد پرست لیڈروں کی گرفت سے اپنے آپ کو آزاد کرتے ہوئے تعمیری اور ترقیاتی سوچ کے ساتھ اپنی سیاسی دوراندیشی کا جائزہ لیتے ہوئے سیاسی استحصالی، سیاسی مفادپرستی والی پارٹیوں کی نشاندھی کرنا ہوگا۔ ریاست کے میناریٹی طبقے کو دیگر پارٹیوں کے ساتھ بھی تال میل اور سیاسی وابستگیوں کی ضرورت ہے۔ ریاست مغربی بنگال میں اب تک یہاں بسنے والی میناریٹی کی ایک بڑی خامی یہ رہی ہے کہ ایک طرفہ ووٹ کے ذریعہ ایک ہی پارٹی پر متحدہ طور پر اعتماد کرتے ہوئے ایک لمباعرصہ گزار دیتے ہیں اگرچہ بدلے میں تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی کیلئے ایسی پارٹیاں کچھ بھی نہیں کرتیں۔ممتابنرجی نے ماضی میں سیاسی برتری اور سبقت کے حصول کیلئے کبھی بھارتیہ جنتاپارٹی یا پھر کانگریس پارٹی میں شامل ہوسکتی ہے تو پھر ریاست مغربی بنگال کے مسلم اور بچھڑے طبقات کیا دشوار یا دقت ہے بلکہ اپنی مستقبل کی فکر لیکر نسل نوکی تعلیمی،سماجی اور معاشی ترقی کیلئے حیدرآبادوالی پارٹی میں شامل ہونے کی کوشش کررہی ہے تو اس میں مسلم طبقے کو ”شدت پسند“ کہنا سراسر غلط اور قابل اعتراض مانا جائے گا۔

محمد انجم راہی

کانکی‘اسلام پور‘بنگال

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here