جمہوریت میں عوام کی حکومت عوام کے لئے ہوتی ہے اور یہی نعرہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا بھی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ خوشنمانعرہ’سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا اعتماد ‘ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے رہنماؤں کے ساتھ ہی گلی کوچوں کے لیڈروں نے ایسے نعروں کی بنیاد پر نہ صرف اپنی پیٹھ تھپتھپائی بلکہ کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جب یہ دعویٰ نہ کیا ہو کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بیرون ممالک ہندستان کو وہ ’’مان سمان‘‘ دلایا ہے جو اب تک نہیں ملا تھا اور ان ہی کی بنا پر عالمی سطح پر ملک کی قدر وقیمت میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس طرح کی باتیں سن کر خوشی ہوتی ہے لیکن اس وقت جب سچ ہوں ،کبھی کبھی گمان بھی ہونے لگتا ہے کہ واقعی سب سچ کہہ رہے ہیں لیکن پھر کچھ نہ کچھ ایسی چشم کشاباتیں سامنے آجاتی ہیں جو اس دعویٰ کی حقیقت بیان کر دیتی ہیں ۔

Mohammad Haneef Khan

عالمی سطح پر اس وقت ملک کی کیا پوزیشن ہے اس کا اندازہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے جو حال ہی میں داخل کی گئی ہے ۔ اقوام متحدہ نے 2017 میں ایک ریزیولوشن پاس کیا تھا،جس کے مطابق سبھی ممبر ممالک میں نسل پرستی اورنسلی امتیاز سے متعلق ایک رپورٹ تیار کرائی جانی تھی ۔ ہندستان سے متعلق یہ رپورٹ ٹنڈائی ریشوم نے تیار کی ہے جو یو این او میں داخل بھی کردی گئی ہے ۔ ریشوم کی یہ رپورٹ ہندستانی حکومت اور عوام دونوں کے لئے حوصلہ افزا نہیں ہے بلکہ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ اس وقت ملک میں حقوق انسانی کی کیا صورت حال ہے،کس طرح اسی ملک کے باشندے دوئم درجے کے شہری بنا دیئے گئے ہیں ،اہم بات یہ ہے کہ اس رپورٹ میں صرف مسلموں کے مسائل کو نہیں اٹھایا گیا ہے بلکہ دلتوں اور قبائیلیوں سے متعلق بھی گفتگو کی گئی ہے ۔ اس رپورٹ نے جہاں ایک طرف ’سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا اعتماد‘ کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے وہیں اس نے حکمراں جماعت کو بھی بے نقاب کر دیا ہے ۔ چونکہ یہ رپورٹ ایک عالمی ادارے نے خود تیار کرائی ہے اس لئے اس پراتنی آسانی سے نہ تو سوال اٹھائے جا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی پر الزام عائد کیا جا سکتا ہے ہاں مجرمانہ خاموشی ضرو راختیار کی جا سکتی ہے ۔ قومی میڈیا سے بھی رپورٹ غائب ہی رہی ،ہندی اخبارات اور چینل جو خود ساختہ حب الوطنی میں ہمیشہ شرابور رہتے ہیں ،جو وزیر اعظم کے دوروں اور اور ان کو ملنے والے انعامات کی رپورٹنگ میں حد سے گذر جاتے ہیں انہوں نے بھی ایک لائن یا ایک اسکرول کی خبر نہیں دکھائی ،کیونکہ یہ خبر حکومت اور بھاجپا کے لئے خوش کن نہیں ہے اس لئے اس کو مین اسٹریم کی میڈیا سے غائب کر دیا گیا،البتہ انگریزی کے اخبارات اور ویب ساءٹوں نے ضرور اس خبر کو جگہ دی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ جمہوریت کا یہ چوتھا ستون ابھی منہدم نہیں ہوا ہے ۔

رپورٹ میں صاف طور پر دلتوں اور مسلمانوں سے متعلق بی جے پی لیڈران کے بیانات کو مرکز بنا کر کہا گیاہے کہ ہندستان میں نسلی امتیاز کو فروغ دیا جا رہا ہے،رپورٹ کے مطابق جب سے ہندو نیشنلسٹ بھاجپا اقتدار میں آئی ہے دلتوں ،مسلموں ،عیسائیوں اور قبائلیوں کا استحصال بڑھ گیا ہے جو بی جے پی لیڈران کے بیانات کا نتیجہ ہے،اس تناظر میں گری راج سنگھ،یوگی آدتیہ ناتھ،امیت شاہ اور خود وزیر اعظم کے بیانات دیکھے جا سکتے ہیں ۔ اسی طرح سے رپورٹ میں آسام میں این آر سی پر بھی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے،اہم بات یہ ہے کہ جن خدشات کا اظہار مسلمان کر رہے تھے اس رپورٹ نے اس کو یقین کی حد تک پہنچادیا ہے ۔ این آر سی کے مطابق 19لاکھ افراد اپنی شہریت ثابت نہیں کر سکے ہیں جن میں تقریبا ساتھ لاکھ مسلم ہیں ،اس سلسلے میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور آسام کے وزیر خزانہ ہیمنت بسواکے بیانات خالص مذہبی بنیاد پر تھے جن سے خدشات بڑھ گئے ہیں ۔ امیت شاہ نے ہندووَں کو پریشان نہ ہونے کی یقین دہانی کرانے کے ساتھ ہی مسلمانوں کو دھمکی بھی دی کہ ان کو یہاں نہیں رہنے دیا جائے گاجبکہ وزیر خزانہ نے دوبارہ این آر سی کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کی بات کہی کیونکہ ان کو لگتا ہے کہ کثیر تعداد میں ہندو اپنی شہریت ثابت نہیں کر سکے ہیں جن کو دوبارہ موقع دیا جانا چاہئے،ان دونوں بیانات کے بعد خدشہ بڑھ گیا تھا کہ دوبارہ ہونے والی این آر سی میں کثیر تعداد میں مسلمانوں کے دستاویز مسترد کئے جائیں گے اور ان کو غیر ملکی در اندازوں میں شمار کیا جائے گا ۔ ریشوم کی یہ رپورٹ اسی خدشے کو یقین میں بدلتی ہے وہ لکھتی ہیں :اس سے یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ مقامی حکام جنہیں مسلمانوں اور بنگالیوں کا دشمن تصور کیاجاتا ہے وہ دوبارہ ہونے والی این آر سی میں ان کے دستاویزات کو مسترد کر کے ان کو ہندستانی شہریت سے محروم کردیں گے‘‘ ۔ اقوام متحدہ کے یہ خدشات یوں ہی نہیں ہیں اس کے سامنے متعصب لیڈران اور اور افسران کے رویے ہیں جو ہر گام پر مسلمانوں ،دلتوں اور قبائیلوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھتے ہیں ۔ ابھی حال ہی میں جھارکھنڈ میں ہجومی تشدد کا شکار تبریز انصاری کے معاملے میں افسران نے ہی کھیل کردیا تھا ۔

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں کشمیر معاملے کا ذکر نہیں ہے حالانکہ غیر بدیہی طور پر اس کا تعلق بھی نسلی اور مذہبی ہی ہے ۔ بھاجپا خود ساختہ حب الوطنی کا ڈھنڈورا ضرور پیٹتی ہے لیکن اس کے مرکز میں حب الوطنی سے زیادہ ہندوتوا ہوتا ہے اور جہاں ہندوتووا ہوتا ہے وہاں نسلی امتیاز یقینی ہے ۔ جب کشمیر سے دفعہ 370اور 35اے ہٹائی گئی تو بھاجپا کے سینئر لیڈر اور ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نے کشمیری لڑکیوں سے متعلق نہایت نازیبا بیان دیا تھا،وہ بھی اس میں شامل ہونا چاہئے تھاکیونکہ اس کا تعلق بھی نسلی و مذہبی امتیاز سے ہی ہے،اسی طرح کشمیر میں اٹھارہ برس سے کم بچوں کو گرفتار کر کے رکھا گیا ہے ۔ حقوق اطفال کارکن اناکشی گانگولی نے سپریم کورٹ میں رٹ داخل کر کے ان بچوں سے متعلق معلومات طلب کی تھیں کیونکہ ہائی کورٹ اس معاملے کو دیکھ رہی ہے ۔ ابھی تک ان بچوں سے متعلق کوئی معلومات نہیں مل سکی ہے ،جوینائل بورڈ ہونے کے باوجود ان بچوں کو قید میں رکھنا کسی بھی طرح سے درست نہیں ہے ۔ اسرائیل واحد ملک ہے جو بچوں کا کورٹ مارشل کرتا ہے ابھی ہندستان کے بارے میں اس طرح کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی ہے لیکن بچوں کو اس طرح گرفتار کرنا اور ان سے متعلق جوینائل بورڈ کو بھی واقف نہ کرانا شک و شبہ ضرور پیدا کرتا ہے ۔ یوں بھی اسرائیل اور ہندستان کے مابین جس سطح کی دوستی ہے اس سے کوئی بعید نہیں ہے کہ اسرائیل نے یہ تکنیک بتائی ہو کہ نفسیاتی طور پر زیر کرنے کے لئے بچوں کو ٹارگٹ کیا جائے جیسا کہ وہ فلسطینی بچوں کے ساتھ خود کرتا ہے ۔ یہ معاملہ بھی حقوق انسانی اور نسلی امتیاز سے ہی جڑ جاتا ہے ۔ اگر اقوام متحدہ کی رپورٹ کشمیر کا بھی احاطہ کرتی تو یقینا بھاجپا سرکار کے کے لئے مزید شرمندگی کا باعث ہوتی ۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ جس طرح کی سیاست کر رہے ہیں اس سے یہ نہیں لگتا ہے کہ حکومت یا بی جے پی لیڈران کے رویے میں اس رپورٹ کے بعد بھی کوئی تبدیلی آئے گی،کیونکہ یہ دونوں لیڈر اس وقت ہندستان کے بے تاج بادشاہ ہیں ،جمہوریت میں بھی بادشاہیت کر رہے ہیں ،ایسے میں ان کے لئے اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ کاغذکے چند پرزوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی ہے لیکن ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس طرح کی رپورٹ سے کسی بھی ملک میں حقوق انسانی کی ریٹنگ ہوتی ہے جس سے ملک کا گراف بڑھتا یا گھٹتا ہے جس کے نتیجہ میں ملک کی شبیہ دنیا میں بنتی یا بگڑتی ہے ۔

حقائق تو سب جانتے تھے لیکن اقوام متحدہ جیسے پلیٹ فارم کی رپورٹ آجانے کے بعد اب حکمراں پارٹی کو اپنا اور اپنے نعرے کا جائزہ لینا چاہئے ۔ اس رپورٹ سے ان کو اس بات کا بھی اندازہ ہوجانا چا ہئے کہ انہوں نے ملک کے عزت و وقار میں اضافہ کے بجائے اس کی قدر وقیمت کو گرایا ہے ،ریشوم کی یہ رپورٹ ایک دستاویز ہے جو اقوام متحدہ میں اپنے تمام حقائق کے ساتھ موجود رہے گی اور ہندستان کو شرمسار کرتی رہے گی ۔ جب تک حکمراں پارٹی اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتی ہے اور زبان کے بجائے عمل سے ہر طرح کے امتیاز کو ختم نہیں کرتی ہے اس وقت تک ملک کی شبیہ عالمی سطح پر نکھر کر نہیں آ سکتی ہے،اگر حقیقت میں ان سب کو ملک سے محبت ہے تو ملک کی اقلیتوں ،دلتوں اور قبائلیوں کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کرکے ان کو بھی ایک باعزت شہری کا مقام دینا ہوگا جس سے ملک کی ترقی کو پنکھ لگ جائیں گے ۔
محمد حنیف خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here