ہاں میں جس نوجوان کی بات کررہا تھا اس کا نام ہے نعیم انیس۔ ڈاکٹر نعیم انیس، پتلا دُبلا، گیہواں رنگ، کشادہ پیشانی، ہماری جیسی کشادگی نہیں، کالے بال، معقول شریف زادوں کی طرح بائیں طرف مانگ نکلی ہوئی، کالی آنکھوں میں چمک، ستواں ناک، ناک کے نیچے ہلکی ہلکی مونچھیں، مونچھوں کے نیچے مسکراتے ہوئے ہونٹ۔ چہرے پر بلا کی شائستگی اور سنجیدگی۔

اگر دنیا میں سارے بڑے شہر ہوتے تو شاید آدمی ہجرت نہیں کرتا، اپنے گھر میں سکون سے رہتا۔ پتہ نہیں دنیا بساتے وقت ان چیزوں کا خیال کیوں نہیں رکھا گیا، بلکہ ہوا یوں کہ ہر ملک میں چند بڑے بڑے شہر بنادئیے گئے ، باقی چھوٹی چھوٹی بستیاں۔ کسی کو قصبہ کہا گیا، کسی کو گاﺅں، کسی کو پرگنہ، کسی کو موضع۔ اب ہوتا یوں ہے کہ ہر چھوٹی بستی والا بڑی بستی کی طرف رخ کرتا ہے، خواہ مخواہ گھر سے بے گھر ہوتا ہے۔ ہندوستان میں چار پانچ بڑے شہر کافی تھے۔ جس رفتار سے ہجرت ہورہی ہے، ہوسکتا ہے آگے چل کر یہی ہو، گاﺅں ختم ہوجائیں گے شہر باقی رہ جائیں گے، کیوں کہ شہر اتنی تیزی سے پَر پھیلارہے ہیں کہ گاﺅں اس میں ضم ہورہے ہیں۔ پہلے دلّی کے اطراف کتنے گاﺅں تھے، اب سب کو دلّی کھاگئی۔اب تو غازی آباد،فریدآبادبھی دہلی کے محلے لگتے ہیں، ہر بڑے شہر کا یہی حال ہے۔ ہمیں تو اتنا معلوم ہے کہ یوپی اور بہار کے لوگ تو اپنے گھروں میں رُکتے ہی نہیں۔ پہلے یوپی والوں کو دہلی اور بہار والوں کو کلکتہ قریب لگتا تھا، اب انھیں پورا ہندوستان قریب لگتا ہے۔

ہندوستان کا کوئی شہر ایسا نہیں جہاں ان صوبوں کے افراد موجود نہ ہوں۔ انگریزوں کے زمانے میں کچھ مدت کے لئے کلکتہ راجدھانی رہا، اس لئے بہت لوگوں نے اُدھر کا رخ کیا۔ ہم نے کلکتہ کے علاوہ ایک کلکتی سنا تھا، کلکتی ہمارے دونوں آبائی وطن کے بیچ میں ہے، یعنی ڈبائی اور گنور کے درمیان گنگا بہتی ہے اور گنگا کے کنارے ایک بستی ہے کلکتی جو نرورہ کے نام سے مشہور ہے۔ بچپن میں ہم سوچتے تھے کہ ضرور کلکتہ اور کلکتی کا کوئی رشتہ ہوگا۔ خیر بات کہاں سے کہاں چلی جارہی ہے، گریز کی نوبت ہی نہیں آرہی کہ ممدوح کا ذکر ہو۔

  اکیسویں صدی عیسوی کے ابتدائی سالوں کی بات ہے کہ ہماری ملاقات ایک نوجوان سے این سی ای آر ٹی کے ایک ورکشاپ میں ہوئی۔ ورکشاپ سے ایسا لگتا ہے وہاں کاروں کی مرمت ہوتی ہوگی، ایسا نہیں ہے۔ دراصل وہاں کچھ بے کاروں کو بٹھایا جاتا ہے کہ وہ کچھ کارآمد باتیں کرلیں۔ جی ہاں باتیں تو خوب کرتے ہیں، کام کم کرتے ہیں۔ کارآمد ہوتی ہیں پتہ نہیں۔ دس پندرہ آدمی ایک ہفتے میں اتنا کام کرتے ہیں کہ سنجیدگی سے بیٹھ جائے تو ایک آدمی تین چار دن میں کرسکتا ہے۔ خیر یہ ان کا مسئلہ ہے، جتنے مشورے ہوتے ہیں کام اچھا ہوتا ہے اوربزرگ کہتے ہیں مشورے میں خیرہے، ہاں میں جس نوجوان کی بات کررہا تھا اس کا نام ہے نعیم انیس۔ ڈاکٹر نعیم انیس، پتلا دُبلا، گیہواں رنگ، کشادہ پیشانی، ہماری جیسی کشادگی نہیں، کالے بال، معقول شریف زادوں کی طرح بائیں طرف مانگ نکلی ہوئی، کالی آنکھوں میں چمک، ستواں ناک، ناک کے نیچے ہلکی ہلکی مونچھیں، مونچھوں کے نیچے مسکراتے ہوئے ہونٹ۔ چہرے پر بلا کی شائستگی اور سنجیدگی۔ یہ بات ۲۰۰۴ءکی ہے، اس ورکشاپ یا کارخانہ میں مردوں میں سب سے خرد کاریگر نعیم انیس ہی تھے۔ خواتین کے بارے میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا اس لئے کہ ان کی عمریں اللہ جانتا ہے یا وہ خود۔ شرکاءمیں میرے علاوہ سبھی نامور ادیب موجود تھے، مثلاً پروفیسر شمیم حنفی، پروفیسر صغریٰ مہدی، پروفیسر قاضی عبیدالرحمن ہاشمی، ڈاکٹر اسلم پرویز، پروفیسر آفاق حسین صدیقی، پروفیسر ابوالکلام قاسمی، ڈاکٹر فیروز دہلوی، ڈاکٹر قدسیہ قریشی، گوہر سلطان، شمامہ بلال، ماہ طلعت علوی، ڈاکٹر حدیث انصاری اور ڈاکٹر حلیمہ سعدیہ۔ ورکشاپ میں سب سے کام لینے والے تھے پروفیسر محمد نعمان خاں بھوپالی۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ پڑھے لکھے لوگوں کے اوپر کسی پٹھان کو مسلط کردیا جائے تو سب پر کیا بیتے گی۔ بیچارے معصوم سے نعیم انیس پر تو ترس آرہا تھا، اس کے چھوٹے ہونے کا سب اس طرح فائدہ اٹھارہے تھے جیسے گھر میں سب سے چھوٹے فرد سے اٹھایا جاتا ہے۔ نعیم کی سعادت مندی دیکھنے لائق تھی۔ جی سر! جی سر! کے علاوہ کوئی آواز ہی نہیں نکلتی۔ مظلوم اچھی رائے بھی دیتے ہوئے خوف محسوس کرتا تھا۔ اپنے برابر بیٹھے ہوئے کسی پروفیسر کو بتاتا، وہ استاد اپنی طرف سے وہ رائے پیش کرکے واہ واہ حاصل کرلیتے۔ میں سوچ رہا تھا کہ یہ تو بنگالی ہیں اور بنگالی تو لال جھنڈا لے کر نعرے لگانے میں سب سے آگے ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ کلکتہ کے کسی کالج میں استاد بھی ہیں، پھر کیوں یہ شاگردوں کی سی سعادت مندی دکھا رہے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کسی اچھے گھرانے میں تربیت ہوئی ہے، اس لئے خطائے بزرگاں کی گرفت نہیں کرتے۔ بس اس دن سے نعیم انیس کی شرافت دل میں گھر کرگئی۔ شرافت کا مزید یقین ڈاکٹر محمد کاظم نے کروایا جو نعیم کے اس وقت کے ساتھی ہیں جب دونوں نیکر پہن کر ہگلی میں ڈبکی لگایا کرتے تھے۔ مذکورہ علماءبشمول میں اسکول کی ایک کتاب تیار کررہے تھے۔ اب سوچ سکتے ہیں کہ طلباءکا کیا حال ہوگا؟ اسی لئے ڈاکٹر نعمان خاں مشورے بزرگوں سے لیتے اور کام نوجوانوں سے۔

  انسان کو نقل مکانی وراثت میں ملی ہے۔ حضرت آدم کو پروردگار نے سری لنکا میں یہ سوچ کر بھیجا کہ چھوٹا سا جزیرہ ہے، سکون سے رہیں گے، لیکن وہ کہاں ایک جگہ بیٹھنے والے تھے۔ عرب ممالک میں کام کی تلاش میں نکل پڑے، اگر وہیں رہتے تو کم از کم سری لنکا پر راون کا قبضہ تو نہ ہوتا۔ مکان ہو یا ملک، زمین ہو یا کرسی، کبھی خالی نہیں چھوڑنی چاہئے۔ قبضہ کرنے کے لئے لوگ تیار بیٹھے رہتے ہیں۔ حضرت آدم کی روایت پر عمل کرتے ہوئے نعیم انیس کے دادا منشی عزیز احمد بھی قصبہ جھنجھانہ ضلع مظفرنگر چھوڑکر کلکتہ جابسے، جہاں نہ زمین اپنی اور نہ زبان اپنی۔ غالب اور داغ کلکتے کیا گئے کہ ہر اردو بولنے والا سمجھنے لگا کہ وظیفہ بھی وہیں ملے گا اور منی بائی بھی۔ کلکتہ خدا جانے کیوں ایسا بھایا کہ وہیں کے ہورہے۔ اچھے خاصے اردو بولتے بولتے بنگالی بولنے لگے۔ وہ تو بھلا ہو ان کی اولاد انیس احمدصاحب کا کہ انھوں نے اردو سے بے وفائی نہیں کی اور ان کے پوتے نعیم نے تو بالکل ہی اپنے اجداد کو شرمندہ نہیں ہونے دیا، اردو ہی کو ذریعہ تعلیم بھی بنایا اور ذریعہ معاش بھی، جبکہ بنگال میں پیدا ہوئے اور بنگالیوں میں آنکھ کھولی۔ دراصل نعیم کی والدہ بادل نخواستہ دہلی کے شیش محل کو چھوڑکر گئی تھیں۔ دلّی والے کی قسمت ہی پھوٹتی ہے جو کہیں اور جاتا ہے، ورنہ ہوتا تو یوں ہے کہ جو دلّی آتا ہے پھر کہیں نہیں جاتا۔ مثل مشہور ہے کہ دہلی کی لڑکی اور متھرا کی گائے کرم پھوٹے جو باہر جائے۔ سنا ہے مرحومہ کی آخر وقت تک یہ خواہش رہی کہ ایک باردہلی کی ان گلیوں کو پھر دیکھ لیں جن میں بچپن گزرا، جنھیں چھوڑکر ذوق اور غالب نہیں گئے۔ اگر انگریزوں کو مجبور نہ کیا جاتا تو وہ بھی دلّی کی گلیاں،نہاری اورپائے چھوڑکر نہ جاتے۔ خیر ہم کیا کرسکتے تھے اور کیا کرسکتے ہیں، البتہ اگر نعیم کے دادا کے زمانے میں ہوتے تو تھوڑا بہت سمجھاتے کہ کہاں جھنجھانہ کی شیریں فضا کو چھوڑکر جارہے ہیں۔ کلکتہ میں آپ کو مشیر جھنجھانوی، عرش ملسیانی، جگن ناتھ آزاد نہیں ملیں گے۔ اس میں نعیم انیس کو تو کسی طرح قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا، انھوں نے تو کلکتہ میں رہ کر اپنی مادری زبان یعنی اردو میں طلائی تمغہ حاصل کرلیا۔ اور بنگال میں اردو کو فروغ دینے میں لگ گئے، یعنی اردو پڑھانے لگے۔ والدہ کو بڑا سکون ملا کہ ان کے بیٹے نے ان کی لاج رکھ لی، ورنہ دلّی کی اس خاتون کو میر اور غالب کے سامنے شرمندہ ہونا پڑتا۔

  دہلی میں ہم نے بنگالی مارکیٹ تو دیکھا تھا، لیکن بنگال یعنی کلکتہ دیکھنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا جب دل میں دیکھنے کی خواہش ہوئی۔ بنگالی مارکیٹ جاکر رس گلا کھالیا، کچھ بنگالی دیکھ لئے، تشفی ہوگئی۔ کبھی کبھی تو یوں بھی ہوا کہ بنگالی مارکیٹ نہ جاکر ڈاکٹرمحمد کاظم سے کہا کہ ذرا تھوڑی دیر ہمارے سامنے بنگالی بول لو۔ ہمیں ایسا لگے گا کہ ہم بنگال میں ہیں اور یہ خواہش بھی گاہے بہ گاہے اس لئے دل میں آجاتی تھی کہ مرزا غالب کے سینے پر کلکتے کا ذکر سن کر تیر سا لگتا تھا، جبکہ ان کا مسئلہ بالکل الگ تھا۔ وہ کلکتے کی نازنینوں اور بادہ ہائے ناب کو یاد کرکے ہائے ہائے کرتے تھے۔ ہم مذکورہ وجوہات کی وجہ سے تو نہیں البتہ مطرا سبزہ زار اور میوہ ہائے شیریں کی خواہش میں مع اہل و عیال کلکتہ پہنچ گئے۔ نعیم انیس سے تو ہماری راہ و رسم بڑھ ہی چکی تھی، بس اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ آدمی ملک اور بیرون ملک اس لئے تعلقات بناتا ہے بلکہ زیادہ تر اسی لئے بناتا ہے کہ کب ضرورت پڑجائے۔ ہم نے بھی خودغرضی دکھاتے ہوئے نعیم کو اپنے پروگرام کی اطلاع کردی۔ اس کی سعادت مندی تو ہم دیکھ ہی چکے تھے۔ وہی کام آئی۔ ہوٹل وغیرہ کا معقول انتظام ہوگیا، یہ ۲۰۰۸ءکی بات ہے۔ کلکتہ جاکر احساس ہوا کہ اس نوجوان کی تو یہاں بڑی اچھی پوزیشن ہے جو دہلی میں جی سر، جی سر کے آگے کچھ نہیں کہہ رہا تھا۔ ہم لوگ رفیع احمد قدوائی روڈ پر مسلم انسٹی ٹیوٹ کے قریب ہی ٹھہرے تھے۔ غالب کا مطرا سبزہ زار تو کہیں نظر نہیں آیا، البتہ لوگوں کا اژدحام دیکھنے کو ملا۔ انگریزوں کے زمانے کی ٹرام دیکھی اور وہ مزدور بھی دیکھے جو ابھی تک رکشہ لے کر دوڑتے ہیں۔ کلکتہ میں نعیم انیس کو دیکھ کر کچھ اطمینان ہوا کہ چلو کلکتہ میں اردو کا حال اطمینان بخش ہے۔ دراصل لوگ ہجرت تو کرجاتے ہیں، لیکن اپنی جڑوں سے علاحدہ نہیں ہوپاتے۔ یورپ، امریکہ اور ماریشس کے علاوہ کئی جگہ میں نے دیکھا کہ مہاجرین اپنی زبان اور تہذیب کو بچانے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں۔ مظفرنگر کا ددھیال اور دلّی کا ننھیال کلکتہ میں نظر آیا۔ تقریباً اسّی سال پہلے جس خاندان نے نقل مکانی کی تھی وہ اب بھی اپنے وطن ہی میں کھڑا تھا۔ اس نوجوان نے بیس سال قبل اردو کے فروغ کے لئے مولانا آزاد یونیورسٹی کا پہلا بنگال میں سینٹر کھلوانے میں کوشش کی اور اس کی نگرانی کی جسے بہترین مرکز کا اعزازبھی حاصل ہوا۔ کلکتہ میں ہمارے قیام کے دوسرے ہی دن مسلم انسٹی ٹیوٹ میں ایک بڑا پروگرام ہوا جس میں مہمان خصوصی یا عمومی کے طور پر ہمیں بھی اسٹیج پر بٹھادیاگیا، ہمارے علاوہ سبھی معزز حضرات تھے۔ سابق وزیر محمد امین بھی تھے جنھوں نے بنگال میں اردو کے لئے بہت کام کیا اور کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے میئر بکاش رنجن بھٹاچاریہ بھی تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیوی کے سامنے ہماری کچھ عزت بڑھ گئی، ورنہ سب جانتے ہیں کہ شاعر ادیب کی گھر میں کیا عزت ہوتی ہے۔ غالب عمر بھر گھر میں عزت کے لئے ترستے رہے۔ آج اگر غالب کی بیوی زندہ ہوتیں تودنیامیں غالب کی عزت دیکھ کر شاید تھوڑی وہ بھی ان کی قدر کرلیتیں۔

   اگر کلکتہ نہ جاتے تو شاید ڈاکٹر نعیم انیس کو این سی ای آر ٹی والا تصور ہی ذہن میں رہتا۔ معلوم ہوا ان کی ”پرواز“ بھی بلند ہے اور ”فکر و تحریر“ بھی۔ ۱۹۹۴ءمیں ”نیاز احمد کا مطالعہ“ کیا۔ ۱۹۹۹ءمیں ”اظہار“ کرڈالا، پھر ”یادوں کے جگنو“ لے کر ”وہ لمحے یاد“ کرتے رہے۔ کبھی ”پریم چند“ کو پڑھا، کبھی ”اعزاز افضل کا کلام“ دہرایا، ”اردو کی معروف خواتین افسانہ نگاروں کی خدمات“ بتاکر انھیں خوش کیا۔ ”علامہ اقبال“ اور ”خواجہ جاوید اختر“ کو ”میزان افکار“ پر رکھا۔ ”آزادی کے بعد مغربی بنگال میں اردو ادب“ تلاش کیا۔ ”راجندر سنگھ بیدی“ اور ”انتظار حسین“ کے بعد ”اکیسویں صدی میں اردو ناول“ اور ”اکیسویں صدی میں اردو افسانہ“ پر گفتگوکی، ”بیدل مرشد آبادی کی غزلیات“ کے ساتھ ساتھ ”بیگم رقیہ“ کی شخصیت پر بھی اظہار خیال کیا۔ اسی لئے تو گزشتہ بیس سال سے اس نوجوان کو مستقل انعامات سے نوازا جارہا ہے۔ کبھی بنگال سے ،کبھی اترپردیش اور کبھی حیدرآباد سے۔ میں بار بار نعیم انیس کو نوجوان اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ابھی تو پچاس ہی پار کیا ہے اور پھر اسے نوجوان کہوں گا تبھی تو خود کو جوان سمجھوں گا۔ ویسے اردو والے ستّر اسّی تک تو جوان ہی رہتے ہیں۔ نعیم انیس کے باپ دادا بنگال جاکر بس گئے۔ نعیم کی پیدائش اور تعلیم بھی وہیں ہوئی، روزی روٹی بھی بنگال میں مل رہی ہے۔ واپسی کے بھی کوئی امکانات نہیں ہیں، پھر بھی بنگالی نہیں لگتے۔ بنگالی تو وہ ہوتا ہے جو ڈرامہ کرتا بھی ہے اور کراتا بھی ہے۔ یہ تو نہ ہدایت کار ہیں، نہ اداکار، بس قلمکار ہیں۔ ہوش سنبھالتے ہی قلم پکڑلیا۔ ایسے ہی فعال نوجوانوں کے پاس اگر اردو کا قلم رہے گا تو ان شاءاللہ اردو کو کچھ نہیں ہوگا، باقی کسی کو کچھ بھی ہو۔ لوگ ہجرت کرتے رہیں گے اور اردو پھلتی اور پھیلتی رہے گی۔

پروفیسر ابن کنول

شعبہءاردو، دہلی یونیورسٹی،دہلی

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here