المیہ : ماہرین تعلیم اور حکومتوں کے سامنے ایک بڑا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ اس ”ڈیجیٹل ایج” یعنی جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں بچوں کو کیا اور کیسے تعلیم دی جائے کہ اپنے علمی، ذہنی اور عملی امکانات اور رجحانات کے مطابق وہ بہترین انسان اور مفید شہری بن سکیں اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیتوں اور دیگر ضروری مہارتوں سے مزین ہو سکیں۔ سب سے زیادہ تشویش اس امر پر ہے کہ ہمارے ہاں بچوں کو یہ تو سکھایا جاتا ہے کہ وہ کیا سوچیں، لیکن یہ نہیں سکھایا جاتا کہ کس طرح سوچیں۔ نتیجے میں ایک ایسی نسل تیار ہوتی ہے جو آمنا و صدقنا کہہ کر بنے بنائے رستوں پر چلنا شروع کر دیتی ہے۔

جو بھی تدریس اور ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ ہے یا رہا ہو اس کا سابقہ ضرور  ایسے طلباء سے پڑا ہو گا جو  بہت مشکل ثابت ہوئے ہوں گے ۔ ہر ٹیچر کو ایسے بچوں سے واسطہ ضرور پڑتا ہے جن  کو پڑھانا ان کے لیے مشکل ثابت ہوتا  ہے،  لہذا ہر ٹیچر کے پاس اس حوالے سے ایک الگ کہانی ہو سکتی ہے، کہ فلاں بچے نے ان کو ٹھیک طرح سے جواب نہیں دیا یا فلاں بچہ ان کی باتوں پر ہنس رہا تھا یا ان کی ہدایات پر صحیح سے عمل نہیں کر رہا تھا۔ یہ بات بھی اہم رکھتا ہے کہ  آپ کے پڑھانے کا طریقہ کار کیسا ہے اور اگر آپ کا ا سٹوڈنٹ آپ کو فالو اپ نہیں دے رہا تو اس کی کیا وجہ ہے؟  کیونکہ کسی کے برتاؤ میں تبدیلی لانا آسان نہیں ہوتا۔ یہ ایک چیلنج ہے کہ مشکل بچوں کو کس طرح ہینڈل کیا جائے اور کس طرح کی صورت حال سے کس طرح نمٹا جا سکتا ہے۔ یہی وجوہات آپ کو  ایک اچھا ٹیچر بھی  بنا دیتا ہے  ۔آج میں آپ سے کچھ مفید معلومات شیر کر نا چا ہتا  ہوں کہ مشکل بچوں کو کس طرح ہینڈل کیا جا سکتاہے۔

کسی ایک بات کو فوکس کر لیں

 اگر کبھی کوئی بچہ پیچھے اپنے ماضی میں اپنے ٹیچرز کے ساتھ اگر بدتمیزی کر چکا ہو تو یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ حال میں بھی ایسا ہی ہو گا۔ اور اگر وہ بدتمیز رہا بھی ہو تو اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سب سے اہم وجہ صحیح کونسلنگ کا نہ ہونا ہے۔ جب اسکول میں کام شروع کیا جائے تو اپنے تمام تر ساتھیوں (ٹیچرس ) کے ساتھ بہتر پیشہ وارانہ تعلقات بنائیں اور ان سے تمام کلاسز کے بچوں کے حوالے سے بات چیت کریں۔ اور اس کے بعد مختلف کلاسوں میں دوسرے اساتذہ کے ساتھ جائیں اور بچوں سے مختلف نوعیت کے سوالات کریں۔ اور سوالات کرنے کے دوران اس بات پر غور کریں کہ کون سے بچے ڈسپلینڈ ہیں، کون پڑھائی میں اچھے ہیں اور مل جل کر ساتھ رہتے ہیں۔ کون کس کو تنگ کرتا ہے اور کون تمام تر سرگرمیوں میں آگے رہتا ہے۔ اور ایسے میں یہ کوئی ایسی انوکھی بات نہیں ہو گی جب کوئی ٹیچر آپ کو خود سے بتائے گا کہ فلاں بچہ ایک مشکل بچہ ہے۔  ہفتے میں ایک بار مشکل بچوں کے ساتھ ایک ملاقات  کریں۔ ان کے ساتھ کھل کر کر بات کریں ان کے مسائل کو جانیں اور سمجھیں۔ کیونکہ جو بچے شرارتی ہوتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کے سابقہ اساتذہ نے ان کو ایسا ماحول دیا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ ایسا کرتے ہیں۔ ایسے بچوں کو سمجھانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ شرارتی نہیں ہیں ان کے ساتھ محبت سے پیش آئیں اور ان کو بتائیں کہ ان کو اپنے بڑوں سے کس طرح پیش آنا چاہیے۔

سرپرست اور رہنما بنیں

ایسے بچوں کو کبھی کبھار پڑھانا کافی مشکل ہو جاتا ہے جو مختلف حالات سے گزر کر آئے ہوں جیسا کہ وہ بچے جو والدین کی عدم توجہ کا شکار ہوں، وسائل کی عدم دستیابی، اور کبھی کبھار گھریلو تشدد یعنی اگر بچے کو نامناسب رویے کی وجہ سے گھر میں مار پڑتی ہو۔ ایسے بچوں کے لیے خود کو سرپرست اور رہنما بنا لیں کیونکہ ایسے بچوں کو کونسلنگ کی اشد ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ان کا پس منظر کافی مشکل ہوتا ہے اور ایسے بچوں کو ڈیل کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے کیونکہ جو بچے خاص کر اپنے گھروں میں نظر انداز ہو رہے ہوتے ہیں ان کو توجہ کی خاص طور پر ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کے ساتھ بہت شفقت سے پیش آئیں ان کے مسائل کو ذاتی مسائل سمجھ کر سنیں اور سلجھانے کی کوشش کریں۔ ایک اچھا سرپرست بننے کے لیے بہت ضروری ہے کہ آپ کا اپنا کردار مثبت ہو اور بچہ آپ پر مکمل بھروسہ کر سکے۔

تعلق مضبوط کریں

اگر آپ ایک اچھے سرپرست بننے کی اہلیت رکھتے ہو تو اس کے بعد دوسرا مرحلہ بچوں کے ساتھ ایک مضبوط تعلق بنانے کا ہے۔ ایسے بچے جن کے ساتھ شروع سے مختلف مسئلے مسائل رہے ہوں کو ایک اچھی کونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کے ساتھ مہربانی اور شفقت والا سلوک کریں اور ان کو انفرادی توجہ دیں اور ان کے مسائل کو توجہ سے سنیں ان کے محسوسات کو سمجھیں اور ان کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کریں۔ ان سے ان کے مستقبل کے حوالے سے بات کریں کہ وہ آگے زندگی میں کیا کرنا چاہتے ہیں کس شعبے میں جانا چاہتے ہیں۔ اگر ان کا رویہ کلاس میں اچھا نہیں ہے تو ان کو کونسلنگ کی اور بھی زیادہ ضرورت ہے۔ ان کے ساتھ ایسا تعلق بنا لیں کہ وہ آپ پر بھروسہ کرنے لگیں۔

ان کے مسائل کو ذاتی طور پر لیں

جب بھی کوئی بچہ کلاس میں مشکلات پیدا کر رہا ہے تو اس کو طریقے سے ہینڈل کریں اور اس کو سب کے سامنے نہ ڈانٹیں نہ کچھ اور کریں بلکہ ان کو الگ سے لے جا کر سمجھائیں، اس طرح آپ کو اس طرح کے مشکل بچوں سے ہینڈل کرنے میں بہت آسانی ہو جائے گی۔ اگر کوئی بچہ کسی سے لڑے یا بریک ٹائم میں کچھ ایسا کرے تو اس کو سمجھائی کہ آپ اس کے رویے سے خوش نہیں ہوئے ہیں اور اس کو ڈانٹنے کی بجائے پیار سے سمجھائیں کیونکہ بچے بہرحال پیار کی زبان سمجھتے ہیں۔

آپ کچھ بھی توقع کر سکتے ہیں

اسکول میں ہر طرح کے بچے آتے ہیں کچھ شرارتی کچھ بہت ذیادہ شراتی اور مختلف قسم کے ماحول سے آتے ہیں لہذا کچھ بھی توقع کی جا سکتی ہے کہ کس طرح کے بچے سے سابقہ پڑ جائے۔ لیکن اگر آپ ان تمام تر ٹپس کو مدنظر رکھ کر بچوں کو ہینڈل کریں گے تو آپ یقینی طور پر کامیاب رہیں گے۔

مسعود عالم ، نئی دہلی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here