ہر تنظیم اور ادارے کا ایک فکری پس منظر ہوا کرتا ہے ،جس کے مطابق ایجنڈے بنائے جاتے ہیںجن کے نفاذ کے لئے منصوبہ بند طریقے سے آگے بڑھا جاتا ہے،آر ایس ایک ایسی تنظیم ہے جس کے ایجنڈوں سے کوئی بھی نابلد نہیں ہے ،سب کویہ بھی معلوم ہے کہ بھاجپا آر ایس ایس کی سیاسی ونگ ہے ،اس نے اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لئے ہی اس ونگ کا قیام کیا تھااور دھیرے دھیرے وہ اپنے مقاصد حاصل بھی کر رہی ہے۔مرکزی حکومت کا پے درپے یہ تیسرا ایسا بل ہے جو آر ایس ایس کے ایجنڈے کے مطابق بڑی حصولیابی ہے۔تین طلاق کے بعد کشمیر سے دفعہ 370کا خاتمہ اور پھر اس کے بعد اب شہریت ترمیمی بل دونوں ایوان سے پاس ہو کر اس پر صدر جمہوریہ نے دستخط کرکے قانونی حیثیت دے دی ہے۔یہ تینوں بل جہاں عوامی جذبات کے خلاف ہیں وہیں ملک کے قانون سے بھی متصادم ہیں ،اس کے باوجود حکومت نے اس کو پاس کیا اور صدر جمہوریہ نے اس پر دستخط کئے کیونکہ ارباب حکومت کی نظر میں صرف حکومت اور آئین نہیں ہے بلکہ ان کے سامنے ان کے اپنے ایجنڈے ہیں جس کے لئے وہ 95برس سے عملی طور کر کوشاں تھے۔اس بل کی زد میں یوں تو مشرقی ریاستوں کی تہذیب و ثقافت پر بھی آئے گی لیکن سب سے زیادہ اس سے مسلم متاثر ہوں گے اس کے باوجود مسلم قیادت ریگزار میں شتر مرغ بنی ہوئی ہے۔

قیادت کی یہ ذمہ داری ہوا کرتی ہے کہ وہ قوم کی ہر معاملے میں نہ صرف رہنمائی کرے بلکہ ہر معاملے میں وہ سب سے آگے رہے،جب وہ رزم میں قائدانہ کردار ادا کرتی ہے تو بزم میں سب سے اونچی مسند ملتی ہے،لیکن اگر کسی قوم کی قیادت رزم میں ہراول دستے میں سب سے آگے ہونے کے بجائے چھپنے کی کوشش کر نے لگے یا میدان چھوڑ کر راہ فرار اختیار کر لے تو اس کو مسند ملنے کی بجائے ذلت اس کا مقدر ہوجاتی ہے۔مسلمانوں کی قیادت کی روشن تاریخ رہی ہے ،مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمة اللہ علیہ نے پانچ جلدوں میں ”تاریخ دعوت و عزیمت “ لکھ کر ایسے قائدین کونہ صرف خراج عقیدت پیش کیا ہے بلکہ نئی نسل کو روشنی دکھائی ہے ،جس میں ہر میدان کے قائدین کا تذکرہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ کن نا مساعد حالات میں ہمارے بزرگوں نے قوم کی قیادت کی اور ان کی رہنمائی میں بڑے بڑے معرکے سر کئے ،یہ معرکے فکری بھی تھے اور مادی بھی،لیکن شایداس طرح کی کتابیں یا تاریخ صرف پڑھنے کے لئے لکھی گئی ہیں ان سے روشنی حاصل کرنے کے لئے نہیں ،اگر ایسا نہ ہوتا تو شہریت ترمیمی بل پیش ہونے کے بعد ہماری قیادت اپنی ذمہ داریوں سے اس طرح راہ فرار اختیار نہ کرتی ۔

پارلیمنٹ میں دوران بحث ایک طرف پروفیسر منوج کمار جھا اس بل پر بحث کے دوران یہ کہنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ ہندستان ایک نئے فلسطین کی طرف بڑھ رہا ہے ،وہ اس بل کے ذریعہ ہندستان کو فلسطین بنانے جا رہا ہے جس میں حکومت کا کردار اسرائیل کا ہوگا اور مسلمان فلسطینیوں کی طرح ہوں گے۔سماجی کارکن ہرش مندر یہ اعلان کرتے ہیں کہ میں اب سول نافرمانی کرتے ہوئے خود کو مسلمان بتاو¿ں گا۔دوسری طرف مسلم پرسنل لابورڈ کہہ رہا ہے کہ شہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاج بورڈ کے دائرہ سے باہر ہے ۔کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جب پورا ملک جل رہا ہے ،ہر طرف اس بل کی مخالفت میں ہاتھوں میں مشعلیں ہیں،باضمیر افسراعلی سرکاری ملازمتوں سے مستفعی ہو رہے ہیں ،بنارس ہندو یونیورسٹی جیسے ادارے کے پروفیسر مخالفت میں اپنے سرکاری ایوارڈ واپس کرنے کے اعلان کر رہے ہیں،یونیورسٹیوں کے اساتذہ وہ طلبا سڑکوں پر ہیں،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا ہاسٹلوں میں کھانا ترک تر ک کر رہے ہیں،یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طالبات سڑکوں پر نکل کر حکومت وقت کے خلاف نعرے بلند کر رہی ہیں اور مسلم قیادت اعلان کر رہی ہے کہ یہ عمل بورڈ کے دائرے سے باہر ہے ۔ازہر ہند دار العلوم دیوبند کا ایک اعلان سوشل میڈیا پر گشت کر رہا ہے کہ طلبا درس و تدریس میں منہمک رہیں ،کوئی بھی طالب علم باہر نہ نکلے ،غیر علمی سرگرمی میں ملوث نہ ہو ،اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے توادارے سے اس کا تعلق ختم کردیا جائے گا۔اندازہ لگا یئے اس بے حسی کا جس کا مسلم قیادت شکار ہے۔ضرورت تو اس بات کی تھی کہ ازہر ہند اپنی روشن تاریخ کو دہراتا اور حکومت وقت کو یہ باور کراتا کہ مدارس کا جو جال پھیلا گیا تھا اس کا تعلق صرف درس و تدریس سے نہیں ہے بلکہ ماضی کی طرح قوم کے جیالے پیدا کرنا ہے جو ہر محاذ پر ظلم کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہو جائیں گے،اس کو کرنا یہ تھا کہ پورے ہندستان کے مدارس کے ذمہ داران کی قیادت کرتے ہوئے اس ظالمانہ بل کے خلاف ان کو متحد کرتا اور مدارس کے طلبا کو حکومت کے خلاف سڑکوں پر لا کر اس قوم کی طرف سے احتجاج درج کراتا ۔

شہریت ترمیمی بل کس قدر خطرناک ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس کی زد میں سب سے زیادہ مسلمان ہی آئیں گے اس میں کوئی شک نہیں ،جس کی سب سے بڑی وجہ اس بل کا فکری پس منظر ہے۔ہاتھی کے دانت کھانے کے لئے اور ہوتے اور دکھانے کے لئے اور ،یہی حال اس بل کا ہے۔کہنے کو تو مظلوموں کے آنسو پونچھنے کے لئے یہ بل لایا گیا ہے لیکن حقیقت میں ساورکر کے دو قومی نظریہ کو عملی شکل دینے کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے،جس کے توسط سے ہندو اور مسلمانوں کے بین خط امتیاز ہی نہیں کھینچا جائے گا بلکہ ہندستانی مسلمانوں کو بغیر کا باشندہ بنانے کے منصوبے کو عملی شل دے دی جائے گی۔اسی لئے پروفیسر منوج کمار جھا ہندستان کو فلسطین بنتا دیکھ رہے ہیں۔یہودی لابی زیر اثر امریکہ میں بھی وزیر داخلہ پر پابندی کی سفارشیں ہو رہی ہیں کیونکہ مسئلہ بنیادی حقوق کی سلبی کا ہے لیکن مسلم قیادت خواب خرگوش میں مبتلا ہے۔اس وقت ملک میں تین سطح پر مظاہرے ہو رہے ہیں ،مشرقی ریاستوں میں پر تشدد مظاہرے ہو رہے ہیں وہ سڑکوں پر اس لئے آگئے ہیں کیونکہ ان کو اپنی تہذیب و ثقافت،زبان اور وسائل و ذرائع کی فکر ہے ،یہی وجہ ہے کہ دیما پور یونیورسٹی سمیت متعدد دیگر یونیورسٹیوں کے اساتذہ تک طلبا کے ساتھ میدان میں ہیں ،ان کو آنے والی نسلوں کو کی فکر ہے ،وہ جانتے ہیں کہ یک ”لحظہ غافل بودم و صد سالہ را ہم دور شد“کی حالت میں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ فیصلہ کن لڑائی لڑ رہے ہیں،دوسری سطح پر وہ سماجی کارکن اس بل کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں جو حقوق انسانی کے لئے لڑتے رہتے ہیں ،وہ صاف طور پر دیکھ رہے ہیں کہ اس بل کے نفاذ کے بعد مسلمانوں کے حقوق سلب کر لئے جائیں گے ،ان کی زندگی جہنم بن جائے گی،وہ اس ملک کے معزز شہری ہیں لیکن اس بل کی وجہ سے ان کی شہریت ہی خطرے میں پڑ جائے گی ،اس لئے وہ سڑکوں پر نکل آئے ہیںاور تیسری سطح سرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم مسلم طلبا و طالبات ہیں جو ملک کا مستقبل دیکھ رہے ہیں،ان کو نظر آ رہا ہے کہ شہریت ترمیمی بل کے بعد مسلمان ایک اور اسپین سے گذریں گے،عز وشرف کی ان کی قبا پہلے ہی کیا کم چاک تھی اس بل کے بعد تو وہ تار تار ہی نہیں ہوگی بلکہ پوری طرح سے کھینچ لی جائے گی۔

ان تینوں گروہوں کی آواز دبانے کے لئے سرکار نے ٹیلی ویژن چینلوں کو ایڈوائزی تک جا ری کردی ہے کہ ان کے مظاہروں کو کور نہ کیا جائے تاکہ ملک کے عوام تک ان کی آواز نہ پہنچ سکے ،حکومت اظہار رائے کی آزادی پر بھی قدغن لگانے کی کوشش کر رہی ہے ،اتنا سب ہونے کے باوجود اگر کوئی خاموش ہے تو مسلم قیادت اور سیاسی پارٹیاں ہیں۔سیاسی پارٹیاں اپنی سیاسی وجوہ سے دھرنے و مظاہرے کرتی ہیں ،ان کی خاموشی سے ان کی بھی قلعی کھل رہی ہے لیکن مسلم قیادت کی خاموشی انتہائی ددرجے کی بے حسی کی علامت ہے ۔جمہوریت میں حکومت اور پارلیمنٹ ہی سب کچھ نہیں ہیں،ان دونوں سے زیادہ عوام کی قدر و قیمت ہے ،وہ احتجاج کے ذریعہ حکومت کو مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے واپس لے لیکن اس کے لئے ثابت قدمی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہاں جب قدم ہی باہر نہیں نکلے ہیں تو پھر ان کے ثابت رہنے کی بات ہی بے معنی ہو جاتی ہے۔

قوم اس وقت بھی اپنی قیادت کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی ہے،وہ انتظار کر رہی ہے کہ کوئی اس کی قیادت کرنے والا سامنے آئے جس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر وہ اپنے حقوق کی لڑائی لڑیں ۔اگر اس وقت ان قائدین نے ان کی قیادت نہ کی اور میدان میں نہ آئے تونہ قوم بچے گی ،یہ قائدین اورنہ ہی ان کی دستار و قبا سلامت رہے گی۔مسلم قیادت کواس بل کو وقتی تصور کرنے کی غلطی نہیں کرنا چاہئے بلکہ ان کو اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہئے کہ ہندستان کی تاریخ میں ان کے وجود کے لئے اب تک کا سب سے خطرناک بل پیش کیا گیا ہے۔یہ اس ملک کی خوش قسمتی ہے چند فتنہ پردازوںاور سازشوں کے مقابلے ایسے برادران وطن کی تعداد زیادہ ہے جو ہر طرح کے نامساعد حالات میں مسلم بھائیوں کے ساتھ نہ صرف کھڑے رہتے ہیں بلکہ ان کے حقوق کی لڑائی میں تن من اور دھن سے ان کا ساتھ دیتے ہیں،ساتھ دینے والے میدان میں آچکے ہیں ،بس جن کو مدد کی ضرورت ہے وہی خواب خرگوش میں مبتلا ہے تو اس میں ان کا کیا قصور ہے۔

تحریر : محمد حنیف خان

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here