مخصوص میڈیاچینل کے ذریعہ قومی وعالمی سطح پرہندوستانی مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مہم عروج پر

پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعہ پریس کونسل آف انڈیا کا قیام ۱۹۶۶ءعمل میں لایا گیا تھا تاکہ یہ ادارہ منظم طور پر ملک میں موجود تمام طرح کے الیکٹرونک ، پرنٹ میڈیا کی نگرانی کرتا رہے۔ میڈیا کا کام بنیادی طور پر یہی ہے کہ یہ اپنے تمام طرح کے مواد یا خبریں شائع کرنے میں آزاد تو ہے مگر مکمل جوابدہی کے ساتھ اس کے ذریعہ کسی بھی شہری کی دل آزاری یا مذہبی منافرتی تشریح کرنا جس سے دو مذاہب کے لوگوں کے درمیان رسہ کشی کی نوبت آن پڑے اس سے بچنا ہوگا۔مگر گزشتہ کئی برسوں سے ملکی سطح کے زیادہ تر الیکٹرونک وپرنٹ میڈیا میں حقیقی معلوماتی موادکی عدم فراہمی ، ملک میں موجود داخلی ضروریاتی مسائل سے چشم پوشی ، جن میں روزگار، بھوک مری، تعلیم، حکومتی اداروں میں سیاسی بالادستی، حکومت میں بیٹھے لیڈروں کی جانب سے قانون کا بے جا استعمال، ملک میں موجودہ ذات پات، بھید بھاﺅ، مذہبی جذبات کی ناقدری اور استحصال سرفہرست ہیں ان تمام مسائل کو بالائے طاق رکھ کر اس وقت میڈیا اہلکار برسر اقتدار حکومتی کارندوں کی قصیدہ خوانی میں مصروف عمل ہوتے جار ہے ہیں۔ خواہ وہ مرکزی حکومت ہو یا پھر ملکی سطح پر ریاستی حکومتیں تقریباً کسی نہ کسی زاویے سے میڈیا برسراقتدار حکومتوں کی واہ واہی کرتے ہوئے ہر محاذ پرمعتصبانہ ذہن کے ساتھ طرفداری کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔کچھ ہفتوں قبل ایک انگلش نیوز پیپرجس کا نام ”اسٹار آف میسور “ ہے اس اخبار کے اڈیٹوریل صفحے میںایڈیٹر :ایم گوند گوڑا ۔کے ذریعہ ملک کے ۲۲کڑور مسلمانوں کے خلاف بہت زیادہ تحقیرانہ وقابل گرفت اداریہ شائع کیا گیا جس میں ملک کے مسلمانوں کو ”سڑے ہوئے سیب سے تشبیہ دیتے ہوئے یہ کہا گیا کہ ان کو ملک سے نکال دیا جانا چاہئے ۔ اس مکمل اداریہ میں ملک کے مسلمانوں کی نسل کشی کردئے جانے کی بات کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جبکہ ملک میں موجود قانون کے لحاظ سے کسی بھی کمیونیٹیمذہب یا ذات کے سبھی افراد کو کسی بھی طرح کے قانونی خلاف ورزی عمل پرذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتابلکہ کسی بھی کمیونیٹی مذہب یا ذات سے تعلق رکھنے والے افراد یا فرد کے خلاف ورزی عمل پر صرف انہیں افراد یا فرد پر قانونی چارہ جوئی ہوگی جو اس میں ملوث ہے نہ کہ مکمل کمیونیٹی مذہب یا ذات کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ ایسے تمام متنازعہ مواد کو اپنے چیانل یا اخباروں میں چھاپنے والوں کے خلاف پریس کونسل آف انڈیا کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس کے خلاف ایکشن لے سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں سوشل ویب سائٹ، سوشل میڈیا،الیکٹرونک وپرنٹ میڈیا کے ذریعہ ملک میں موجودمسلمانوںکے خلاف ایک بھیانک افسردگی سے لبریزمتشددسماج کی تشکیل جیسے سنگین حالات کو جنم دیتے ہوئے ملک میں موجود اکثریتی طبقے میں نفرت وحقارت اور آپسی رنجش وقتل وغارت گری کا بازار کافی زور وشور سے پروان چڑھا ئے جانے کی روایت پرزور طریقے سے ایک سازش کے تحت عام کیا جار ہا ہے۔ زمینی سطح پر اس کا خمیازہ عام وبے گناہ شہریوں کو جھیلنا پڑرہا ہے۔ نفرت اتنی زیادہ پھیل چکی ہے کہ آج ایک کمیونیٹی کے لوگ دوسری کمیونیٹی کی اچھائیوں کو بھی تحقیرانہ انداز میں دیکھتے نظر آرہے ہیں۔ کچھ روز قبل ہماچل پردیش کے ایک نوجوان محمد دلشاد نامی لڑکے نے ہمدردی کے جذبے سے سرشار ہوکرانسانیت کے ناطے دولوگوں کو اپنے اسکوٹر میں کار خیر سمجھ کر بیٹھالیا۔اس نے یہ نہیں دیکھا کہ ان دو انسانوں کا دھرم یا مذہب کیا ہے۔ چونکہ اصل میں ان دونوں افراد کا تعلق دوسرے مذہب سے تھا اس لئے محمد دلشاد کے اس انسانی ہمدردی والے عمل کی وجہ سے ان دونوں افراد کے گاﺅں کے لوگوں نے محمد دلشاد نامی لڑکے کو پولیس کے حوالے کردیا ۔ پھر محمددلشاد کو”کورونا“ جیسی مہلک بیماری کے شبہ میں ٹسٹ کیا گیا جس کے بعد ڈاکٹروں کی جانب سے محمد دلشاد کو نیگیٹیو قراردیا گیا اس کے باوجود اس کو کورونٹائن کیلئے بھیج دیا گیا۔ جب محمددلشاد اپنے گھر واپس آیا تووہ اس ناگہانی صورتحال کے واقع ہونے کی وجہ سے ذہنی طو پر کافی زیادہ وحشت میں مبتلا ہوگیا ۔ جس کی وجہ سے پولیس کی گرفت سے آزاد ہونے کے دوسرے ہی دن دلشاد نے خود کشی کرلی ۔ اپنے خودکشی نوٹ میں اس نے جو لکھا وہ واقعی دل دہلادینے والے الفاظ ہےں : ”میں کسی کا کبھی دشمن نہیں ہوں“۔ اس کے خود کشی کرنے بعد وہاں کے ڈی جی پی نے لوکل لوگوں سے درخواست کی کہ اس طرح کے عمل کسی بھی سماج میں قابل قبول نہیں ہےں۔قومی سطح کے زیادہ تر الیکٹرونک میڈیانے جس میں کئی بڑے مشہور ٹی وی چیانل ہیں ان سب کے ذریعہ اس وقت موجودہ مرکزی حکومت کی پشت پناہی میں تبلیغی جماعت کی آڑمیں ملک میں موجود تمام مسلمانوں کی شبیہ کو داغ دار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جبکہ قانونی ودستوری لحاظ سے چند افراد کے کسی جرم میں ملوث ہونے سے کسی جماعت یا کمیونیٹی کے سبھی افراد کو اس جرم کی سزا نہیں دی جاسکتی ہے۔ مگر قومی سطح کے زیادہ تر میڈیا چیانل کے ذریعہ تبلیغی جماعت کو کورونا جہاد، تبلیغی وائرس، تبلیغی مسلمانوں کے تعلقات طالبان سے وغیرہ وغیرہ جیسے الزامات کے ذریعہ مسلمانوں کی ایک جماعت کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی بھرپور کوشش کی جار ہی ہے۔ انہیں میڈیا چیانل کی وجہ سے دہلی اسمبلی الیکشن کے بعد ملک کی راجدھانی دہلی میں دنگابھڑکا کر فساد کا ماحول بناتے ہوئے مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ۔ مسلمانوں کی مسجدوں کو شہید کرتے ہوئے میناروں پر بھگواجھنڈا لگادیا گیا۔ مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو لوٹا گیا ۔ مگر ان سب کے باوجود دہلی حکومت یا پھر مرکز میں موجود بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی طرف سے گناہ گاروں کے خلاف کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں کی گئی ۔ اس کے علاوہ قانون کا پاس ولحاظ کرتے ہوئے جب مسلم عورتوں کی جانب سے مرکزی حکومت کی شہریتی ترمیمی قانون کے خلاف پرامن احتجاج کیا گیا تو انہیں میڈیا چیانل کی طرف سے مسلم عورتوں پر طرح طرح کے غیر سماجی طعنے اور غیر سماجی الزامات عائد کئے گئے جوکہ بہت زیادہ دردناک اور شرمناک عمل تھا۔

انہیں تمام وجوہات کے پیش نظر قومی سطح پرمسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا اثر عالمی منظر نامے میں بھی ابھرنا شروع ہوا۔ جس کے مد نظر خلیجی ممالک کے حکمرانوں کی طرف سے بالخصوص آرگنائزیشن آف اسلامک کارپوریشن (اوآئی سی)کے علاوہ مسلم ممالک کے کئی سربراہوں کی طرف سے پرزور مذمتی بیان آنا شروع ہوا۔ ان تمام عالمی سطح کے رد عمل کو قومی سطح کے میڈیا چیانل یا ہمارے وزیر خارجہ کی طرف سے خارج کردیا گیا ۔ مگر بات وہیں پر نہیں رکی ۔ میڈیا کے ذریعہ آئے دن نئے نئے حربوں کو استعمال کرتے ہوئے ملک میں موجود مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کی مسلسل کوشش جاری رہی ۔ جس کے پیش نظر ۴۰۰۲ءکے بعد دوسری مرتبہ امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی( یوایس سی آئی آر ایف)کی طرف سے اس عظیم ملک کو عالمی سطح پر بدنامی کا سہرا پہنا دیا گیا ۔ امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی( یوایس سی آئی آر ایف)کی طرف سے ہندوستان کو عالمی سطح پر ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کردیا گیا جہاں پر بہت زیادہ قتل وغارت گری، ظلم وستم ، لوٹ کھسوٹ کا بازار کافی عروج پر پہنچ چکا ہو۔ یعنی کنٹریز آف پارٹیکولر کنسرن(سی پی سی ) کی فہرست میں شامل کردیا گیا۔ امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی( یوایس سی آئی آر ایف)کا قیام ۸۹۹۱ءمیں ہوا تھا۔ واضح رہے کہ امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی( یوایس سی آئی آر ایف) کے ذریعہ عالمی سطح پرمذہبی منافرتی اعمال پرگہرائی سے نگرانی رکھی جاتی ہے۔جس کے پیش نظر عالمی سطح پر ہر سال یہ کمیشن اپنی رپورٹ پیش کرتی ہے۔عالمی سطح پر ہندوستان کیلئے یہ ایک شرمناک بات ہوگی کہ امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی( یوایس سی آئی آر ایف) نے امسال کی اپنی رپورٹ میں ہندوستان کو میانمار، سیریا، ویتنام، نائیجیریاوغیرہ جیسی ممالک کے فہرست میں شامل کردیا ہے۔ امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی( یوایس سی آئی آر ایف) کے ذریعہ ہندوستان کے متعلق کہا گیا ہے کہ ” ہندوستان میں  اقلیتوں کو بہت زیادہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑہا ہے۔ میڈیا کا روز بروز جانبدارانہ رویہ بڑھتا جارہاہے۔ ہندوستان میں موجود غیر ہندو طبقے کے زیادہ تر لوگ ڈر کے ماحول میں جی رہے ہیں۔ فروری۰۲۰۲ءمیں دہلی میں ہوئے دنگوں کا ذکر کرتے ہوئے اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی وزیر داخلہ اس دنگے کو روکنے کیلئے ناکام رہا ہے۔ ہندوستان میں شہریتی ترمیمی قانون پر تنقید کرتے ہوئے اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کے ذریعہ ہندوستان کے اقلیتی طبقے کے ساتھ استحصالی رویہ اپنانے کی کوشش کی گئی ہے جس کے ذریعہ مذہبی منافرت کافی تیزی سے پھیلنے کی امید ہے۔آگے امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی( یوایس سی آئی آر ایف) نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ عالمی سطح پر سب سے زیادہ اگر کسی ملک میں مذہبی جذبات کو مجروح کیا گیا ہے تو وہ ہندوستان ہے“۔ امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی( یوایس سی آئی آر ایف) کی اس رپورٹ کے ذریعہ عالمی سطح پرہندوستانی کی شبیہ خراب ہونے کے ساتھ بیرون ممالک میں رہائش پذیر ہندوستانی شہریوں کو مصائب وامتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ان تمام واقعات میں دن بدن اضافے پر مرکزی حکومت کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے اروندھتی رائے نے کہا ہے کہ یہ ملک کئی سو سالوں سے مختلف مذاہب کا گہوارہ رہاہے۔ اگر مرکزی حکومت اس پر خاموش رہ کر مسلمانوں پر ہورہی مظالم وقتل کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرتی ہے تو جب مسلمان اس ملک میں نہیں رہیں گے تو یہاں کی اکثریتی طبقے کے لوگ اونچی ذات ، نیچی ذات میں تقسیم ہوکر آپسی خانہ جنگی میں ملوث ہوجائےں گے۔ از روئے ”دستورہند “حکومت میں موجود کوئی بھی فرد کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی مخصوص طبقے کی مفاد میں کرے۔ یا کسی مخصوصی طبقے پر ہونے والی ظلم وزیادتی پر خاموش رہ کرمخالف فریق کا ساتھ دے۔مرکزی وریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ میڈیا کے ذریعہ پھیلائی جارہی متعصبانہ اور جانبدارانہ رویہ اور کسی بھی معصوم وبے گناہ یا ملزم فرد کو مجرم قرار دے دینے کے خلاف فوری قانونی کارروائی کرتے ہوئے ایسے تمام میڈیا چیانل یا پرنٹ میڈیا کے لائنسنس کو رد کردیا جائے۔ متعصب اور جانبدارانہ رپورٹنگ کے ذریعہ سماج میں تفریق پیداکرنے والے میڈیا پرسن کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے انکو مجرم قرار دیکر سزا دی جائے ۔ تاکہ اس پرامن ہندوستان میں رہنے والے کڑوروں مسلمان اور کڑوروں ہندوﺅں کے درمیان آپسی بھائی چارگی قائم رہے۔ مرکزی وریاستی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ ذاتی ومذہبی بھید بھاﺅ کو کنارے کرتے ہوئے ہندوستان کو تعمیری وترقیاتی راستے پر گامزن کرے ۔ جس سے ہندوستان کو پوری دنیا ”ویشوگرو“ کہنے میں کوئی عار کا احساس نہ کرے۔

محمد انجم راہی

نیومارکیٹ ‘کانکی‘اسلامپور ‘بنگال

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here