دہلی کے اسمبلی انتخابات میں اسی پارٹی کو عوام نے دوبارہ منتخب کیا ہے جو اس پر پانچ برس تک حکمرانی کر چکی تھی،اکثر و بیشتر دیکھا یہ گیا ہے کہ حکمراں پارٹی انتخابات میں بیک فٹ پر پہنچ جاتی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ عوام کی امیدوں اور امنگوں کو پورا نہ کرنا ہوا کرتا ہے یا پھر اگر جیتتی بھی ہے تو فاصلہ بہت کم ہوتا ہے لیکن دہلی میں ایسا کچھ نہیں ہوا سابقہ جیت کے مقابلے بہت معمولی فرق دکھائی دیا جو کوئی بڑی بات نہیں۔لیکن سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ آخر دہلی میں ایسا کیوں کر ممکن ہوسکا ؟وہ کیا اسباب و وجوہ ہیں جن کی بنا پر حکمراں پارٹی کو دہلی کے عوام نے ایک بار اقتدار سونپا اور ان لوگوں کو اقتدار سے دوررکھا جو ملک و قوم کی سر بلندی کی باتیں کیا کرتے تھے ۔ایسی پارٹی کو زمام حکومت نہیں سونپی جس کی مرکز میں حکومت ہے۔اس کا جواب ایک اصطلاح”مثبت سیاست“کے ذریعہ دیا جا سکتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ مثبت سیاست کیا ہے؟
سیاست کی اصطلاح میں ”مثبت سیاست“اس عمل کو کہتے ہیں جس سے سماج کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہو۔ایسی سیاست جس سے معاشرے میں ٹوٹ پھوٹ کے بجائے آپسی رواداری کو فروغ ملتا ہو۔یہ ہندستان کا دوسرا ایسا الیکشن تھا جو ”ترقیات“ کے نام پر لڑا گیا ہے ،اس سے قبل اتر پردیش میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی اپنے ترقیاتی کاموں کی بنا پر انتخابی میدان میں آئی تھی جس کا نعرہ ”کام بولتا ہے“ تھا لیکن اس میں اس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس سے کچھ ایسی غلطیاں سرزد ہوگئی تھیں جو عام آدمی پارٹی نے نہیں کیں۔عام آدمی پارٹی اپنی پوری مہم کے دوران نفرت کی سیاست سے بالکل دور رہی اس کے لیڈر کو ”دہشت گرد“ تک کہا گیا لیکن اس نے اسی زبان میں جواب دینے کے بجائے عوام کے سامنے اپنے ترقیاتی کاموں کو رکھ کر پوچھا کہ اگر فلاح عامہ کے کام کرنا دہشت گردی ہے تو مجھے یہ بھی قبول ہے۔
اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے نشانے پر رکھا تھا کیونکہ ان ہی کے چہرے پر الیکشن لڑا جا رہا تھا لیکن عام آدمی پارٹی نے وزیر اعظم کو اپنی تقریروں /بیانوں سے بالکل دور رکھا ،اس نے کسی بھی قسم کا کوئی تبصرہ ان پر کرکے کسی کو بھی گھڑیالی آنسو بہانے اور جذباتی استحصال کا موقع نہیں دیا جیسا کہ اکثر دیکھنے کو ملا ہے کہ کچھ لوگ اسٹیج پر کہتے نظر آئے کہ میں دیش اور عوام کے لئے ہندرہ بیس برسوں سے گالیاں کھا رہا ہوں۔عام آدمی پارٹی نے نفرت کی سیاست پر نیوٹرل سیاست کو ترجیح دی۔الیکشن میں فائدہ کے لئے اس نے کسی پر الزام تراشی کا رویہ اختیار نہیں کیا بلکہ اس نے الزام کا جواب اپنے ترقیاتی کاموں/منصوبوں سے دیا اور بتایا کہ کس طرح سے اس نے دہلی اور اس کے عوام کو اپنی کثیر جہتی اسکیموں سے مستفید کیا ہے۔اسی طرح سے عام آدمی پارٹی نے مذہب کے نام پر پولرائزیشن کی کوششوں کو خاموش رہ کر یا پھر درمیانی راہ نکال کر ناکام کردیا ۔اس کی ایک اچھی بات یہ بھی رہی کہ زبان کے استعمال پر سب سے زیادہ توجہ دی،ذومعانی لفظیات کا نہ صرف استعمال نہیں کیا بلکہ جہاں بھی اس بات کی کوشش کی گئی اس نے فورا اس کی وضاحت بھی کر دی ،جس سے منافرت کی زبان استعمال کرنے والے ڈھیر ہو گئے۔
عام آدمی پارٹی کومرکز کی اسکیموں کے عدم نفاذ پر نشانہ بنانے کی جب کوشش کی گئی اور کہا گیا کہ وزیر اعلی نہیں چاہتے ہیں کہ یہاں کے عوام مرکزی اسکیموں سے مستفید ہوں تو عام آدمی پارٹی نے عوام کے سامنے دونوں اسکیموں کا موازنہ کرتے ہوئے عوام سے سوال کیا کہ کون سی اسکیم کا نفاذ ہونا چاہئے؟ ایسی اسکیم جو کثیر جہات/کثیر فوائدوالی ہے یا وہ جس کے فوائد محدود ہیں ؟عوام نے خود اس کا جواب دے دیا ۔مثلا علاج و معالجہ کی مرکزی اسکیم” آیوشمان بھارت “کا موازہ جب دہلی حکومت کی اسکیم سے کیا تو عوام خود اس بات کا مطالبہ کرنے لگے کہ ”دہلی ہیلتھ اسکیم“کا ہی نفاذ ہونا چاہئے۔
جہاں ایک طرف عام آدمی پارٹی عوام کے سامنے اپنے ترقیاتی کام اور آئندہ کے منصوبے رکھ کر یہ بتا رہی تھی کہ گزشتہ برسوں میں ہم نے یہ کام کئے ہیں ،کچھ کام رہ گئے وہ اور ان کے ساتھ مزید یہ منصوبے ہیں جن پر آئندہ کام کیا جا ئے گا۔وہیں دوسری طرف مرکز میں حکمراں اور دہلی میونسپل کارپوریشن پر پر پندرہ برسوں سے قابض بھاجپا کی جھولی ترقیاتی کاموں سے خالی تھی۔چونکہ دہلی کارپوریشن کے ذریعہ ایسے قابل ذکر کام نہیں کئے گئے تھے جن کو دکھا کر وہ عوام سے کہتے کہ اپنی بساط بھر کام کیا ہے اگر اسمبلی الیکشن میں موقع ملا تو اس انداز میں کام کیا جا ئے گا ،اس لئے ان لوگوں نے زبانی طور پر تو ”وکاس وکاس “ کی رٹ خوب لگائی اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ہم ترقیات اور ملک کے تحفظ کے مسئلے پر ہی الیکشن لڑ رہے ہیں لیکن عوام کے سامنے وہ ترقیاتی کام اور ماڈل نہیں پیش کر سکے ۔لطف کی بات یہ رہی کہ جب بھی کسی دوسری ریاست کے وزیر اعلیٰ نے ترقیات کی بات کی تو عام آدمی پارٹی نے متعلقہ ریاست کے ترقیاتی کاموں کی قلعی کھول رکھتے ہوئے عوام سے سوال کیا کہ کیا آپ اس طرح کی ترقی چاہتے ہیں یا پھر دہلی میں جس طرح کام ہو ئے ہیں اس طرح ؟جس کا جواب بھاجپا کے پاس نہیں تھا ۔مثلا اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے جب ترقیات کی بات کی تو اروند کیجری وال نے مڈ ڈے میل میں کھلائے گئے نمک روٹی کے واقعے کو سامنے رکھا،جب انہوں نے خواتین تحفظ کی بات کی تو انہوں نے اناو ¿ اور شاہجہانپور میں خواتین کے ساتھ بی جے پی لیڈروں کی زیادتی بیان کرتے ہوئے بسوں میں مارشل اور محلہ مارشل کی تعیناتی کے ذریعہ ان کو آئینہ دکھادیا۔اس طرح عام آدمی پارٹی کے زمینی سطح پر کئے گئے ترقیاتی کاموں اورمنصوبوں نے عوام کے دل کو چھولیا۔عام آدمی پارٹی عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئی کہ وہ لوگ ہندو مسلم کے مابین نفرت،ملک کے تحفظ کی ہوائی باتوںاور ایسے وعدوں پر یقین نہیں رکھتے جن کے بارے میں الیکشن کے بعد کہہ دیا جاتاہے کہ ایسے وعدے تو کر لیے جاتے ہیں۔
عام آدمی پارٹی کی جیت میں نوجوانوں کا کردار بہت اہم ہے ،چونکہ یہی ملک کے مستقبل ہیں اور ان کا تعلق دہلی جیسی ریاست سے ہے جو ملک کی راجدھانی بھی ہے،اس لئے اس نے اکیسویں صدی کے اپنے منصوبوں کے مطابق ایسی پارٹی کو منتخب کیا ہے جو زمینی سطح پر کئے جا رہے ترقیاتی کاموں میں یقین رکھتی ہے۔بعض نوجوان لڑکیاں اس الیکشن میں ایسی بھی نظر آئیں جو اپنے والدین کے برخلاف عام آدمی پارٹی کے حق میں ووٹنگ کا اعلان کرتی دکھائی دیں جن کا ماننا تھا کہ ہمیں ہوائی قلعے کے بجائے حقیقی کام چاہئے ،اگر ملک کو ترقی کرنا ہے تو اس کے لئے زبان کے بجائے عمل کی ضرورت ہے اور یہ عمل عام آدمی پارٹی کرتی ہوئی دکھائی دی۔
شمارکرانے کے لئے تو عام آدمی پارٹی کی بہت سی اسکمیں ہیں جن کی وجہ سے اس کوجیت ملی مثلا مفت بجلی ،پانی اور خواتین کا سفر،اور پانی کے بل کی معافی،محلہ کلینک،آٹو رکشہ فٹنس فیس کا خاتمہ،سی بی ایس ای بورڈ کے امتحان دینے والے دسویں اور بارہویں کے بچوں کی فیس میں رعایت،خواتین کے لئے مفت میٹرو سفر کا وعدہ،گیارہ ہزار مقامات پر مفت وائی فائی وغیرہ۔یہ وہ اسکیمیں ہیں جن کا براہ راست فائدہ عوام کو ملا ۔ خوابوں کی سوداگری کے بجائے حقیقی /زمینی سطح پر ترقیات پر لڑے گئے الیکشن کے نتائج اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے آخری برس یہ نوید سنا رہے ہیں کہ نفرت کی سیاست اور خوابوں کی سوداگری کا اب خاتمہ ہونے والا ہے اور اب ملک میںالیکشن اسی طرز پر ہوں گے۔ملک کے عوام نے اگر اس الیکشن کے پیغام کو سمجھ لیا تو یہ الیکشن ملک کی تقدیر بدلنے والا ثابت ہوگا۔

تحریر: محمد حنیف خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here