عصرِ حاضر میں ماحولیات کے سلسلے میں جو عدمِ توازن پیدا ہورہا ہے اور قدرتی وسائل کا جس طرح غلط اور بے جا استعمال ہورہاہے ، اس نے پوری دنیا کو فکر مند کردیا ہے اور یہ احساس بیدار کردیا ہے کہ اگر ماحولیات کی بے اعتدالی اور عدم توازن کو نہیں روکا گیا تو مستقبل میں اس کے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے اور روئے زمین پر انسانی زندگی محال ہوجائے گی ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْْدِی النَّاسِ ۔الروم: 41

”خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے انسانوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے نتیجے میں۔“

       انسانوں نے خود غرضی اور لالچ میں پوری کائنات میں اور خاص طور پر انسانی سماج میں جو بگاڑ اور فساد پیدا کیا ہے وہ آج ہماری نگاہوں کے سامنے ہے ۔ زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے لیے درختوں کو کاٹنا ، جنگلوں کو اجاڑ دینا ، پہاڑوں پر موجود ہریالی کو ختم کردینا ، پہاڑوں کو کھودنا ، ضرورت سے زیادہ پانی استعمال کرنا ، پانی کے فطری راستوں اور ذرائع میں رکاوٹیں پیدا کرنا ، یہ سب فساد کے مختلف مظاہر ہیں ۔ قدرتی وسائل ، جن پر تمام انسانوں کا برابر کا حق ہے ، ان پر کچھ لوگوں یا حکومتوں کا قابض ہوجانا اور دوسروں کو ان سے محروم کردینا، توازن کو بگاڑتا اور فساد کو بڑھاوا دیتا ہے ۔ اس کا نتیجہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ زمین میں پانی کی سطح کا بہت نیچے چلے جانا ، کہیں بارش کا بہت کم ہونا اور کہیں بہت زیادہ ہونا ، سیلاب اور زلزلوں کا آنا اس فساد کی مختلف شکلیں ہیں ۔

قدرتی وسائل میں پانی کی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔ اسی سے انسانی زندگی کی پرورش ، فروغ ، خوش حالی اور بقا وابستہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی ضروریات کے مطابق پانی کو وافر مقدار میں اتارا ہے ۔ اس قدرتی ذخیرہ پر تمام انسانوں کا حق ہے ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بہتر استعمال کی ہدایت فرمائی ہے اور اسے بلا ضرورت ضائع کرنے سے منع کیا ہے ۔ ارشاد ہے:

وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلاَ  تُسْرِفُوْا اِنَّہٗ لاَ  یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ ۔  (الاعراف: 31

”اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو ، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔“

      پانی کا اگرچہ وافر ذخیرہ ہو ، پھر بھی اسے بلا ضرورت بہانے سے منع کیا گیا ہے ۔ حتی کہ وضو میں بھی زائد پانی خرچ کرنے کی ممانعت آتی ہے ۔ ایک صحابی دورانِ وضو بہت زیادہ پانی بہا رہے تھے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے انھیں ٹوکا : یہ کیا فضول خرچی ہے؟ انھوں نے عرض کیا : کیا وضو میں بھی فضول خرچی ہوتی ہے؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا : ہاں ۔ اگر تم بہتے دریا کے کنارے بیٹھے ہو ، پھر بھی بلاضرورت پانی نہ بہاؤ۔  (ابن ماجہ: 425

      آج کی سرمایہ دارانہ معیشت کے دور میں صارفیت  کو بہت زیادہ بڑھاوا دیا جارہا ہے ۔ جن چیزوں کی لوگوں کو ضرورت نہ ہو ، ان کے سلسلے میں بھی حالات ایسے بنا دیے گئے ہیں کہ وہ انھیں خریدنے پر مجبور ہوں ۔ آج چیزوں کو ایک بار استعمال کرکے پھینک دینے کا کلچر فروغ پا رہا ہے ۔ اس کے کچھ فائدے اور سہولیات ہوسکتی ہیں ، لیکن اس کی اصل وجہ بازار کو فروغ دینا ہے ۔ اس (استعمال کرو اور پھینکو )  کلچر سے ماحول کی آلودگی بڑھ رہی ہے اور اس کی وجہ سے دوسرے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔

        ماحولیات کے درستی میں شجرکاری کی بڑی اہمیت ہے ۔ اس کے لیے جہاں یہ ضروری ہے کہ جنگلات کو باقی رکھا جائے اور ہرے بھرے درختوں کو نہ کاٹا جائے ، وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ نئے درخت لگائے جائیں ، بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنایا جائے اور علاقوں کو ہرا بھرا رکھا جائے ۔ اسلام میں ان کاموں کو صدقۂ جاریہ میں شمار کیا گیا ہے اور انھیں انجام دینے کی ترغیب دی گئی ہے ۔

رسول اللہ ﷺ مسلم افواج کو روانہ کرتے وقت ہدایت دیتے تھے کہ دورانِ سفر راستے میں کھیتوں کو نقصان نہ پہنچائیں اور بغیر شدید ضرورت کے درختوں کو نہ کاٹیں ۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ”اگر کوئی شخص دیکھے کہ قیامت برپا ہونے کو ہے اور اس وقت اس کے ہاتھ میں کوئی پودا ہو تو وہ ضرور اسے زمین میں لگا دے ۔“ (مسند احمد

صفائی ، پاکیزگی اور طہارت کا تعلق افراد کی صحت سے بھی ہے اور ماحول کی پاکیزگی اور اس کی حفاظت سے بھی ۔ اسلام میں اسے بہت اہمیت دی گئی ہے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا

”پاکیزگی نصف ایمان ہے ۔“مسلم: 223

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here