بھوپال: مدھیہ پردیش کانگریس کے سکریٹری مولانا عمر قاسمی نے مرکزی اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی کے اس بیان کی سخت مخالفت کی، جس میں انہوں نے تبلیغی جماعت کے سلسلے میں کہا تھا کہ کسی ایک ادارے یا فرد کے جرم کو پوری برادری کے جرم کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔

عمر قاسمی نے کہا کہ نظام الدین مرکز  کے معاملے منظر عام پر آنے کے بعد جعلی خبروں کے ذریعہ مسلمانوں کو کورونا پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ پوری مسلم کمیونٹی اس کی سزا بھگت رہی ہے۔ ٹوپی داڑھی اور برقعہ دیکھ کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اسپتالوں میں ان کا علاج نہیں ہورہا ہے۔ ان کے نام پوچھ کر مسلمانوں کو مارا پیٹا جارہا ہے۔

کانگریس سکریٹری نے کہا کہ اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانا مرکزی اقلیتی امور کے وزیر کی ذمہ داری ہے۔ ان کی پریشانیوں کو دور کرو۔ ان کے خلاف امتیازی سلوک کے خلاف مناسب اقدامات کریں۔ لیکن نقوی صاحب کچھ کرنے کی بجائے میڈیا میں تقریریں کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ملک کے مسلمان خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا ، پوری دنیا مذہب ، ذات ، قومیت ، صنف جیسے تمام اختلافات کو فراموش کرکے کورونا وبا کے خلاف مقابلہ کر رہی ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں یہ وبا مذہب سے بھی وابستہ کر دی گئی ۔ مسلمانوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ کانگریس کے سکریٹری نے کہا کہ کسی بھی معاملے کو کسی بھی طرح سے مسلمانوں سے جوڑکر  بدنام کیا جاتا ہے۔ لیکن نہ ہی اقلیتی وزارت اور نہ ہی اقلیتی کمیشن اس کا دھیان لیتا ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر سے مسلمانوں کے مفاد میں کام کرنے کی اپیل کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here