کلکتہ گرلس کالج ، شعبہ اردو کے زیر اہتمام ’’غالب : شخص اور شاعر‘‘ کے موضوع پر ایک بین الاقوامی ویبینار کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین (سینٹر فار انڈین لنگویجز  ، جواہر لال یونیورسٹی ) نے کی ۔ کالج پرنسپل ڈاکٹر ستیہ اپادھیائے نے اپنے استقبالیہ تقریر میں مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن یقینا ہم سبھوں کےلیے اہم ہے کہ شعبہَ اردو کے اس بین الاقوامی ویبنار  میں ملک اور بیرون ملک سے نامور اسکا لر س شرکت کر رہے ہیں مجھے امید ہے کہ غالب کے حوالے سے ہونے والی گفتگو ہم سبھوں کے علم میں اضافہ کرے گی ۔ اس ویبینار میں ملک اور بیرون ملک کے نامور ادیبوں نے غالب کی شخصیت اور شاعری کے حوالے سے مقالے پیش کیے ۔ جن میں ڈاکٹر شہاب ظفراعظمی (ایسو سی ایٹ پروفیسر، پٹنہ یونیورسٹی )، جناب نورالدین امر جی (شہرت یافتہ مصور، کلکتہ) ، جناب شکیل افروز (صحافی ،کلکتہ )، بی بی آبیناز جان علی (معروف افسانہ نگار ومعلم مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ ، موریشش) ، مسز بینا گوئندی (ادیبہ ،شاعرہ اور ساؤتھ ایشن ایجوکیشنل ایڈوائزر، میری لینڈ ، امریکہ ) شامل تھیں ۔ کلکتہ گرلس کالج کے صدر شعبہَ اردو ڈاکٹر نعیم انیس نے نظامت کے فریضہ انجام دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے شعبہ کی یہ روایت رہی ہے کہ سیمینار ہو یا ویبینار یا ادبی تقریبات ہم اس موقع پر عالمی شہرت یافتہ قلم کاروں کے ساتھ نئے لکھنے والوں کو بھی موقع فراہم کرتے ہیں ۔ غالب : شخص اور شاعرکے حوالے سے ویبینار منعقد کرانے کا مقصد یہ بھی کہ اردوآنرز اور جنرل کورس میں مرزا غالب کے حوالے سے ایک پرچہ نصاب میں شامل ہے ۔ اس ویبینار سے یقینا ہماری طالبات بھی فیضیاب ہوں گی ۔ ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے اپنے مقالہ ’’جدید شاعری اور غالب میں جدید شاعری پر غالب کے اثرات پر گفتگو کی اور متعدد مثالوں کے ذریعہ یہ باور کرایا کہ غالب کا اثر پورے اردو ادب پر محیط ہے اور جدید اردو شاعری پر بالواسطہ یا بلا واسطہ غالب کے اثرات ہمیں جا بجا صاف نظر آتے ہیں ۔

بی بی آبینا زجان علی نے اپنے مقالہ ’’ عندلیب گلشن نا آفریدہ ہوں ‘‘ میں غالب; کی انفرادیت ، غالب  دوسروں کی نظر میں اور انکے کلام پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ مسز بینا گوئندی نے اپنے مقالہ میں ’’غالب کا عہد ان کی مکتوب نگاری کے حوالے سے ‘‘گفتگو کرتے ہوئے انکے خطوط میں انکے عہد کی عکاسی کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ غالب  کے خطوط دراصل گنجینہ معلومات ہیں جن میں ہ میں تاریخ کا اصل چہرہ نظر آتا ہے ۔ جناب نورالدین امر جی نے اپنے مقالے ’’غالب ایک مصور کی نظر میں ‘‘ غالب  کے اشعار کے حسن پر گفتگو کرتے ہوئے غالب کو اردو کا پکاسو(ایک عالمگیر شہرت یافتہ مصور) کہتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ غالب  نے ہمیشہ روایت سے بغاوت کی ۔ شکیل افروز نے ’’غالب کا سفر کلکتہ کتنا کامیاب ‘‘کے حوالے سے اپنا مقالہ پیش کیا ۔ جس میں انہوں نے غالب کی کلکتہ آمد کو فعال ِ نیک بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات ان کی شاعری میں جا بجا نظر آتے ہیں ۔ صدارتی خطبے میں پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے کہا کہ تما م مقالہ نگاروں نے نئے انداز سے غالب کو پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی میں انہیں مبارکباددیتا ہوں ۔ موصوف نے غالب کے اشعار میں استفہامی انداز پر اپنی بصیرت آمیز تقریر ک اور اشعار کی مثالیں دے کر یہ بات واضح کی کہ غالب اپنے کلام میں استفہامی انداز ، شوخی گفتار کی آمیزش سے شعر کا حسن نہ صرف دو بالا کردیتے ہیں بلکہ اس میں نئی جدت بھی پیدا کردیتے ہیں ۔ غالب   ایک ایسے شاعر ہیں جنہیں ہر زمانے میں پڑھا جاتا رہے گا ۔ شکریہ کی رسم کالج کے شعبہ اردو کے گیسٹ لکچرر ڈاکٹر ومیق الارشاد القادری نے ادا کی ۔

پریس ریلیز

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here