علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں علی یاور جنگ کے ساتھ پیش آمدہ واقعات کو جس طرح حادثے میں بدلتے دیر نہیں لگی، اس کے تقریباً نصف صدی کے بعد ۱۵؍ اور۱۶؍دسمبر کی درمیانی رات کو پولیس ایکشن کی صورت میں دوبارہ دہرائی گئی۔ فرق صرف یہ تھاکہ نصف صدی قبل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف روارکھے جانے والے اختلاف اور دست درازی کے تدارک کی خاطر حکومت ہند کو اقدام کرنا پڑا تھا اور یونیورسٹی نہ صرف یہ کہ غیرمتعینہ مدت کے لیے بند کردی گئی تھی بلکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے امتیازی تاریخی اورمسلم کردار کو بھی ایک آرڈیننس کے ذریعہ کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔ پچھلے دنوں اس طرح کا نہ کوئی خلفشار تھا نہ طلبا کی طرف سے کوئی پرتشدد مظاہرہ او رنہ کسی طرح کااشتعال انگیز اقدام جس پراس قسم کے بڑے ایکشن کی ضرورت تھی۔ ۱۵؍دسمبر کو دن بھر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا و طالبات پر شہریت کے نہایت ناقابل قبول ترمیمی قانون پر مظاہرے کے دوران پولیس نے نہایت غیرانسانی انداز میں لاٹھیوں اور آنسو گیسوں کااستعمال کیا تھا اور متعدد نہتے طلبا کو نہ صرف یہ کہ زخمی کیا تھا بلکہ ایک سے زیادہ طالب علم کی موت کی خبر بھی پورے ملک میں پھیل گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ اس کا ردعمل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء پرہونا ہی تھا اور انھوںنے اس ردعمل کے مظاہرے کا سلسلہ زور و شور سے شروع کردیا۔ ایسالگتا تھا کہ ضلع انتظامیہ پہلے سے ایکشن کے لے تیار بیٹھی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پولیس ایکشن میں آگئی او رنہ صرف یہ کہ ہوسٹل کے باہر یونیورسٹی کی سڑکوں پر ان گنت پولیس والوں نے طلبا پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اورپتھربرسانے کا عمل شروع کردیا بلکہ متعدد ہوسٹلوں میں اندر داخل ہوکرطالب علموں کو بری طرح زدوکوب کیا گیا، بعض کمروں میں انھوں نے آگ لگائی، بعض طلباء کے گدوں اوربستروں کو نذرآتش کیا گیا اورکم از کم ایک درجن سے زیادہ طلباء کے ساتھ غیرمعمولی ظلم وبربریت کا ثبوت دیتے ہوئے ان کو ننگاکرکرکے سر سے پیر تک بیلٹ اور لاٹھیوں سے زدوکوب کرتے رہے۔ اگرکوئی کشمیری طالب علم مل گیا تو اس کو دہشت گرد بتاکر گالیاں دیتے اورطرح طرح سے اذیت دیتے رہے۔ ان کی کمر،پیٹھ اورپنڈلیوں پرناقابل اندمال زخم دینے سے بھی گریز نہیں کیاگیا۔

اس حادثے کانہایت قابل افسوس اور پرمذمت پہلو یہ ہے کہ خودمسلم یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ نے پولیس کو یونیورسٹی میں داخل ہونے اور ایکشن لینے کا حکم دیا تھا جس کا اعلان اور اعتراف خودموصوف نے بنفس نفیس اُس پریس کانفرنس میں کیا جس کوساری دنیا نے دیکھا اورجس کو رویش کمار نے اپنے خاص پروگرام پرائم ٹائم میں تفصیل سے پیش کیا۔ رویش کمار کے پروگرام کے دوران موازنے او رعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خفت اورندامت کا نمایاںپہلو اس وقت زیادہ نمایاں ہوگیا جب علی گڑھ کے شیخ الجامعہ کے بیان سے چند لمحے قبل جامعہ ملیہ کی وائس چانسلر کابیان دکھاگیا جس میں محترمہ نے بڑی صفائی سے کہا تھا کہ پولیس میری اجازت کے بغیرجامعہ میں داخل ہوئی تھی اور میں اس سلسلے میں انکوائری بھی کراؤں گی۔ ان کے برخلاف علی گڑھ کے وائس چانسلر نے نہایت دیدہ دلیری، اعتماد اور مسکراہٹ کے ساتھ اپنا کارنامہ بتایا کہ ہاں میں نے خود پولیس بلائی تھی۔ جس کورویش کمار نے علی گڑھ کے وائس چانسلر پر پُرتمسخر انداز میں یہ بھی کہا ہے کہ یہ بھی کمال کی بات ہے، کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے کا سربراہ یہ بھی کرسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہندوستان کے یکہ وتنہا بڑے ہوتے ٹی وی چینل، این ڈی ٹی وی نے گزشتہ چندبرسوں میں انصاف پسند او رغیرجانب دار سامعین میں جو غیرمعمولی اعتمادحاصل کیا ہے اس کا اثر دور دور تک ہوا اورپوری دنیا سے علی گڑھ میں پیش آمدہ اس حادثے کی مذمت کا سلسلہ دراز ہونے لگا۔

چلئے ان تمام واقعات و حادثات کے پس منظر کے طورپر یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں کہ اگر کوئی بھی یونیورسٹی، وائس چانسلر کے اپنے ہوش گوش، یونیورسٹی کی تعلیمی ضروریات، اعلیٰ تعلیم کے عروج کے مقاصد کے تحت چلتی ہے تو اس کا انتظامی طریق کار فطری خطوط پرآگے بڑھتا ہے۔ مگر جب یونیورسٹی نہایت ناپسندیدہ مرکزی اورریاستی حکومت کی خوشنودی کے ساتھ چلائی جائے گی تو ایسی صورت میں اس کا سربراہ ایسے ہی اقدامات اختیارکرے گا جو حکومت کے ارباب حل وعقد کوخوش کرنے اور ان کے بل بوتے پر پوری یونیورسٹی کو قومی اور مذہبی مفادات کے برخلاف چلانے کی کوشش کرے گا اوراسے بار بار ایسے ہی افسوسناک اقدمات کرنے پڑیں گے اور لگاتار ندامت کا منھ دیکھنا پڑے گا۔

اس پوری صورت حال میں ابتدائی دوتین دنوں میں جامعہ ملیہ کے طلباء پر کیے گئے مظالم اور ان پر پولیس کی طرف سے کیے گئے زدوکوب کی خبریں گشت کرتی رہیں۔ یہ توحسن اتفاق تھا کہ معروف ومحترم سماجی کارکن ہرش مندر کو علی گڑھ کے حادثے کی شدت کی سن گن لگ گئی اور وہ خود علی گڑھ آکر مختلف فریقوں کے تاثرات سے باخبرہوئے اور علی گڑھ کے ضلع ہسپتال اور خود یونیورسٹی کے ہاسپٹل میں زیرعلاج بعض طلباء سے براہ راست ملاقات کرنے اور اندر کی خبروں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

ہرش مندر کی قیادت میں اس حادثے او راس سے متعلقہ واقعات کی تحقیق و جستجو کے لیے پندرہ غیرمتعصب اورانصاف پسند افراد پرمشتمل وفد ۱۷؍دسمبر کو علی گڑھ آگیا تھا۔ اس نے ایک تو یہ کہ سب سے پہلے ہاسپٹل میں زیرعلاج طلباء سے ملاقات کی۔ ان کی جسمانی و ذہنی تکالیف اور پولیس کے ظلم وجبر کی نوعیت سے باخبرہونے کی کوشش کی، متاثرین سے براہ راست ملاقات کرکے پولیس ایکشن کی نوعیت کو جاننے اوربہت صبروضبط کے ساتھ غیرجذباتی انداز میں حقائق تک پہنچنے کی کوشش کی ۔ اس وفد نے دوتین رروز کے اندر ہی اپنی رپورٹ جاری کردی اوریونیورسٹی میں پیش آمدہ پولیس ایکشن کو پوری طرح بے نقاب کرنے کی کوشش کی۔ اس لیے اس سے متعلق جو چندنکات پیش کیے جارہے ہیں وہ یا تو فیکٹ فائیڈنگ کمپنی کی رپورٹ پرمبنی ہیں یا پھر ’دی وائر‘ نے ہرش مندر سے مکالمے کا جو ویڈیو سوشل میڈیا پرجاری کیا اس سے ماخوذ ہیں۔ اس وفد نے بتایا کہ ۱۵؍دسمبر کی اس رات میں جب جامعہ ملیہ میں پولیس کی زیادتی کی خبریں آنی شروع ہوئیں تو علی گڑھ کے طلباء بھی ان سے یکجہتی کامظاہرہ کرتے ہوئے اور شہرت ترمیمی قانون کے خلاف اپنا غم و غصہ ظاہرکرنے کے لیے اپنے ہاسٹلوں سے باہر آگئے اورانھوں نے گیسٹ ہاؤس سے لے کر باب سید تک ایک بھیڑ کو اکٹھاکرلیا، اپنے غم و غصے کا اظہار بلاکسی تشدد نعرے لگانے کے ساتھ پلے کارڈز دکھانے اور یونیورسٹی انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی پراپنے ردعمل کا مظاہرہ کرنے لگے۔ اس کے بعد پولیس کا ایک جم غفیر آنسوگیس شل، ہینڈ گرینیڈ اور بندوقوں سے پولیس کے جتھے کے جتھے یونیورسٹی میں داخل ہونا شروع ہوئے جو دیکھتے ہی دیکھتے یونیورسٹی کی بیش تر سڑکوں، گیسٹ ہاؤس حتیٰ کہ متعدد ہاسٹلوں میں داخل ہونا شروع ہوگئے۔ یہ پولیس والے لگاتار جے شری رام کا نعرہ لگارہے تھے اوربھارت ماتا کی جے کو بار بار دہرارہے تھے اور اس طرح مسلم یونیورسٹی کے مسلم تشخص کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے لگاتار طلباء کو دوڑاتے، لاٹھیوں سے زدوکوب کرتے، جو آسانی سے دستیاب ہوگیا اس کو اپنی دسترس میں لیتے ہوئے ہاسٹل، لائبریری، گیسٹ ہاؤس اورمسجد تک کی بے حرمتی کرتے ہوئے طالب علموں کواپنے مظالم کا نشانہ بناتے رہے۔

پولیس والوں نے اسٹین بم کا بھی استعمال کیا جو بقول ہرش مندر صرف جنگوں میں استعمال ہوتا ہے۔ طلباء اتنے خوفزدہ تھے کہ ایف آئی آر تک لکھوانے کی ہمت تک نہیں کرپارہے تھے کہ ان کو معطل کردیاجائے گا۔ ان کے کمروں تک میں آنسوگیس کا استعمال کیا گیا تاکہ ان کو باہرنکالا جاسکے۔ غرض یہ کہ اس رات ہیومن رائٹ کی تمام دھجیاں بکھیردی گئیں۔ انھوںنے لائبریری میں یکسوئی کے ساتھ پڑھنے میں منہمک طلباء تک کو گھسیٹ گھسیٹ کر مارتے پیٹتے باہر لائے اور حوالات میں بندکرنے کے ارادے سے انہیں پولیس وین میں لئے پھرتے رہے۔ پولیس والوں نے دس ایمبولینس میں سے محض ایک یا دوکو یونیورسٹی میں آنے اور طبی امداد کی غرض سے انہیں میڈیکل میں لے جانے کی اجازت دی۔ بس ان کی خواہش یہ تھی کہ زخمی طلبا کو شہر کے ملکھان سنگھ ہاسپٹل پہنچایاجائے جہاں اے ایم یو والوں کی کوئی ہمدردی انہیں حاصل نہ ہوسکے۔ ملکھان سنگھ میں تکلیف کی شدت کم کرنے کے لیے انجکشن اور متاثرہ حصے کو سُن کرنے کی کسی دوا کے استعمال سے بھی ڈاکٹروں کو روکے رکھا تاکہ زخمی طلبا کو زیادہ سے زیادہ اذیت دی جاسکے۔

ان تمام باتوں کی تفصیل اور وضاحت کا مقصد سوائے اسکے اورکچھ نہیں کہ خودیونیورسٹی انتظامیہ نے پولیس کوبلانے کے ناعاقبت اندیشانہ فیصلے کے اثرات کتنے شدید اورکس قدر دور رس ثابت ہوسکتے ہیں وہ ہم سب لوگوں نے دیکھ لیا۔
اب جب نئے سال کے پہلے دن سردی کی چھٹیوں کے بعد یونیورسٹی کے کھلنے کی تاریخ قریب آنے لگی تو شیخ الجامعہ نے اپنے پولیس کومدعوکرنے کے فیصلے اورنتیجے کے طورپربرپاکیے گئے ظلم وبربریت پر اظہارافسوس کیا ہے جس پر طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے سوائے اس کے اور کیا کہاجاسکتا ہے کہ:
کی تیرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here