اردو زبان  و ادب کو جدید انفارمیشن ٹکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا  وقت کی اہم  ضرورت: قاسم رضا

شاہین باغ: ہندوستان کی مشہور اردو تنظیم اردو ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام  امت اپارٹمنٹ شاہین باغ میں محترم  عبد الغفار صدیقی کے اعزاز میں ایک شعری نشت کا انعقا د کیا گیا ۔ جس کی صدارت عبد الغفار صدیقی نے کی، نظامت کے فرا ئض حامد علی اختر نے انجام دیئے۔پروگرا م کا افتتاح کلام پاک کی تلاوت کے بعد مشہور شاعر جناب جاوید صدیقی کے نعتیہ کلام سے ہوا۔

شعری نشست کے آغاز  میں فاؤنڈیشن کے صدر قاسم رضا  نے فاؤنڈیشن کے  مقاصد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا بنیادی مقصد اردو ریسرچ اسکالرس کو جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے معلومات بہم پہچانا ہے،نیز فاؤنڈیشن  معروف شخصیات کے اعزاز میں شعر و ادب کی نشستیں بھی آراستہ کرتی ہے جو تعلیم و تدریس کے میدان میں سرگرم عمل ہیں اور آج کی شعری نشست اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

اردو فاؤنڈیشن کے سیکریٹری عبداللہ صوفی نے بتایا کہ فاؤنڈیشن کی کوشش ہے کہ اردو طلبہ کے لیے ایسے مواقع فراہم کیے جائیں جن سے طلبہ موجودہ عہد کی ضرورتوں کے مطابق  با صلاحیت بنیں اور ان میں میں خود اعتمادی پیدا ہو تا کہ مختلف میدان میں  روزگار کے مواقع مل سکیں۔ اس کے لیے فاؤنڈیشن تربیتی پروگرام اور ورک شاپ وغیرہ کا بھی اہتمام کرتی رہے گی۔

اس شعری نشست میں صدرعبد الغفار صدیقی دانش کے علاوہ جاوید صدیقی،تنویر آفاقی ، حامد علی اختر، کاظم بن حبیب بجنوری اور ڈاکٹر خان رضوان نے اپنے اپنے کلام سنائے،سبھی شعراء کو سامعین نے بھر پور دادوتحسین سے نوازا۔

نمونہ کلام کے طور پر چند اشعار دیکھیے

اس نے ہاتھوں میں جب لے لیا آئینہ

سامنے آئینے کے ہوا آئینہ

عبد الغفار دانش نورپوری

زخموں پر مرہم بھی رکھ

صرف مرے حالات نہ پوچھ

حامد علی اختر

جس کے آگے فرشتوں نے سجدہ کیا

کر گیا ہے وہ کیا انتقال آدمی

جاوید صدیقی

تمام عمر میں زد میں رہا ہوں راتوں کی

مرے خدا مرے حصے کی اب سحر آئے

ڈاکٹر خان رضوان

روشنی تیز کہاں تھی اتنی

گھر کوئی اور جلا ہے لوگو

کاظم بن حبیب بجنوری

کھڑا تھا ہاتھ میں پتھر لیے وہ

مرے لب پر مگر حرف دعا تھا

تنویر آفاقی

تنویر آفاقی نشست کے اختتام پر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر  مسعود عالم  نے تمام شعراء  و حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ امید ظاہر  کی کہ اردو فاونڈیشن مستقبل میں بھی مسلسل شعر و ادب کی نشستوں کا اہتمام کرتی رہے گی ۔ پروگرام میں فہیم الدین، ماسٹر عبدالصمد، ڈاکٹر رضا حبیب، کے علاوہ خواتین نے بھی شرکت کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here