گذشتہ ایک ہفتے سے ملک بھر میں  جس طرح کی فضا ہے وہ افسوسناک ہے ۔ بر سر اقتدار پارٹی کی حکومت نے  تعداد کی اکثریت کے سبب شہریت ترمیمی بل  کو پاس کرایا ،جو اب قانون بن گیا ہے ۔  افسوسناک امر یہ ہے کہ پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک کی جو آواز ہے اسے حکومت سننے کو تیار نہیں ۔ جمہوریت کہ ایسی فضا ملک کے لیے کسی طرح مناسب نہیں ۔ جمہوری نظام میں سب کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی آواز بلند کرسکتا ہے   ہاں یہ ضرور ہے کہ آواز بلند کرنے کا بھی ایک جمہوری طریقہ ہے ۔

         ہندستان کے تعلیمی اداروں سمیت مختلف صوبوں میں جس طرح اس قانون کےخلاف آاوزیں اٹھ رہی ہیں وہ بجا ہیں ۔ آاوزیں اٹھنی ہی چاہیے کیونکہ اس قانون میں مذہب کی بنیاد پر اصول مرتب کیے گئے ہیں جو  جمہوری نظام  اور ملک کے سیکولر آئین کے خلاف ہے ۔ اسی لیے ملک کی  بیشتر جامعات میں اس کے خلاف  طالب علموں نے جمہوری طریقے سے آوازیں اٹھانی شروع کیں  مگر افسوس  کا مقام ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ  کے طالب علموں نےجس پر امن طریقے سے  احتجاجی جلوس  نکالا اور جمہوری ملک  میں جمہوری حقوق کے تحت اپنی آواز ایوان حکومت تک پہنچانے کی کوشش کی اس کو  دہلی پولیس نے جس  بربریت سے  کچلنے کی کوشش کی ،اس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے ۔لائبریری  میں مطالعہ کر رہے طلبہ و طالبات کو  جس طرح زدو کوب کیا گیا اور جس بے رحمی سےمارا پیٹا گیا  اس کے بیان کے لیے الفاظ ناکافی ہیں ۔   اسی طرح لڑکیوں کے ہاسٹل میں خوف کا ماحول  پیدا کرنا جیسے واقعات  انسانیت کو شرمسار کرنے والے ہیں۔دنیا بھر میں انتظامیہ کے اس اقدام سے ملک کی جو رسوائی ہورہی ہے وہ بھی افسوسناک ہے ۔ یہ پورے ملک کے لمحہٴ فکریہ ہے کہ کیا اس طرح کے اقدامات  سے  ہمارا جمہوری نظام   مستحکم رہ پائے گا ؟۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کہ وائس چانسلر نجمہ اختر کہتی ہیں کہ انھوں نے پولیس کو کیمپس میں آنے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ لیکن جب یہ پولیس آگئی اور  اس نے  بر بریت کی تمام حدیں پار کرلی تب بھی  جامعہ کی وائس چانسلر کو کوئی فکر نہ ہوئی کہ فوری طور پر  طلبہ و طالبات کی خبر گیری کرتیں ، ہر چہار جانب سے دباؤ پڑنے  کے بعد دوسرے دن ان کے بیانات سے یہ بھی اندزہ ہوتا ہے کہ انھیں اپنے طالب علموں کی  فکر سے زیادہ مصلحت در پیش تھی۔

          اسی طرح  علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا معاملہ ہے کہ طالب علموں نے جامعہ  کے طلبہ کےساتھ ہمدردی جتانے کے لیے جلوس اور نشستوں کے انعقاد  کی باتیں  ہی کیں  لیکن انھوں نے اس سے پہلے پولیس کو کیمپس میں بلا لیا ۔ انتہائی افسوسناک معاملہ ہے ۔ یہاں بھی انتظامیہ اور پولیس کا رویہ قابل مذمت ہے ۔ اب اچانک ان دونوں یونیورسٹیوں کو جو بند کر دیا گیا اور فوری طور پر طالب علمو ں کو  یونیورسٹی چھوڑنے کا جو حکم نامہ آیا ہے اس سے طالب علموں  کو جن ذہنی اور جسمانی پریشانیوں کا سامنا کر نا  پڑ رہا ہے اس کا اندازہ عام لوگوں کو شاید ہی ہو ۔سردی کے اس سخت موسم میں دور دراز مقامات کا طالب علموں کا سفر کرنا اتنا آسان نہیں ہے ۔علی گڑھ کے طلبہ جس بے گھری کے وہ شکار ہیں او ر اس سے جو ذہنی اذیت ہورہی ہے اس خسارے کی بھرپائی کیا ممکن ہے ؟ اس کے علاوہ کئی امتحانات  سر پر تھے ان کے کیرئیر  کے بارے میں کس کو فکر ہے ؟ بس یہ فکر ہے کہ جیسے بھی ہو ان  کی آ واز دبا دی جائے ۔

         معاملہ صرف ان دو یونیورسٹیز کا نہیں ہے کئی صوبوں سے ایسی وارداتوں کی اطلاع ہے جہاں طالب علموں کی آوازوں کو دبانے کی کوششیں جاری ہیں ۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی اگر بات کریں تو اب شاید یہ لوگوں کے حافظوں سے محو ہوگیا۔ در اصل ملک میں اتنی تیزی سے حالات بدل رہے ہیں کہ ہر آنے والے دن کی خبر ایسی ہوتی ہے  کہ لو گ اسی میں گم ہوجاتے ہیں ۔ چند ہفتوں   کی بات ہے کہ جے این  یو کے طالب علموں  کی آوازیں  جس طرح دبانے کی کوشش کی  گئی وہ بھی قابل مذمت ہے۔ پہلے تو یہ ہوا کہ انھیں کیمپس سے باہر جانے سے روکا گیا،  ان پر   بری طرح لاٹھی چارج کیا گیا ۔لیکن جے این یو کے بہادرطالب علموں کی جتنی ستائش کی جائے وہ کم ہے باوجود اس کے انھوں نے اپنا احتجاج درج کرانے کے لیے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا مگر راستے میں پولیس نے  جس بے دردی ، بے رحمی اور  بر بریت کا ثبوت پیش کیا وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ گذشتہ  ڈیڑھ مہینے سے طلبہ کے  تمام پر امن احتجاج  کے باوجود جس طرح ان کے مطالبوں کو  کوئی سننے کو تیار نہیں ہے یہ لمحہٴ فکریہ ہے ۔ ابھی تک ان  کےمستقبل کی فکر  نہ تو یویورسٹی کی انتظامیہ  کو ہے اور نہ ہی ملک کی وزرات تعلیم کو ۔یہ تمام    حالات اس بات کی غماز ہیں کہ ملک کے نوجوان   انتہائی کرب کے عالم میں ہیں ۔ حکومت وقت سے گزراش ہے کہ ان حالات پر توجہ دے اور ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کو سنوارنے کی سمت  میں اقدام کرے۔

تحریر: پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here