ایک مرتبہ غریب صحابہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا : مال دار لوگ ہم سے بازی لے گئے _ وہ نماز پڑھتے ہیں ، ہم بھی پڑھتے ہیں _ وہ روزہ رکھتے ہیں ، ہم بھی رکھتے ہیں _ وہ صدقہ کرتے ہیں ، لیکن ہمارے پاس مال  نہیں ہے کہ صدقہ کرسکیں _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اللہ نے تمھارے لیے صدقہ کی بہت سی صورتیں بتائی ہیں۔

         ایک دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : ابن آدم کے ہر جوڑ / ہڈی / پور کے حساب سے روزانہ اس پر صدقہ کرنا لازم ہے _ صحابہ نے عرض کیا : ہم اتنا صدقہ کیسے کرسکتے ہیں؟ اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے  بہت سے اعمال کا تذکرہ کیا اور انہیں صدقہ قرار دیا۔

        یہ حدیثیں بہت سی کتبِ حدیث میں مروی ہیں _ چند حوالے ملاحظہ ہوں : بخاری :2707 ،2891 ،2989 ،مسلم :720 ،1009 ،1552 ،ابوداؤد :1285 ،1567 ،5243 ،ترمذى 1956 ، نسائی : 2538 ،ابن ماجة :2418، احمد :21475، 21482 وغیرہ

ان احادیث میں صدقہ کی جو صورتیں بیان کی گئی ہیں وہ درج ذیل ہیں

اللہ کی پاکی بیان کرنا (سبحان اللہ کہنا) صدقہ ہے _

اللہ کی کبریائی بیان کرنا صدقہ ہے _ لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے

اللہ کی حمد بیان کرنا (الحمد للہ کہنا) صدقہ ہے _

نماز پڑھنا صدقہ ہے _

دو رکعت چاشت کی نماز پڑھنا صدقہ ہے _

روزہ رکھنا صدقہ ہے _

حج کرنا صدقہ ہے _

جنازہ کے پیچھے چلنا صدقہ ہے _

مریض کی عیادت کرنا صدقہ ہے _

کسی کو راستہ بتا دینا صدقہ ہے _

راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے _

راستے سے ہڈّی ، پتھر ، کانٹا ہٹا دینا صدقہ ہے _

ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے _

اچھی بات کی تلقین صدقہ ہے _

کسی غلط کام سے روکنا صدقہ ہے _

بیوی سے جنسی تعلق صدقہ ہے _

تنگ دست مقروض کو مہلت دینا صدقہ ہے _

کسی کم زور کی مدد کرنا صدقہ ہے _

کوئی آدمی اونچا سنتا ہو ، زور سے بول کر اسے کوئی بات سنا دینا صدقہ ہے _

کسی شخص کی بینائی کم زور ہو ، اس کی کوئی ضرورت پوری کردینا صدقہ ہے _ کوئی شص نحیف ہو ، اپنی طاقت سے اس کا کوئی کام کردینا صدقہ ہے

کوئی شخص اپنی بات صحیح طریقے سے نہ رکھ سکتا ہو ، اپنی قوّتِ بیانی سے اس کی بات کہیں صحیح طریقے سے پیش کردینا صدقہ ہے کسی کا لباس بوسیدہ ہوگیا ہو ، اسے لباس فراہم کردینا صدقہ ہے

کسی ننگے کو کپڑا پہنا دینا صدقہ ہے _

کسی نابینا کو صحیح راستے پر پہنچادینا صدقہ ہے _

اپنے بھائی سے مسکرا کر بات کرنا صدقہ ہے _

اپنے برتن سے اپنے بھائی کے برتن میں پانی ڈال دینا صدقہ ہے _

کوئی شخص بھٹک گیا ہو ، اسے صحیح راستہ بتادینا صدقہ ہے _

لڑائی جھگڑا کرنے والے دو افراد کے درمیان انصاف سے فیصلہ کردینا صدقہ ہے _

کسی شخص کو سواری پر بیٹھنے میں مدد کردینا صدقہ ہے _

سواری پر بیٹھے ہوئے کسی شخص کا سامان اٹھاکر اسے دے دینا صدقہ ہے _

اچھی بات صدقہ ہے _

نماز کے لیے مسجد کی طرف اٹھنے والا ہر قدم صدقہ ہے _

کسی کو راستہ نہ معلوم ہو ، اسے راستہ بتا دینا صدقہ ہے _

کسی کے درخت / کھیتی سے کوئی شخص پھل کھا لے ، یہ اس کا صدقہ ہے _

کسی کے درخت / کھیتی سے کوئی شخص کچھ کھا لے ، یہ اس کا صدقہ ہے _

کسی کے درخت / کھیتی سے کوئی شخص کچھ چُرا لے ، یہ اس کا صدقہ ہے _

_کسی کے درخت / کھیتی سے کوئی جانور کچھ کھا لے ، یہ اس کا صدقہ ہے _

_کسی کے درخت / کھیتی سے کوئی پرندہ کچھ کھا لے ، یہ اس کا صدقہ ہے _

_ کسی مسافر کی رہ نمائی کردینا صدقہ ہے _

کسی کاری گر کو اس کے کاروبار میں مدد کرنا صدقہ ہے _

_ کسی کو پانی پلادینا صدقہ ہے _

_ کسی کام میں اپنے بھائی کی مدد کردینا صدقہ ہے _

_ آدمی جو خود کھائے (حلال روزی) وہ صدقہ ہے _

_ آدمی جو اپنے بچوں کو کھلائے ، وہ صدقہ ہے _

_ آدمی جو اپنی بیوی کو کھلائے وہ صدقہ ہے _

_ آدمی جو اپنے خادم کو کھلائے وہ صدقہ ہے _

_ کوئی پریشان حال مدد کا طالب ہو ، اس کے ساتھ جاکر اس کی پریشانی دور کردینا صدقہ ہے _

_ اپنی جان اور عزّت و آبرو کی حفاظت کرکے جدّوجہد کرنا صدقہ ہے _

_ کسی کو اپنی ذات سے نقصان نہ پہنچانا صدقہ ہے _

       صدقہ کی ان تمام صورتوں کا تذکرہ احادیث میں آیا ہے _ ان پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں سے صرف چند ہی حقوق اللہ سے متعلق ہیں ، زیادہ تر کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہے _ اور ان میں بھی اہل خانہ ، رشتے دار ،  متعلقین ، عام مسلمان ، غیر مسلم ، حتی کہ حیوانات بھی شامل ہیں _ گویا انسانوں کے کسی کام آنا اور ان کا معمولی سے معمولی کام کردینا اجر و ثواب کا باعث ہے ، جسے ‘صدقہ’ سے تعبیر کیا گیا۔

       ان احادیث کی رو سے کورونا کی وبا کی وجہ سے پوری دنیا میں جو افراتفری برپا ہے ، اس میں کسی بھی حیثیت سے کسی انسان کی مدد کردینا صدقہ ہے۔

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here