نئی دہلی : شہریت میں ترمیم کا بل لوک سبھا سے منظور ہو گیا  ہے اور آج اسے راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آج یہ بل پیش کیا۔ حزب اختلاف اس بل کی مسلسل مخالفت کر رہا ہے اور آئین مخالف کہہ رہا ہے۔ آسام سمیت شمال مشرق کی متعدد ریاستوں میں اس بل کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔

کانگریس کے رہنما پی چدمبرم نے کہا کہ حکومت جو بل لا رہی ہے ، وہ مکمل طور پر غیر آئینی ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ صرف وہی منظور کیا جائے ، اگر ہم غیر آئینی بل پاس کرتے ہیں ،تو  بعد میں سپریم کورٹ اس بل کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ پی چدمبرم نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ یہ بل عدالت میں ٹک نہیں پائے  گا۔ پی چدمبرم نے کہا کہ یہ بل آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی کرتا ہے ، جس میں مساوات کا حق بھی شامل ہے۔ کون اس کی  قانونی خامیوں کا جواب دے گا اور کون اس کی ذمہ داری قبول کرے گا۔ اگر وزارت قانون نے اس بل کا مشورہ دیا ہے ، تو وزیر داخلہ کو چاہئے کہ وہ یہ کاغذ رکھیں۔ جس نے بھی اس بل کی تجویز پیش کی ہے وہ اسے پارلیمنٹ میں لائیں۔

آپ نے  تین ملکوں کو ہی کیوں منتخب کیا  ؟ باقی کو کیوں نہیں لیا ۔

آپ نے چھ مذاہب کو کیوں منتخب کیا ؟

صرف عیسائی کو کیوں شامل کیا  گیا ؟

بھوٹان کے عیسائی ،سری لنکا کے ہندؤں کو کیوں باہر رکھا ؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here