دونوں بچوں کو دلاسا دے کر شنکر ٹھاکر صاحب کے گھر چلا گیا. شنکر کی بیوی کا انتقال ہو چکا تھا. اس کا ایک بڑا بیٹا تھا جواپنی بہن کی شادی کرواکر دو روز قبل پردیس کمانے کو چلا گیا تھا اور دو بچے چھوٹے تھے جو گھر پہ تھے. بیٹی کی شادی کرنے میں پورا گھر خالی ہو گیا تھا. شنکر کو ایک ایک چیز بیچنی پڑی. شادی کی تاریخ جیسے جیسے قریب آتی گئی لڑکے والوں کی خواہشات بڑھتی گئیں. مرتا کیا نہ کرتا والی حالت ہوگئی. شنکر نے اپنے بڑے بیٹے اور خاندان کے کچھ بزرگوں سے مشورہ کیا کہ کیا کروں. جس طرح لڑکے والوں کی ڈیمانڈ بڑھتی جارہی ہے میرا سب کچھ بک جائے گا. دو ہی راستے ہیں یا تو انکی ساری خواہشات پوری کروں یا تو شادی سے انکار کردوں. لوگوں نے مشورہ دیا شادی سے انکار مناسب قدم نہیں ہوگا کیونکہ اس سے بیٹی عیب دار ہو جائے گی. سماج خود سے جواب پیدا کرےگا کہ ہو نہ ہو شنکر کی بیٹی میں ہی کوئی عیب رہا ہوگا جو رشتہ کینسل ہوگیا. اس کے بعد تو شنکر کو سارے کڑوے گھونٹ پینے پڑے تاکہ بیٹی خوشی خوشی گھر سے بِدا ہو سکے۔

شنکر ٹھاکر صاحب کے یہاں کام کرتا ہے. صبح جاتا ہے شام کو آتا ہے. ٹھاکر صاحب کے یہاں سے روزانہ اتنا سامان مل جاتا ہے کہ بچوں کا اور اپنا پیٹ بھر لیتا ہے۔

صبح نکلا تو بچوں کو دلاسا دیکر نکلا کہ میرے لاڈلو پریشان نہ ہو شام کو میں ٹھاکر صاحب کے یہاں سے کھانے کے لیے کچھ لے کر آؤں گا. لیکن کیا کریں حالات کا. ٹھاکر صاحب کا گیٹ بند تھا. دربان نے کہا کہ ٹھاکر صاحب کا حکم ہے کہ کوئی بھی شخص باہر سے محل میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ ایسا مرض پھیلا ہے جو ایک شخص سے دوسرے شخص میں بہت تیزی سے پھیلتا ہے. اس لئے جو لوگ باہر سے محل میں کام کرنے آتے ہیں ان سب کو واپس بھیج دو. شنکر نے بہت گریہ وزاری کی کہ ایک بار ٹھاکر صاحب سے ملاقات کرلینے دو میرے بچوں کے لیے گھر میں کچھ نہیں ہے  کہ انکو کھلا سکوں. دربان نے کہا ٹھاکر صاحب نے کہا ہے کہ کسی سے ملاقات ممکن نہیں ہے. ہاں کھانے کے سامان کی بات ہے تو دال چاول اور آٹا وہاں رکھا ہے. ایک ہفتہ کا لے لو۔

شنکر نے تھوڑا چاول، دال اور آٹا لیا. اپنے گھر کو واپس ہو گیا. گھر پہنچ کے دیکھتا ہے کہ بیٹی گھر پہ آئی ہوئی ہے۔۔۔

بیٹی نے پوچھا پاپا اتنے جلدی کیسے واپس آگئے. شنکر نے کہا گھر میں کچھ تھا نہیں، سوچا بچوں کو کچھ لا کے دے دوں. ویسے بھی محل میں آج کچھ خاص کام نہیں تھا۔۔۔

بیٹی تم کیسی ہو؟

سسرال میں سب کیسے ہیں؟

اچانک کیسے آنا ہوا؟ شنکر نے اپنی بیٹی سے پوچھا۔۔

بیٹی نے جواب دیا کہ سسرال والوں نے کہا ہے مائکے جاؤ، اپنی بھینس لے کے آؤ نہیں تو اپنے مائکے میں ہی رہو. شنکر کے ہوش اڑ گئے. اب کچھ بیچ کے بیٹی کو بدا کیا. اب اس مہاماری میں دودھ ہی ایک سہارا تھا کہ بچوں کا اسی سے پیٹ بھر جائے گا. بیٹی کی سسرال والوں نے وہ بھی مانگ لیا. شنکر نے اپنے رنج و غم کو چہرہ پہ ظاہر نہ ہونے دیا. مسکراتے ہوئے بولا. یہ تو بہت اچھی بات ہے بیٹی. ویسے بھی تمہارے جانے کے بعد بھینس کی دیکھ بھال کون کر پاتا. اچھا ہے بھینس کو لئے جاؤ. بھینس تم سے زیادہ مانوس بھی ہے۔

بڑبڑاتے ہوئے شنکر تالاب کی طرف نکل پڑا. بھینس بھی چلی جائے گی اس کے بعد بھی کیا گارنٹی ہے کہ اب آئندہ کوئی ڈیمانڈ نہ آئے. بیٹا دو دن قبل گھر سے نکلا ہے. پتہ نہیں شہر پہنچ پایا کہ کہیں پھنس گیا. کیونکہ بیماری پھیلنے کے ڈر سے سواریاں بند ہو چکی تھیں۔

شنکر کا بڑا بیٹا آدھے راستے میں تھا کہ شہر کے بند ہونے کی خبر سنا. تو آدھے راستے سے واپس آگیا۔

وہ ننگے پاؤں پھٹے کپڑے میں چوبیس گھنٹے پیدل چل کر گھر پہونچا. تو دیکھا گھر پہ بھیڑ اکٹھا ہے. کسی سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ شنکر تالاب کی طرف گئے تھے شاید دل کا دورہ آیا اور اس دنیا سے رخصت ہو گئے. بہن زار و قطار رورہی تھی. پاپا ہمیں کیوں چھوڑکر چلے گئے. میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ میں اس گھر میں اب واپس نہیں جاؤں گی. پاپا آپ کیوں چلے گئے. میں تو آگئی تھی کہ چھوٹے بھائیوں کی دیکھ بھال کرسکوں. بھینس کو بھی کھانا چارا میں ہی دیتی پاپا آپ نے ایسے کیوں کیا…؟

تحریر- ڈاکٹر محمد اسلم علیگ

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here