مراد آباد : مراد آباد ضلعی انتظامیہ نے سی اے اے کے خلاف احتجاج میں شامل ہونے اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں شاعر اور کانگریس کے رہنما عمران پرتاپگڑھی کو 1 کروڑ چار لاکھ آٹھ ہزار روپے جرمانے کا نوٹس بھجوایا ہے۔ انتظامیہ نے نوٹس میں یومیہ 13 لاکھ 42 ہزار روپے کے اخراجات کا حساب کتاب کرنے کے بعد یہ نوٹس ارسال کیا ہے۔

یہ نوٹس ایڈیشنل میونسپل مجسٹریٹ نے جاری کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ، مظاہرے کو سماجی  ہم آہنگی کے لئے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے امن وامان پر بہت زیادہ رقم خرچ کی جارہی ہے۔ اس سے قبل اترپردیش حکومت نے شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج کے نام پر تشدد کرنے والوں کے خلاف بڑی کارروائی کی تھی اور بہت سے لوگوں کے خلاف ہرجانہ ادا کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ تشدد میں کروڑوں مالیت کی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو نوٹس دیا گیا۔ اگر وہ نقصان کی بھر پائی  نہیں کریں گے  تو ، ان کی جائیداد ضبط کرکے بھرپائی کی جائے گی ۔ آپ  بتادیں کہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف 29 جنوری سے مراد آباد عیدگاہ میں احتجاج جاری ہے۔ آپ کو بتادیں کہ عمران پرتاپگڑھی نے حال ہی میں عیدگاہ کے علاقے میں ایک اجتماع سے خطاب کیا تھا  ، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے اس کی اجازت نہیں تھی۔ مجمع سے خطاب کرتے ہوئے عمران نے کہا ، ‘ہماری آنکھوں کے سامنے پچھلے کچھ دنوں میں ایسی تصاویر سامنے آئیں ، جو ہمارے ذہن میں یہ سوال پیدا کرتی ہیں کہ ہمارا ملک کہاں جارہا ہے۔ ہماری بیٹیوں اور بہنوں کو پولیس مسلسل تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش کی مراد آباد لوک سبھا سیٹ کے لئے عمران پرتاپ گڑھی کو امیدوار بنایا تھا۔ عمران شاعر سے رہنما بن کر انتخابی میدان میں قسمت آزمانے اترے۔ تاہم ، وہ الیکشن نہیں جیت سکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here