نئی دہلی : سپریم کورٹ نے بدھ کے روز ترمیم شدہ شہریت قانون کی آئینی جواز کی جانچ کرنے کا فیصلہ کیا ، اگرچہ اس نے اس قانون پر پابندی سے انکار کردیا ہے ۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے ، جسٹس بی آر۔ گیائی اور جسٹس سوریہ کانت کے بنچ نے 22 جنوری 2020 کو انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) ، کانگریس کے رہنما جیرام رمیش اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی تاریخ مقرر کی۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے یہ نوٹس کیا کہ شہریوں میں تر میم شدہ قانون کے بارے میں الجھن ہے۔ بینچ نے مرکز میں پیش ہونے والے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ آڈیو ویژول میڈیم کے ذریعے عوام کو قانون سے واقف کرنے پر غور کریں۔

 شہریت کے قانون کو لے کر دہلی سمیت ملک کی متعدد ریاستوں میں احتجاج جاری ہے۔ منگل کے روز مظاہرین نے دہلی کے علاقے جامعہ نگر  ، سرائے جولینا میں متعدد گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی۔ اس واقعے میں 12 پولیس اہلکاروں سمیت 22 افراد زخمی ہوئے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here