نئی دہلی : شہریت ترمیمی بل 2019 لوک سبھا اور راجیہ سبھا  سے  پاس ہو گیا ہے ۔ جس کے بعد اسے صدر رام ناتھ کووند کو دستخط کے لئے بھیجا جائے گا۔ جمعرات کو اس بل کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے۔ یہ عرضی انڈین یونین مسلم لیگ نے دائر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر شہریت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے عدالت سے بل کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دینے کو کہا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور وکیل کپل سبل مسلم لیگ کی طرف سپریم کورٹ میں کیس لڑیں گے۔

اسی کے ساتھ ہی ، آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ بھی اس بل کے خلاف درخواست دائر کرسکتا ہے۔ مسلم لیگ کے رکن پارلیمنٹ پی کے کنہل کٹی کا کہنا ہے کہ ہم نے بدھ کے روز پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے ذریعہ منظور کردہ شہریت ترمیمی بل کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ مکمل طور پر آئین کی بنیادی روح کے خلاف ہے اور کسی کو بھی مذہب کی بنیاد پر اس کو برباد  کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مسلم لیگ کا کہنا ہے کہ آئین کے بنیادی ستونوں کو ختم کیا جارہا ہے۔ آپ غیر قانونی طور سے گھسنے والوں کو شہریت کیسے دے سکتے ہیں؟ ہم کپل سبل کو اپنا وکیل مقرر کر رہے ہیں۔ لیگ نے پارلیمنٹ سے بل کی منظوری کو یوم سیاہ قرار دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے درخواست دائر کی ہے۔ جس کی سماعت اب عدالت کرے گی۔ اس کی مخالفت کرنا فطری ہے کیونکہ بہت سارے لوگ اس سے متاثر ہوں گے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں اس بل کی شدید مخالفت کی جارہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here