شنکر، دیپک اور خالد بچپن کے دوست تھے. شنکر کی گھریلو حالت اچھی نہیں تھی. اسلئے بچپن میں ہی ممبئی کا رخ کرلیا تاکہ گھر والوں کے لیے سہارا بن جائے۔

دیپک اور خالد  کا تعلق متوسط گھرانے سے تھا  اس لیے دونوں کو موقع ملا کہ وہ تعلیم کے  زیور  سے آراستہ ہو جائیں. خالد انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرکے سعودی چلا گیا. دیپک نے ایم بی بی ایس اور ایم ڈی کرکے ایک میڈیکل کالج میں نوکری کرلیا. دیپک کی شادی بھی ایک ڈاکٹر سے ہوگئی. دونوں خوشی خوشی رہنے لگے۔

دیپک نے اتفاق سےایک مرتبہ  ممبئی کا سفر کیا،اور سوچا کیوں نہ بچپن کے دوست شنکر سے ملاقات کرلوں. دیپک نے ایک تین ستارہ ہوٹل میں قیام  کرنے کا پلان  بنا  لیا تھا. لیکن شنکر کی محبت اور ملاقات  نے اسی کے پاس رہنے پہ مجبور کردیا حالانکہ دیپک کو شنکر کی لائف اسٹائل بالکل  پسند نہیں، لیکن دیپک کو ممبئی کو جاننے اور سمجھنے  کا موقع مل گیا تھا ۔

اس نے  شنکر کو دس بائی دس کے کمرے میں  زندگی گزارتے دیکھا. صبح میں دودھ پاؤں کا ناشتہ، دوپہر میں وڈا پاؤ اور کٹنگ چائے، شام کو روٹی سبزی دال چاول، لوکل ٹرین  میں  بدن کی مالش، آٹو رکشا کے لئے  لمبی قطار، دوڑ کر بس کو پکڑنا، پھر بھی  دیپک کو ممبئی کی ان تمام  چیزوں سے نہیں گزرنا پڑا جو عام طور پر ہوتا ہے . لیکن اس نے یہ محسوس ضرور  کرلیا کہ شنکر کو یہ سب کرنا پڑتا ہوگا۔

پھر ایک بار  اتفاق سے دیپک کا گاؤں جانا بھی  ہوا. صبح میں سیر  کے لئے نکلا تو دیکھا کہ جو لوگ گھر والوں کے آرام اور ضروریات زندگی کی تعمیل  کے لئے ممبئی میں محنت و مزدوری کرتے ہیں انہیں کے فیملی ممبر گھر سے سبزی روٹی کھا کے گھر سے نکلے ہیں اور چوراہے پہ چنا جلیبی کے ساتھ چائے نوش فرمارہے ہیں. اتنا ہی نہیں بلکہ اگر سو میٹر کی دوری میں چائے کی تین دوکانیں ہیں تو تینوں سے تعلقات بنا کے رکھتے ہیں. دیپک شنکر کے گھر گیا. گھر والوں کو اسکی حالت بتایا اور سمجھایا کہ اگر پیسوں کے استعمال میں ترجیحات طے نہی ہو ں گی تو یہ نسل بھی غیر تعلیم یافتہ ہی  رہ جائے گی. گھر کی قسمت بدلنا  ہے تو لائف اسٹائل میں بھی  تھوڑا بد لاؤ لانا ہوگا. ترجیحات طے کرنے ہونگے۔

شنکر کے گھر والوں کو یہ بات سمجھ میں آگئی. ایک سال کے اندر ہی شنکر نے اپنا خود  کاروبار شروع کردیا۔

خالد سعودی سے ہر سال ایک ماہ کے لیے گھر آتا ہے. اس سفر پر اتفاق سے دیپک کی خالد سے گاؤں میں  ملاقات ہوگئی. دیپک نے کہا، یار بہت ہوگیا باہر کا سفر. اب یہیں رہو. کچھ کاروبار کرلو. لیکن خالد نے اتنے مسائل گنوا دئے کہ دیپک کو کچھ کہتے نہ بنا۔

خالد کہنے لگا کہ ابھی تو بھائیوں کی تعلیم کا مسئلہ ہے، پھر ان کی اور دونوں بہنوں کی شادی، نئے گھر کی تعمیر… دیپک نے کہا بس  بھائی بس. تمہاری فہرست بہت لمبی ہے.. یہ لسٹ کبھی ختم نہیں ہونے والی۔۔۔..

خالد سعودی کے سفر پر نکل پڑا۔۔

دیپک اور اسکی بیوی نے ملکر ایک ملٹی اسپیشلٹی ہسپتال شروع کرلیا۔۔۔ شنکراب  اپنا کاروبار روز بروز بڑھا رہا ہے۔۔

ڈاکٹر محمد اسلم علیگ

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here