ناول زباں بریدہ قصہ درون قصہ کی خوبی کے ساتھ اپنے اسلوب واجتماع میں اچھوتی علاقائی جہت کا حامل ہے۔یہ بظاہر مشرقی اتر پردیش کے ایک بڑے خطے کاترجمان ہے ،بباطن زمین ،دانے،انسان اور معاشی اجارہ داری کا غماز ہے۔معیشت کی سیاست ملکی سیاق میں سرمایہ دارکی تابعدار رہی ہے اور ملکی نظام کے کل وپرزے بھی اسی کے تابعدار یا گماشتے کے کردار میں کام کرتے رہے ہیں۔ ہندستان میں ذات اساس برتری کی اجارہ داری نے اپنے تحفظات کے استحکام کے لئے جس انداز میں مختلف محکمہ جات کو یر غمال بنا یا، انصاف پسندی اور عدل ومساوات کو ہر فرد کی سطح پر بروئے کار لانے والے اداروں اور پالیسیوں کو عضو معطل کے مماثل کیا ہے ، اس نے ہندستانی کاشتکاروں کو حددرجہ متاثر کیا کہ دانہ اگانے والے ہی دانے کو ترس گئے۔کاشتکاروں کی ایک بڑی تعداد نے موت کو ابدی آسودگی کا لقمہ سمجھ کھانا شروع کردیا ۔ یہ ناول اسی آسودہ بھوک اور ننگی بھوکی اجارہ داری اوراستحصال کی تخلیقی سرگزشت ہے۔ یہ ناول اپنے سیاق وتناظر کو پختگی کی واقعی مثال ہے۔ قصہ پن، کردار کا ارتقا ،مکالمات کی علاقائی تاثیر اور قصہ کو رواں رکھنے اور کرداروں کے شخصی ابعاد کو روشن ومستحکم کر نے میں ان کی کامیابی،ناول کے مکان کودکھانے ، حرکی تصویر بنانے میں فنکار کے متخیلہ کی چست ودرست سرگرمی ،یہ وہ خوبیاں جو قاری کو پہلی قرأت میں نظر آجاتی ہیں۔ ناول نگار کے مختصر تعارف کے بعد ہم اس ناول کے مختلف اوصاف پر گفتگو کریں گے۔
ناول کے مصنف استاذی ڈاکٹر آصف زہری نے ملک کی عظیم دانشگاہوں سے علم وادب کی تحصیل کے بعد ادب کی تدریس کو ہی بطور پیشہ اختیار کیا۔ آپ نے شبلی کالج میں تدریس کے بعد ملک کے مایۂ افتخار دانشگاہ جے این یو کو اپنی تدریسی سرگرمی کی جولانگاہ بنایا۔ اس دانشگاہ کے مرکز السنۂ ہند میں آپ عرصے سے اردو ادب کی تدریس پر مامور ہیں۔ اس دانشگاہ میں آ پ کی نگرانی میں گراں قدر مقالے جمع ہوچکے ہیں۔ ڈاکٹر آصف زہری کےتحقیقی وتنقیدی دائرے میں نظم اور افسانے کو اولیت حاصل ہے۔ اردو نظم کی تاریخ ، اس کے اہم موڑ، فنی و ہیئتی تغیرات،موضوعاتی سیاق جیسے پہلوآپ کی نظمیہ تحقیق و تنقید کاحصہ ہیں۔ ترانے کی صنف جس پر ہیئتی اور صنفی دونوں ہی پہلؤوں سے کم نگاہ کی گئی ہے ، وہ بھی آپ کی تحقیق وتنقید کا مرکز ہے۔ فکشن کے باب میں ناول سے پہلے افسانے منظر عام آچکے ہیں۔ یہ افسانے ہم عصر اور اس سے لگی پچھلی تہذیب کے انضمام وتصادم سے علاقہ رکھتے ہیں اور نئی کہانی کے فنی حسن سے آراستہ ہیں۔
یہ بات ناول زباں بریدہ تک محدود نہیں جدید فکشن کی ہی خوبی یہ ہے کہ وہ وقت سے وفا کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔وہ وقت کی پابندی کو قبول کرنے سے نہیں ہچکچاتا۔وجہ اس کی یہ ہے وہ ہمیشہ کسی ایسی تعمیم و تجرید کا طلبگار نہیں ہوتا جو اسے وقت کی حد سے نکال کر لا زماں کر دے۔ وقت کی قید میں رہ کر رواں زندگی کی تہذیبی واجتماعی صورت کو قصے و فسانے کی صورت سچ بناکر دکھانااس کا کمال ہے۔زبان کی وہ شکل جو کسی معیار کا ساتھ نہ دے کر اپنے علاقائی حدود میں اپنے علائم واستعارات کا جادو جگاتی اور اپنی لفظیات کا طلسم قائم رکھتی ہے،ہمارے عہد وہ زبان شعر سے زیادہ فکشن میں وسیلۂ اظہار بنتی ہےاور زیادہ بہتر ڈھنگ سے بنتی ہے۔ لفظ کو اس کی خلقی اور سماجی شکل میں محفوظ کرنے کا کام فکشن سے بخوبی انجام پاتا۔فکشن میں کسی مقامی ثقافت کے مظاہر کو لسانی آب وتاب کے ساتھ پیش کرنے کی گنجائش زیادہ ہوتی ہے۔ شعر کا بلند معیار ابدی ولازمانی بننے کا مطالبہ اسے لہجاتی تنوع،سلینگ اور مقامی بولیوں سے فکشن کی بنسبت کم مستفید ہونے کا موقع دیتاہے۔فکشن کا معیاری لسانی رویہ اس قدر کشادہ ہوتا ہے کہ کئی لہجوں اور کئی مقامی بولیوں کو کامیابی سے نبھا لے جاتا ہے۔اس سلسلے میں اردو فکشن اردو شاعری سے زیادہ وسیع المشرب واقع ہوا ہے۔ فکشن کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس میں ایسی صناعانہ بندشیں کم ہوتی ہیں۔وہاں کسی مقامی ثقافت کے مظاہر کو لسانی آب وتاب کے ساتھ پیش کرنے کی گنجائش زیادہ ہوتی ہے۔زباں بریدہ کو بڑھتے اس خوبی کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
زبان بریدہ نام ہی اپنے آپ میں تجسس ،تحیر، المناکی،بے چارگی اور جرأت کے کئی معنی لئے ہوئے ہے۔ جیبھ ود ھ کا کو ئی سبب تو لازم ہے، اس کے بغیر زبان کیوں کر کاٹی جائے گی۔ سبب بھی کوئی معمولی اور عام سا نہیں ہوسکتا۔ جرأت بھی کسی بڑے نظام سے،شخص سے، ادارے سے یاگروہ سے ٹکرانے کی کی گئی ہوگی ،جو ہم یہ نام دیکھتے ہیں،’’زباں بریدہ‘‘ناول کی اصل کہانی یا اس کا کتھا رس بغیر اس میں اترے ہوئے چکھا نہیں جا سکتا۔
کہانی کے بنیادی کردار وں اور صورت حال کی اسطوری بنت کے لئے تیارکی گئی فضا ایک پرازتجسس کتھانک کو قائم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔۔قاری پورے قصہ کو پڑھنے کے لئے پھسکڑ مار بیٹھنے پرمجبورہوتاہے۔ زمین سے ایک عام آدمی کا لگاؤ نفع نقصان کے منطقی طریقے سے پرے، ہر موسم میں زمین کو فصل سے سرسبز رکھنے کی للک، اس سرسبزی سے والہانہ لگاؤ کا بیان،مقامی زبان کی لذت سمیت یہاںموجود ہے۔ساتھ ہی زمین کی سیاست ،نچلے طبقے کی زن اور زمین پر جابر طبقے کی اجارے کی روش آغاز میں ہی ناول کا حصہ بن جاتی ہے۔مقامی بولی کے مکالمے پوری ناول کے زمینی پس منظر کو بہت واضح کر دیتے اور قاری کو اس فضا سےاس حدتک مانوس اور قریب کردیتے ہیں کہ اسی دنیاکاحصہ ہوکر ،قرأت کے لمحات میں اسی ٖفضا میں جذب ہوجاتا ہے ۔اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ پورب کاساکن ہے ۔
ناول نگار اپنی پوری کہانی کو قصہ اندر قصہ انجام تک باقی رکھتاہے۔ ایک قصہ وہ ہے جو باہر کی دنیا میں چل رہاہے۔جس سے دیہی زندگی میں مشترکہ کلچر کی اساس واشگاف ہو رہی ہے۔بپت حاجی اور دھرمو کی انسانی قرابتوں کا مضبوط ماضی اور حال ہے ۔ دھرمو کے بیٹے کے وقتی ابال سے یہ سلسلۂ یگانگت یاد داشت کو ٹھہوکے لگاتاہے۔ دھرمو کا ماضی بپت کےباپ کی جگر کاوی اور نوآبادیاتی نظام کے خلاف اس کی حصہ داری کو سامنے لاتاہے۔ تو زمیندار اور منصب دار کی موقعہ پرستی کو بھی آئینہ کرتاہے۔
دانی اور منیا کی، بعد لئے ہوئے والہانہ وابستگی کیاہے؟شباب اور دوشیزگی کی جبلت کے آمیز ہوکر چاہ کابننے کا بیانیہ ۔یہاں جبلت کس قدر دبے پاؤں اپنے کام کرتی ہے۔اس جبلی لگاؤکے توسط سے منیاکے لباس، ساری کے رنگوں میں روشن ہوتی دیہی جمالیات کا نقشہ دیکھیے۔ دھرمو کے گھر دعوت پر دیہی دسترخوان کی لذتیں اور پکوان بنانے کی صورتیں ملاحظہ کی جئے۔ کٹیا سے زراعت کے معدوم ہوئے رنگ وڈھنگ کودیکھئے تو آغازمیں ہی ایک متنوع دنیا آبادہوتی دکھائی دیتی ہے۔
گھسراون کا داخلہ کا ملاحظے میں لائیے، اس کے نام پر غور کی جئے ۔اس کے جیبھ ود کے بعد کیڑوں مکوڑوں سے انسانوں کی تشبییہ کو ذہن میں لائیے تو گھسراون نام نہیں رہ جاتا بلکہ اپنے پورے طبقہ کی زندگی کا استعارہ بن جاتاہے۔ناول میں اس کے آتے ہی ایک داخلی کہانی اس کے ذریعے شروع ہوتی ہے۔ ناول نگار اس کردار کے لئے پہلے سے ہی پیش بندیکرلیتاہے۔اوراس انداز سے کہ قاری اس کی آمد کی توقع باندھے منتظر رہتاہے۔جیسے ہی وہ کہانی سنانے کے لئے آمادہ ہوتاہے، کہانی کے داخلی سامعین کے ساتھ قاری بھی اپنے سامعہ کو ہمہ تن ہوش کے مثل کردیتاہے۔
یہاں سے ایک الگ کہانی شروع ہوتی ہے جو ہمیں کال‌کے ایسے کھنڈ میں لے جاتی ہے جس سے معلوم تو یہ ہوتاہے کہ یہ کہانی جاتک کتھا کے یگ سے بھی پرانی ہے۔ کہانی میں ساہوکارانہ نفسیات کی عکاسی اور اجارادارانہ نفسیات کی پیشکش کا انداز بھی خوب ہے۔ کس طرح قدیم ملک کی معیشت اچئیت پتا ونوں کی بپاکردہ داخلی سیاسی کشمکش سے بہت آگے نکل‌چکی ہے۔گھسراون کا قصہ جنگ کے انجام کی نامکمل جھلک پر پہنچ کر آئندہ کے لئے مؤخر ہو جاتاہے۔یہاں دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ناول میں زرعی نظام، کاشتکاری کا طریقۂ کار ،دو نوخیزوں کا اشتیاق اور دیہی تہذیب وتمدن باہم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
آج کی ملکی سیاست میں چتپاون برہمنوں نے جس انداز سے اپنے اثر ورسوخ کو گہرا گاڑاہے اور جس انداز سے ملکی نظام کی چول اپنے دست تصرف میں رکھی ہے کہ دیگر پسماندہ طبقے اور ذاتیں تمام تر حکومتی تحفظات کے باوجود نظام اور ملک میں مساوی حیثیت پر پہنچنے میں ناکام رہی ہیں‌۔ آج ہم جس خوفناک صورت حال کےکھلے جبڑوں میں اپنی گردنوں کے ہونے کے تصور سے لرزاں ،انکار کی‌حد پرڈٹے کھڑے ہیں،اسے اگر بغور دیکھیں تو یہ ساری باتیں اپنے گذشتہ سیاق کے ساتھ ہمارے حال کااظہاریہ کا بن جاتی ہیں۔
کرداروں کے فطری ارتقاپر ناول نگار نے خاص توجہ کی ہے۔منیااور دانی کے لگاؤ کی منطقی بنیاد تو ہوگی ۔ دانش اس کامعلم ہوکر یہ شرط مکمل کرتاہے۔ منیابن رخصتی کی پرائی عورت ہے ،اس لئے جذبے اپنی حدوں میں رہتے اور کردار اپنی جبلت کو داخلی حدت اور جذبے کی شدت تک محدود رکھتے ہیں۔
زراعت اور بازار واد کی جنگ میں حکومتی پالیسی نے تاجر طبقے کے حقوق کو اولیت دی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ بسلیری کی بوتل ،لیز کے چپس کبھی اپنی قیمت کم نہیں کرتے۔ زمین ،پہاڑ اوربادل کا پانی اور کسان کے آلو ہمیشہ بے مول رہتے ہیں۔ حکومت ساہوکار کی حمایت پر مبنی پالیسی ہی چلاتی ہے۔ سیاست عوامی فلاح اور غریب سے رشتہ بس اپنے انتخابی نعروں میں ہی رکھتی ہے۔ کسان کی بدحالی اور اس کے استحصال کی روداد جب ناول کا حصہ بنتی ہے تو ناول کی سماجی معنویت اور سیاسی تفہیم نئے سروکار پیدا کر لیتی ہے۔ فرد کی جبلت اور سماج وسیاست کے ہم رشتگی روزمرہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کو جس انداز میں متاثر کرتی ہے، اس کا افسانوی بیان ناول میں ایک نئی جہت پیدا کرتاہے۔
ہم کتھانک کے سہارے آگے کو سرکتے ہیں تو اکیسویں صدی کے کاشتکار سے روبرو ہوتے ہیں۔ لیکن یہ کاشتکار اپنے اس پیشے کا ایسا‌ماضی رکھتاہے جب ٹریکٹر ،تھریسر دستیاب نہ تھے۔ مویشی کسان کی زندگی کا لابدی حصہ تھے۔بیلوں سے بوائی ،جتائی، سنچائی اور دواں ئی کے الگ الگ کام نکالے جاتے تھے۔ بیلوں کی دواںئی تھریسر سے بالکل مختلف ہوتی یہ سب نئی نسل کے لئے کہانی تھی ،ناول کے بزرگ کردار دھرمو اوربپت کے توسط سے بچے بطور مثال گیہوں کے مختصر سے گٹھر پر یہ سب ہوتا دیکھتے ہیں۔ پھر کچے گھروں میں اناج رکھنے کے کچے ظروف ۔ ڈرم نما‌اور چوکور کٹھالیں جو ہر سال اپنی ترتیب وتنظیم نو کی محتاج ہوتیں۔ منیا کے ذریعہ یہ مرمتی کام بھی قاری کے ملاحظہ میں آتاہے۔ساراکام نپٹالینے کے بعد چکنی مٹی سے لپی پتی منیا‌باہر آتی ہے تو دانی کی چشم تصور اس میں سندرتاکی جو مورت دیکھتی ہے ،اس کا بیان ناول نگار کے متخیلہ کی کیا ہی حسین ایجاد ہے۔ یہاں بیلو کا سودا بھی طے ہو چکا ہوتاہے۔ایک نئے سماجی المیے، سیاسی شرانگیزی سے کہانی کے کردار جوجھیں گے اور قاری ان کے تحمل اور بے چارگی کی خبر پائے گا تو گوودھ کی الگ سیاست تک اس کا ذہن جائے گا۔ خیال رہے کہ گوودھ ایک تہمت ،ایک الزام ہے زیادتی کوروارکھنے کا اور جیبھ ودھ بغاوت کی آواز کو خاموش کرنے کا۔دونوں ہی صورتیں ناول کا حصہ ہیں۔
آگے الگ الگ المناک رودادیں بیان کی گئی ہیں۔ایک جگہ دواں ئی کا ادھوراکام پورا ہوتاہے تو پردھان کی حریص ہوس سڑک میں چلی گئی اپنی زمین کو پٹواری کی مدد سے مکمل کرنے کے جتن کرتی ہے۔ آفت بپت اور دھرمو پر ہی آتی ہے کہ وہ دونوں طبقے کے قدرے کمزور لوگ ہیں۔
ناول اور آگے بڑھتا ہے تو مذہب کا وہ عفریت سامنے آتا ہے جس نے دھرم رکھشک کا روپ دھارکر سماج میں بدامنی پھیلانے کمزوروں کو صید زبوں کرنے کا‌لائسنس حاصل کر رکھاہے۔ حاجی بپت اپنااوردھرمو دونوں کےبیل لئے رائے صاحب کو فروخت کرنے کے لئے رواں دواں ہے کہ دھرم رکھشک گروہ اس کو زدوکوب کر کے بیل چھین لیتاہے۔ وہ زخمی ہوکر بیہوشی کی حالت میں ہوتاہے کہ ایک شناسا اسے دیکھ کر اس کےبیٹے کو بلالاتاہے اور اس طرح وہ سرکاری ہسپتال پہنچتاہے جہاں کا عملہ بغیر ایف آئی آر کے علاج کرنے سے انکار کردیتاہے۔ ایک پرائیویٹ ڈاکٹر قضیے سے لاعلم رکھے جانے کی شرط پر دوادارو، مرہم پٹی کرتاہے۔ پھر بپت بیٹے اور اس کے دوست پنڈت کے ساتھ تھانے جاتاہے جہاں کا تھانیدار نہایت ہی ہتک آمیز رویہ اختیار کرتاہے۔ اور اگیات لوگوں کے خلاف رپٹ لکھی جاتی ہے۔ وہ بیل جنھیں بیچ کر ایک کےبیٹے کی دکانداری کا سلسلہ شروع ہوناتھا،دوسرے کی بیٹی کی رخصتی کی جانی تھی اور کسانی میں دونوں کو ملے‌ خسارے کو چکایا جانا تھا ، وہ سارے کام دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اور مذہبی جنون نے جانور کے تحفظ کے نام پر جو جتھے اپجائے، انھوں نے اپنی حیوانیت کی تسکین کی خاطر جس ہجومی‌ قتل کا سلسلہ شروع کیاتھا،بپت اس کا شکار بنا۔یہاں ملاحظے کے لائق پہلو پبت اور دھرمو کی دوستی ہے کہ انھوں نے کس طرح اپنی نجی زندگی میں اس تعلق کو باقی رکھاہے جو ایک مشترک کلچر کی اساس ہے اور وہ طبقہ جس نے اتیہاس کی جوٹھن چکھ لی ہے ،وہ اس مشترک کلچر کے درپہ ہیں۔ ہجومی تشدد کے اس واقعے سے ناول میں ایک نئی جہت شامل ہو جاتی ہے۔
قصہ آگے بڑھتاہے۔بپت کے گھر پر دھرمو کی آمد ہے جہاں رات کے کھانے کا اہتمام دیسی مرغ مسلم سے کیاجاتاہے۔دھرمو کا پوراگھر بپت کے یہاں ہے۔منیا اور اس کی ماں گھر کے اندر مصروف ہیں۔ چائے کا تقاضا ہے ،دانی‌کی ماں جلاون کے لیے کھر پتوار اکھٹاکرنے سے ہاتھ اٹھاکر ،چائے بنانے آیا ہی چاہتی ہے کہ منیا چائے بنانے پر آمادہ ہوتی اور اسے اپنے کام میں لگے رہنے کا کہتی ہے۔ یہاں دانی‌اور منیاکو مل بیٹھ کر چار باتیں کرنے کا موقعہ ملتاہے۔ منیا سارے حجاب اٹھاکر دانی‌کی کے لئے اپنے اشتیاق کا برملا اظہار کرتی ہے۔ ظاہری فراق کو اپنے پریم کے لئےمانع نہیں جانتی۔اگلے جنم میکینک کی بیوی ہونے کا‌اپنا سندرسپنا کہتی ہے۔ یہیں شرپسند چھیدی کی آمد ہوتی ہے جو اپنی فرقہ وارانہ شر پسندی کے ہفوات بکتااور دانی‌کی گالی گلوچ سن کر دفعان ہوتاہے۔مکدر فضا کو بدلنے کے لیے دانی‌اور چنو باہر کا چکر لگانے نکلتے اور کمہروٹی کا رخ کرتے ہیں۔ پلاسٹک کے ڈسپوزل نے یہاں کے کمہاروں کا پیشہ بھی مندا کر دیا ہے۔پھر بھی دیکھنے کے لئے ایک آدھ نمونے تو باقی رہ گئے ہیں ۔ دانی “چاک”،چکئیت،لہسر,بکیاجیسے اوزاروں سے قاری کو واقف کراتا ہے۔تلائی ، بھروکا، مٹکا وغیرہ ظروف جیسے ظروف بھی سامنے آتے ہیں۔
گاؤں ، ْقصبوں کی زندگی جینے والے وہ سارے لوگ جو پچیس تیس کا عدد پار کر چکے ہیں ، ماٹی کے حسن ،سوندریہ اور آکاروں ،شلپوں کی جمالیات سے بھلی بھانتی واقف ہوں گے۔ بازار واد کی آندھی نے دیپوں کی جگہ برقی قمقمے روشن کرنے شروع کر دئے ،ہم ننھے ننھے دیپوں کی سگندھی ماٹی سے محروم ہوئے ۔ دیپاولی تیل ، گھی کے دیپوں سے محروم ہوگئی ۔پٹاخوں میں بدل کر پٹکخاولی ہوگئی ۔واٹر کولروں نے گاگروں اور لوٹوں ، مٹکوں کاسوندھی خوشبو میں رچا بسا پانی ہم سے چھین لیا۔ عجیب بات ہے کہ ہم جیسے جیسے پلاسٹک کی طرف بڑھتے گئے ، ہم خود پلاسٹک جیسے ہوتے گئے ۔ یہاں کمہروٹی کی سیر اوردانی کی تعارفی گفتگو ہمیں کلا کےان گمناموں لے گئی جو اپنی کلا کی داد کیا پاتے کہ گمنامی ان پر مسلط رہی اور آخر وہ اس پیشے میں نان شبینہ کو بھی محتاج رہنے لگے۔
آگے کہانی کسانوں کے احتجاج تک اس طرح پہنچتی ہے کہ دانی‌اور دھرمو زمین کے سلسلے میں رپٹ لکھوانے کی خاطر شہر جاتے ہیں ۔وہاں کسانوں کی بڑی تعداد اپنے‌قرض معافی کو لے کر حکومت کے خلاف احتجاج کر رہی ہے اور حکومت کی طرف سے پروانۂ معافی کی امید لگائے ہوے ہے۔ قرض معاف نہیں ہوتا البتہ دفعہ ١٤٤ نافذ ہوتی ہے اور احتجاج کو رفع کرنے کے لئے تشدد سے کام لیا جاتا ہے جس میں آٹھ کسان ہلاک اور کئی زخمی‌ہوتے ہیں۔ مہلوکین کو پچاس لاکھ اور زخمیوں کو ایک لاکھ دئے جانے کا حکومت اعلان کرتی ہے۔ تو دھرمو سوچتا ہے کاش وہ بھی پولیس کی گولی سے ہلاک ہو جاتا تو اس کے بچوں کی زندگی بن جاتی۔ کسان خودکشی کرے تو بے مول اور پولیس کی گولی سے مرے تو پچاس لاکھ۔زندگی کی ارزانی کا یہ عالم کس قدر ہولناک منظر پیش کرتاہے۔ قرض اور ذمہ داریوں کے بوجھ سے دھرمو حوصلہ ہار کر موت کو گلے لگا لیتاہے۔ سلفاس کی گولیا اس کا راستہ آسان کردیتی ہیں اور وہ سارے جنجال‌سے بہت آگے بڑھ کرموت کو گلے لگالیتاہے۔
دھرمو کی موت نے انسانی‌زندگی کی آخری رسوم کےمنظر کو مع دیہی لوازم کے سامنے کیا۔ نعش کے جلنے اور چتاکے بھسم ہونے کا‌منظر اپنے آپ جائے فنابھی ہے اور موقعۂ عبرت بھی۔ میت کے کریاکرم کے بعد کی رسموں کو بھی بیان کیا۔ آخر میں ماما گھسراون سے منیا اپنے باپ کی موت کادکھ یہ کہہ کر بانٹتی ہےکہ پردھان اور سرکار نے مل کر ہمارے باپ کا ودھ کر دیا یہ تو ہمیں اچئیت پتاون لگتے ہیں۔ ساتھ ہی راجہ کی کہانی یاد آئی ،وہ ماما‌سے اچئیت پتاونوں کے بچ نکلنے کا سبب پوچھنے لگی۔ ماما‌غم کی فضا میں کہانی سنانے پر آمادہ تو نہ تھا لیکن منیا کے اصرار پر اس‌نے بتایاکہ جن راجاؤں نے ان اچئیت پتاونوں کے خلاف لڑنے کے لیے فوج بھیجی تھی ،انھو ں نے ہی انھیں بچانے کے لیے فوج بھی بھیجی تھی۔ سو سارے راجا اپنے چھیتر کی انتی کی لالچ میں انھیں بچاکر لے گئے لیکن جلدی ہی ان کے عوام بھی ان سے عاجز آگیے اور ایک خاص منتر سے ان سے چھٹکارا پایا۔ اب آگے کاقصہ گھسراون آئندہ پر ٹال گیا۔
جب زندگی‌ کو معمول پر کرنے کا‌موقعہ آیا تو منیا نےآگن باڑی کا رخ کیا۔واپسی پر آگن باڑی کے حساب پر دستخط کی امید لئے وہ پردھان‌ کےٹیوب ویل پر جا پہنچی، جہاں اس مرضی کےخلاف اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی یعنی بلاتکار ہوا۔بھائی اور دانی کو اٹھوانے‌کی دھمکی ملی اور دھرم رکھشکوں کے ہاتھوں بپت کی پٹائی کے پیچھے کا بھید کھلا۔سنجوگ سے اس کے کپڑےکروندے کے پیڑ سے الجھے، اس بلاؤز نے گھرلوٹتےدانی کی نظر کھینچ لی اور وہ بھی اسکوٹر سمیت ٹیوب ویل تک آگیا۔
اب انسانی جبلت کافرق دیکھئے کہ ایک طرف دانی‌کے سینے میں منیاکے لئے شباب سے بھر پور جذبہ ہے۔وہ اسے ایک حسن کی مورت کی صورت دیکھتاہے۔منیاکے دوشیزہ حسن میں دانی کے اشتیاق کی پناہ گاہیں ہیں، وہ اس بدن کی جمالیات میں کھونے کے کے باوجوداپنی داخلی‌کسمساہٹوں کو قابو کرنے میں کس حدتک کامیاب ہے۔ چنیا‌بذات خود اس میں وہی کچھ دیکھتی جو دانی دیکھتارہالیکن وہ اپنے جبلی جذبے کے اثر میں آکر فطری خواہش کا در وا ہونے نہیں دیتے۔اور ایک طرف پردھان اپنی استحصالی طبیعت سے مجبور ہے۔ وہ اس چنیاکے حق میں مگس بن کر گلچینی کرتاہےاور بدلے میں آنگن باڑی کے پیپر پر دستخط تک کرنے کو روادار نہیں ہے۔ وہ آبرو جانے کی تہمت کا استحصالی دام پیدا کر لیتاہے۔دانی کا جذبہ اس قدر جبلی ہے اس کے باوجود وہ اپنے آپ میں ایک اخلاقی رویہ پیدا کرلیتاہے جو ظاہر ہے،اس کی محبت کا ہی زائیدہ ہے جو اپنے محبوب کی جگ ہنسائی کے کسی بھی امکان کو معدوم کرنے کے لئے مانع حمل دوا تک لے آتااور اسے کھانے کی تلقین کرتاہے۔ یہاں قابل غورپہلو ورن ووستھامیں آستھا رکھنے والوں کا وہ لا انسانی رویہ ہے جو اس گھناؤنے جرم کو بھی ان کے لئےلاشے بنا دیتاہے۔ہندستانی سماج میں بلاتکار کی نفسیات کو سمجھنے اور مظلوم کے دادرس نہ ہونے کی نفسیات کا یہ اعلیٰ ترین اظہار ہے۔
کہانی‌آگے بڑھتی ہے۔منیااپنے بھائی اور دانی کے ساتھ ایس ڈی ایم کے دفتر پہنچتی ہے۔ جمعہ کادن ہے۔نماز سے پہلے کاوقت ہے۔ عوام سے ملنے کاوقت لنچ کے بعد کاہے۔دانی‌دونوں کو بٹھاکر نماز پڑھنے جاتاہے۔ بھائی بہن ایس ڈی ایم کے حضور حاضر ہوتے ہیں کہ جمہوری ملک میں دفاتروالوں کاطمطراق تو راجواڑوں جیسا‌ہی ہے۔پہلے دونوں سے گفتگو ہوتی ہے۔ منیاکا‌بھائی اپنے بیلوں کی چوری اور کھیت پردھان کی سینہ زوری کا پہلو ایس ڈی ایم کے سامنے‌رکھتاہے۔منیاپردھان کی مار پھٹکار اور آگن باڑی کا مسئلہ پیش کرتی ہے۔اب رجسٹر کے اندراجات کے معائنے کا مرحلہ آتا ہے تو بھائی باہر بھیج دیا جاتا ہےاور ایس ڈی ایم جو خود غربت سے لڑکر اس منزل تک پہنچاہے،منیا سے روبرو ہوتاہے۔ملائمت اور ہمدردی کا لہجہ اختیار کئے وہ اس سے ہمکلام ہوتاہے۔اس کی داد رسی کرتااور مدد کا یقین دلاتا ہے۔اس کے لہجے اور نظر کی حدت سے منیا اس کے تعاون کے لیے مطلوب صلے کو جان لیتی ہے۔یہاں پر آکر جذبے نہ تو نرے بہیمانہ ہوتے ہیں پردھان جیسے، نہ بے لوث دانی‌جیسے۔یہاںزبانی ہمدردی تو ہے لیکن اعانت کازر تبادلہ بھی ہے اور وہ ہے بدن کے رنگ وایندھن میں جسم کی حدت کا سامان تسلی۔یہ قیمت آنگن باڑی کے کمرے میں وصول کی جاتی ہے۔ یہاں سب نیم باہمی رضا مندی سے ہو جاتاہے۔ ہم‌اس طرح انسانی‌جبلت کے تین روپ دیکھ لیتے ہیں۔یہ ناول نگار کا کمال ہے۔:
“’’سایہ، انگیا‌سمیت دیگر کپڑے پہنتے ہوئے سو چنے لگی کہ پر دھان‌نے‌میرے ساتھ زبر دستی کی،ایس ڈی ایم کے ساتھ نیم‌رضامندی‌شامل‌تھی لیکن جس کے تئیں میں مکمل رضا مند ہوں وہ دست درازی تو دور کی بات، پیش قدمی‌بھی نہیں کرتا۔‘‘
آگے زمین کی بازیابی کے بعد گنے کی کھیتی کا معروضی بیان ناول کا حصہ بنا،جس میں نت نئے دیہی محاورے،کہاوتیں،کھیتی کی دیہی اصطلاحات بیانیہ کا حصہ بنیں۔ظاہر ہے کہ یہ زبان اور محاورے ہمارے لئے نئے اور اچھوتے ہیں کہ طرز زراعت سے یا زراعت سے ہمارا ناطہ ٹوٹ چکاہے ورنہ فی الاصل تو یہ بہت پرانی ہوںگی۔ کھیت کی بیل اور ہل سےجتائی ،بھرائی اور بیرن ڈالے جانے کی سرگرمی کاذکر کرتے ہوئے ناول نگار نے دھان کے بیج ڈالے جانے تک کے مناظر تک قاری کو رسائی دی ہے۔

باپ کی موت کا‌معاوضہ ایک نئی کرن تھاجس کے اجالے میں جبلت کو ایک بار پھر اندھیر کرنی تھی۔ ایس ڈی ایم کشن کمار کے بلاوے پر ماں بیٹی اس کے دفتر پہنچیں۔اس نے سارے مراحل پہلے سوچ رکھے تھے کہ منیا کا دیہہ بھوگ کیسے کرنا ہے۔منیا‌پہلے آمادہ نہ ہوئی لیکن ڈھائی لاکھ کے چیک کی لالچ اور اس کے ضائع ہو جانے کے خوف سے رام ہو گئی۔ کام ودہن کی تسکین اور حدت ہوس کی تبرید کر لینے کے بعد جب ایس ڈی ایم اس کی انتظار کرتی ماں کے پاس لے آیا تو وہاں دانی بھی موجود تھا۔اس کے دل میں شبہے تو پہلے سے ہی تھے، اب اور منھ زور ہورہے تھے۔خیر وہ گھر لوٹنے لگے۔
آگن باڑی کا چیک بھنانے کے لئے منیابینک گئی تو دانی‌بھی وہاں پہنچ گیا۔اس نے منیاسے شکوے کئے۔ایس ڈی ایم اور پردھان زادوں سے بچ رہنے کی تلقینیں اور تنبیہیں کیں۔آج منیا نےاپنے من کی ایک اور بات کہہ دی کہ جب اتناہی چاہتے ہوتو مجھ سے شادی کیوں نہیں کر لیتے۔ اس کے جواب میں دانی کا طویل مکالمہ ہمارے عہد کی سچائی ہے۔غربت اور کسانی کے دھرم سے اوپر کے رشتے کے کیوں کر مضبوط ہیں اور دھرم کے دھاگے سے کیسی اڑچنیں آتی ہیں کہ دانی کو کہناپڑا::
’’ہمارے تمھارے بیچ کا دھاگا تو بہت مہین اور کمزور ہے۔جودرد کا دھاگاہے۔اگر اس دھاگے کوہم مجبوط کرنے کی کوشش کریں گے تو میرا گھر جلادیاجائے گا۔ نہ جانے کتنے لوگوں کا خون بہے گا۔اس لئے ہمارے بیچ کیول کسانی اور گریبی کا دھاگاہی رہنا چاہئیے۔تاکہ کوئی توڑ نہ سکے۔‘‘
ایس ڈی ایم کا دیاہواموبائل آج ہی دن آن ہوا،منیاکے موبائل پر ایس ڈی ایم کے کئی میسیج آدھمکےتھے۔جن میں ملنے اور ہوسنےکی چاہ تھی۔یہ میسیج منیا کو بالکل بھی نہ بھائے۔گھر لوٹتے وقت کشن کمار کا فون بھی آگیا،پہلے پہل تو اس نے ملنے کی التجاء کی اور جب التجاپوری نہ ہوئی تو دھمکی سے بھری ہونہہ سے کان لرزے۔سلسلۂ کلام بند ہوا تو وہ الجھن میں پڑ گئی۔باپ کی پھانسی والی موت کی بجائے گولی والی موت کی تمناکی کہ اس سے پچاس لاکھ ملتے۔اسے لگا کہ کشن کمار کسی اچیئت پتاون سے کم نہیں ہے۔اوراسے گھسراون ماما یاد آئے۔اس نے فون کیا تو گو مگو سا جواب ملا جس میں کسی الم کی جھنکار تھی۔ اس نے کئی بار پوچھا آخربول پڑی”کب بھوا، ان کا دیہانت “معلوم ہوا کہ دیہانت نہیں ہوا، ان کی زبان ہی کاٹ لی گئی ہے۔ وہ زبان جس سے چت پاونوں کے مکرجال سے باہر آنے کا طریقہ معلوم ہوناتھا ،کاٹ دی گئی۔ جیبھ ودھ کی اس گھٹنانے چت پاونی تنتر کی شکتی سامنے کردی‌۔ یہ ظلم کی حدیں اور سرحدیں بنانے والوں کوبے نقاب کرنے والےدیہی داستان گوکے گونگے ہونے کی کہانی نہیں بلکہ ایک اقلیت کے پوری ملکی آبادی پر حاکم ہونے اور حاکم بنے رہنے کی حکمت عملی کاہلکاسا ٹریلر ہے۔ جہاں پہنچ کر ملکی نظام میں مظلوم کی بے بسی اور چت پاونوں کے ظالمانہ نظام کے باریک سانچوں کاسامنظر ملتا ہے، جو سوچ کے لئے بڑے کواڑ اور پٹ کھول دیتا ہے۔اس طرح سے ناول اپنے انجام کو پہنچ کر اپنے نام کی اصل تعبیر بنتا ہے۔
بیانیے کی بافت، کتھانک کی سٹیکتااور کرداروں ، مکالموں اور پلاٹ کی چستی اورکساو کو پرکھنے کا مجھ میں حوصلہ نہیں کہ یہ نرے ٹکنیکل تنقیدے علاقے کی چیزیں ہیں۔ اب تک اچھے فن پارے کے بارے میں یہی سیکھا ہے کہ وہی اچھا فن پارہ ہےجس پرسوچنے بچارنے اور لکھنے کے بعد بھی بہتوں کے لئے بہت کچھ بچ رہے۔ جتنی آنکھیں اسے دیکھیں اور جتنے دماغ اس سے سابقہ کریں، اتنے ہی پہلو اس سے نکلیں۔ اردو کی حد تک کہہ سکتے ہیں کہ ایسی چیزیں شاید باید لکھی گئی ہوں جو ایک ساتھ اتنے ابعاد سمیٹے ہوئے ہوں ۔پوربی تہذیب اور کرداروں کا ارضی پس منظر جس خوبی سے بیانیہ کا حصہ بناہے،وہ قاری کوشہری دنیا سے الگ دنیا میں لے جاتا ہے جہاں زبان ومحاورے کی الگ دنیا آباد ہے ۔ محرومی، اندیشے، خدشے کس طرح گالیوں کو محاورے میں پیوست کرتے ہیں، اس کا اندازہ بھی ناول پڑھ کر ہوتا ہے۔ کسانوں کی زندگی میں مٹی، کھیتی اور سبزے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ کھیتی باڑی کی مشقت کے ساتھ بیج سے لے کر بالی تک کتنے مراحل میں مٹی کے ساتھ کسان کے حسن لوک اور دھرتی پریم کی صورتیں چلتی پھرتی دکھائی پڑتی ہیں۔
مکان ومقام کو حاضراتی بیانیے میں قید کرنے اوراحساس وجبلت کے ہچکولوں کو لفظوں میں محبوس کرنے کی خوبی ناول نگار اس متخیلہ تک لے جاتی ہے جو اپنے قصے کے اور چھور ، کرداروں کی ذہنی وجبلی کروٹوں اور نفسیاتی گرہوں کو بڑی مضبوطی سے اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہے۔ یہاں فنکار کا نابغہ ظہور کرتا اوردیہی زندگی کے قصے کو اسطور کی مقامی تعبیر میں قید کرتاہے۔ کردار کی زبان سے ادا ہونے والے مکالمے اپنی ارضیت سے ایسے چمٹے ہیں کہ وہ بذات خود اپنے مکان کی ماحولیاتی تعبیر بننے، اپنے کردارکو اس کی سائیکی اور شخصیت سمیت مستحکم کرنے اور اس کے اطراف کو اجالنے کی خدمت پر مامور معلوم ہوتے ہیں۔
ناول کے اندر موجود قصہ گو کے قصے اور ناول کے کردار کے افعال وتفاعل سے بڑھتی کہانی کے مابین اجتماعی سائیکی اور استحصالی تنتر کی سطح پر زیادہ فرق نہیں ہے۔ فرق بچا ہے تو اس تغیر کاہے جسے صنعت واطلاع کے بطن نے جنا ہے۔ زمانے کے فاصلے پر کھڑی دور کی دنیا اور جیتے جاگتے کرداروں کا جہان دونوں جس خوبی سے آپس میں ضم ہوئے ہیں، وہ انضمام فنکار کی کامیابی کی شہادت ہے۔حویلی زمیندارانہ استحصال کی علامت ہے۔ آج اس حویلی کی جگہ بینک نے لے لی ہے جس کا سہارا لینے کے لئے عہد حاضر کا ہر شخص مجبور ہے۔ منیا بارش سے بچنے کے لئے اسی کا سہارالیتی ہے۔کس بارش سے بچنے کے لئے ، جس کے کسان منتظر تھے ، جس سے ہریالی آتی ہے جو بینک کی سودی اور لمحاتی خوشحالی کے بجائےفطری اور دیرپا خوش حالی کی ضامن ہے لیکن عہد حاضر کا ہر فرد سماوی عطیات پر انحصار کرنے کے بجائے بینک کی جانب دوڑتا ہے۔ افراط اجناس کے نئے طریقےاوروسائل ایسے نہ ہوئے کہ انسان زمین اور دانے کی جبلی حالت پرمنحصر رہتے ہوئے اپنی کاشت کو اس قدر کارآمد بناتا کہ افراط اجناس کی متصور شرح حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا۔لامحالہ بیج اور کھاد کے چکر میں اس کی گرفتاری کو ناگزیر بنادیا گیا۔ پھر آبپاشی کے ناقص نظام اور صرف زیر زمین پانی پر انحصار نے بعض علاقوں کی زراعت کو اور زیادہ دگردوں کردیانتیجہ کسان کی بدحالی ،خودسوزی اور خود کشی کی شکل میں ظاہر ہوا۔
ملک کی طویل تاریخ اور موجودہ سیاست میں برہمنزم کے جو اشکال کارفرما رہے رہیں ،اسے اچئیت پتاونوں کی کتھا کے ذریعے گہری معنویت ملی ہے۔سیاسی ابتری، محکماتی استحصال ، طبقاتی تفریق وامتیازکے سارے دائرے اسی چت پاونی تنتر کے مظاہر ہیں۔ کسانوں کا سودوزیاں ، قرض کی گردش سے جس طرح گول چکر کی طرح بندھ گیا ہےکہ اس کی کل زندگی اس کے گرد گھوم کر فنا ہوجاتی ہے۔ نچلے طبقے کی مزاحمتی آوازیں بزور دبا دی جاتی ہیں۔ آواز تک پہنچنے کے وسائل پہنچ سے باہر رکھ دئے جاتے ہیں۔ گھسراون کا زباں بریدہ کیا جانا ایک واقعہ نہیں ، استحصالی طبقے کی ایک مسلسل روش ہے جسے کامیاب افسانوی ترسیل میں بدلنا ہی اس ناول کی کامیابی ہے۔پنرجنم کے لئے کیچوے کا اشارہ ایک علاعدہ علامت بن جاتاہے کہ اس پورے طبقے کے تحرک اور تیز گام ترقی کے مستقبل پر سوالیہ نشان بن جاتاہے۔
اسلوب کے نقطۂ نگاہ سے بھی یہ ناول اس لئے اہم ہے کہ یہ زبان کے علاقائی امکانات کو سامنے لاتاہے۔ ایک ملک گیر محاورے اور قواعد کی پابند زبان کس طرح علاقائی عناصر سے متمول ہوسکتی ہے اور اس کے ذخیرۂ الفاظ واسالیب اظہارمیں کس نوع کے تنوعات پیدا کئے جانے ممکن ہیں، اس سوال کو بھی یہ ناول سامنے لاتاہے۔ زباں بریدہ قصہ درون قصہ کی خوبی، کسان کی زبونی، نسلی تفاوت کی قہر سامانی، نچلے طبقے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کےکامیاب بیانیے،کامیاب کردار نگاری ، بامعنی اور کردار کشا مکالموں کے ساتھ ایک بڑے سوال کو قائم کرنے والا ناول بن جاتاہے ۔اس ناول کی خوبی یہ ہے کہ یہ واضح اور اعلانیہ سماجی سروکار رکھتے ہوئے اپنی علمیات کو اپنی وجودیات پر حاوی نہیں ہونے دیتا۔فن سماجی حقیقت نگاری کی قربان گاہ پر نذر نہیں چڑھتا، نہ ہی سماج پر فنیت کا ہوکا حاوی ہوتاہے۔ قصہ قصہ رہتا ہے ، زندگی زندگی رہتی ہے اور ان کے حسین امتزاج سے گندھ جو فن پارہ بنتا ہے وہ زباں بریدہ کا نام پاتا ہے جیبھ ودھ کی ہولناکی کو بیان کرتا ہے اور کیچوےکی سی سست روی اور لاچاری کا انسانی استعارہ بن کر قاری ذہن سے ایک بڑے سوال کی صورت چپک جاتا ہے اور یہ چپک جانا ہی فن پارے کے نعمت ہے۔


ممکن ہے کل زبان وقلم پر ہوں بندشیں
آنکھوں کو گفتگو کا سلیقہ سکھائیے
مشیر جھنجھانوی

تجزیہ نگار : تفسیر حسین

ریسرچ اسکالر ، جواہرلال نہرو یونیورسٹی ،نئی دہلی

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here