ایک طرف ضحاک کے دونوں شانوں کے سانپ انسانی بھیجے کےلیے پھنکار رہے ہیں، دوسری طرف کم سواد تصور کی جانے والی خواتین ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان  کا پھن کچلنے کے لیے ہاتھ بڑھا رہی ہیں۔

روایتیں جب ٹوٹتی ہیں تو ڈر اور خوف سب روند جاتاہے، روایت کی جکڑ ندیوں کو توڑنے والوں کو پھر اس بت کا خوف نہیں ہوتا کہ آگے ان کے ساتھ کیا ہوگا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ روایتیں یوں ہی ٹوٹتی بھی نہیں ہیں اس کے پس پشت بہت سے عوام و اسباب کار فرماہوتے ہیں جن کے نتائج میں یہ روایتیں ٹوٹتی ہیں. مسلم سماج کی خواتین پر روایت پسند ہونے کا الزام عائد ہوتا رہا ہے، یہ روایت صرف روایت ہی نہیں ہے بلکہ اس روایت میں ہند اسلامی کلچر کا وہ آمیزہ ہے جسے مشرقیت کا خوبصورت نام دیا گیا ہے. مسلم خواتین عموما گھروں میں رہنا پسند کرتی ہیں، لیکن جس طرح زمانہ نے رفتار پکڑی، وہ بھی اپنی روایتوں کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں اور زمانے کا ساتھ دیتی رہیں، آج بھی وہ نہ صرف ساتھ دے رہی ہیں بلکہ وہ اس سماج کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہی ہیں، اس وقت انہوں نے ملک کے آئین کی روح اور اس کے تنوع کے تحفظ کی ذمہ داری اپنے دوش ناتواں پر لے رکھی ہے. ہر شہر میں ان کے جوش اور جذبات کا جوار بھاٹا دیکھنے کو مل رہا ہے.یوں تو اس وقت پورے ملک میں تقریباً 150 مقامات پر خواتین احتجاج کے لیےہاتھوں ترنگا اور لب پر حب الوطنی کے گیت کے ساتھ  دن رات دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں لیکن د ہلی کا شاہین باغ اس کا مرکز بن چکا ہے جس کے بعد اب لکھنؤ کا گھنٹہ گھر پارک دوسرے بڑے مرکز کے طور پر ان شاہین صفت خواتین کے عزم و حوصلے کا گواہ بن رہاہے. جہاں نعروں اور نظموں کی شکل میں ان کے جذبات سامنے آ رہے ہیں۔

کاوش عزیز ایک فوٹوگرافر ہیں اور نظمیں بھی کہتی ہیں انہوں نے یہاں احتجاج میں اپنی ایک نظم سنائی جس کے صرف دو بند پیش کرتا ہوں، دیکھیں لفظ و لہجے میں کتنی آگ اور کتنے شعلے ہیں

تم لگاؤ ہتھکڑی، تم چلاؤ لاٹھیاں

اب مناؤ تم خیر نکل پڑی ہیں بٹیاں

سیاستوں کی آڑ میں جو ظلم تم نے ڈھائے ہیں

روایتوں کو توڑ کر نکل پڑی ہیں بیٹاں

نہ ڈر پولیس کا ہے انہیں، نہ وردیوں کا خوف ہے

مکان چھین لوگے تم، دکان چھین لوگے تم تمہارے ڈر کو روندنے نکل پڑی ہیں بیٹاں

خواتین انسانی آبادی کا نصف بہتر ہی نہیں بلکہ اس کے وجود کی تکمیل کا اعلامیہ ہیں، جس سے کسی بھی طرح سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے. علامہ اقبال نے کہا تھا “وجود زن سے ہے کائنات میں رنگ”.تو یہ خواتین اپنے وجود سے اس وقت رنگ ہی بھر رہی ہیں۔

آزادی کے بعد ہندستانی آئین نے خواتین کو یکساں حقوق دییے، قانون نے ان کو مردوں کی طرح ہی اعلی و ارفع اور برتر وبالا تصور کیا. آئین کی نظر میں مرد و عورت دونوں نہ صرف برابر ہیں بلکہ ملک کے وسائل پر دونوں یکساں حق ملکیت کے حامل بھی ہیں، دونوں کو اظہار رائے کی آزادی ہے. چونکہ اسلامی آزادی حدود وقیود کے ساتھ ہے تاکہ سماج کے تانے بانے میں کسی بھی طرح کا ادھیڑ بن نہ آئے اور توازن قائم رہے، اس لیے مسلم معاشرے پر طرح طرح کے الزامات آج بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں. مسلم خواتین کے بارے میں کہا جاتاہے کہ ان کو گھروں کی چہاردیواریوں میں قید رکھا جاتاہے جو حقیقت سے بعید بات ہے. مسلم سماج میں ضرورت کے مطابق آزادیاں اور حدبندیاں ہیں، جب جیسی ضرورت ہوتی ہے خواتین اس طرح کے فیصلے کرتی ہیں۔

اب جب کہ آئین ہند کی روح کے منافی شہریت ترمیمی بل لا کر اور این آر سی کا اعلان کرکے اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ اس پورے مسلم سماج کو شہریت سے محروم کردیا جائے تو پورے ملک کے ساتھ اور مردوں کے شانہ بشانہ مسلم خواتین بھی گھروں سے نکل کر میدان میں آگئیں تاکہ ملک کے آئین کو بچایا جا سکے. آئین میں جب کسی طرح کے امتیاز کو روا نہیں رکھا گیا اور اس کی اجازت نہیں دی گئی تو پھر اس کے منافی قوانین کو ملک کیسے برداشت کر سکتاہے۔

خواتین میں جہاں شاخ گلاب کی طرح لچک ہے وہیں ان میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح صلابت بھی ہے، اب تک ملک نے صرف ان کی نازکی دیکھی تھی، چند تاریخی اہمیت کی حامل خواتین کو چھوڑ کر ابھی تک ہم نے وہی قصے سنے تھے جس سے ذہن و دماغ پر غنودگی طاری ہولیکن آنے والی نسل وہ قصے سنے گی جس میں کسی خاص خاتون کو مرکزیت حاصل نہیں ہوگی بلکہ اس دور کی ہر خاتون ایک ہی حیثیت کی حامل ہوگی، سب میں جھانسی کی رانی، بیگم حضرت محل، اودا دیوی اور جھلکاری بائی کی جھلک نظر آئے گی. آج کی خواتین اپنے عمل سے ثابت کر رہی ہیں کہ ان کا وجود صرف گھر کے رنگ اور اس کی زینت کے لیے نہیں بلکہ چمن کی آرائش میں وہ خود کو لہولہان کرلینے کا جذبہ بھی رکھتی ہیں. ایک طرف ضحاک کے دونوں شانوں کے سانپ انسانی بھیجے کےلیے پھنکار رہے ہیں، دوسری طرف کم سواد تصور کی جانے والی خواتین ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان  کا پھن کچلنے کے لیے ہاتھ بڑھا رہی ہیں۔

آزادی کے 72 برس بعد اگر اسٹیٹ ملک کی آئینی روح اور اس کے تنوع کو بچانے کی خاطر خواتین کے گھروں سے نکلنے، رایے کے اظہار کی آزادی کے استعمال اور ظلم کا مقابلہ کرنے کی ہمت پر ان کی مذمت کرے تو یہ لمحہ فکریہ ہے. اترپردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے اگر یہاں کے وزیر اعلی ہی آئین مخالف بیان دینے لگیں تو پھر سوال اٹھنا لازمی ہے. جس طرح کی زبان اور باڈی لنگویج کا استعمال وزیر اعلی نے ان خواتین کے لیے کیا ہے وومن کمیشن کو اس پر جواب طلب کرنا چاہیے. ان کے بیان کی زبان اور کہنے کے طریقے سے محسوس ہوتاہے کہ مسلم خواتین کے سڑک پر نکلنے سے ان کو خوشی مل رہی ہے اور وہ ان کے اس نکلنے کو نہ صرف حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہیں بلکہ اظہار رائے کی آزادی  سلب کرنے کو اپنا حق تصور کرتے ہیں. اترپردیش میں کوئی ایک جگہ نہیں ہے جہاں خواتین پرامن احتجاج درج کرا رہی ہیں بلکہ اکثر وبیشتر اضلاع میں خواتین نے مظاہرے شروع کردیئے ہیں. اہم بات یہ ہے کہ مظاہرے صرف علامتی نہیں ہیں جو برائے احتجاج کیے جا رہے ہوں بلکہ ان کا ایک خاص مقصد ہے. کسی بھی جائے احتجاج پر پہنچ جائیے فورا احساس ہوگا کہ بے مقصد کوئی اس طرح یہاں نہیں آ سکتاہے کیونکہ ان خواتین کو سیاسی پارٹیوں کے احتجاج کی طرح نہ ہائر کیا گیا ہے اور نہ ہی لایا گیا ہے بلکہ وہ اپنی نئی نسل کو خوبصورت ہندستان دینے کے لیے خود گھروں سے نکل کر آئی ہیں. ان کا مقصد ہے کہ ملک کسی کی تاناشاہی کے بجائے جمہوری طرز پر چلے اسی لیے ایک منتخب حکومت کے وزیر داخلہ جب ببانگ دہل جب اعلان کرتے ہیں کہ جس کو جتنی مخالفت کرنا ہوکرے یہ قانون واپس نہیں ہوگا تو دوسری طرف سے آواز آتی ہے “ہم لے کے رہیں گے آزادی”. یہ آزادی جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی ہے، اپنے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی ہے، آئین کو آزاد کرانے کی آزادی ہے، ایک طرف طاقت اور غرور و تکبر ہے اور دوسری عزم و ہمت، پامردی و استقلال ہےجس سے پہاڑوں میں نہ صرف راستے بن جاتے ہیں بلکہ جوئےشیر کے سوتے بھی پھوٹ جاتے ہیں. سخت سردی اور اوس گرتی راتوں میں مائیں اپنے نوزائیدوں اور انگلی پکڑ کر چلنے والے بچوں کو سینے سے چمٹائے احتجاج کر رہی ہیں، اور اعلان کر رہی ہیں کہ جیسے چند دنوں قبل پولیس نے اپنی گولیوں سے ان کے بچوں کی جان لی ہے اسی طرح وہ ان پر بھی گولی چلائیں تب بھی وہ ڈٹی رہیں گی. وہ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں “میرے کفن پر لکھ دو آزادی” ان کا یہ عزم اور ہمت اس بات کی نشانی ہے کہ سرفروشی کی تمنا سے یہ سرشار ہیں، اب ان کو کوئی پیچھے نہیں ہٹا سکتا ہے۔

جمہوریت میں کوئی بھی فیصلہ ایسا نہیں ہوتا جو پتھر کی لکیر ہو، ایسے فیصلے ڈکٹیٹر شپ میں ہوا کرتے ہیں، جبکہ ہندستان تو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے، اس کا آئین سب سے لچکدار اور مختلف ممالک کے آئین کی روح ہے، اس کے باوجود اگر ملک کے سیاستدانوں میں اتنی جمہوری قدریں نہ ہوں کہ وہ مظاہرین سے گفتگو کرکے ان کی بات سنیں اور کوئی راستہ نکالیں تو یہ آئین کی غلطی نہیں سیاست دانوں کی تمکنت کا غماز ہے. دہلی کے شاہین باغ میں جاری خواتین کے احتجاج کو ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گذر چکاہے اس کے باوجود حکومت کے کسی بھی نمائندے نے ان سے مکالمے کی ضرورت نہیں سمجھی، لکھنو میں ایک ہفتے سے خواتین سرد راتوں میں ٹھٹھر رہی ہیں، کانپور، آناؤ، اٹاوہ، آلہ آباد، بستی اور بنارس وغیرہ میں بھی احتجاج ہورہے ہیں مگر حکومت نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جس سے یہ محسوس ہو کہ وہ احتجاج کی آواز کو اہمیت دیتی ہے بلکہ اس نے تو ہر جگہ طاقت کا استعمال کیا ہے تاکہ مخالفت کی آواز کو دبایا جاسکے، یہ خواتین کی ہمت اور ان کے استقلال کا نتیجہ ہے کہ وہ تشدد برپاکرنے والی پولیس کے سامنے ڈٹی ہوئیں ہیں۔ مرکزی و ریاستی حکومتوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جمہوریت میں مخالفت ہوتی ہے، احتجاج ہوتاہے جس سے منتخب حکومتوں کو معلوم ہوتاہے کہ اس نے غیر شعوری طور پر کوئی ایسا قدم اٹھالیا ہےجو جمہور کی رائے کے برخلاف ہے، ایسے میں جمہوری قدروں کا تقاضہ ہوتاہے کہ مخالفین سے گفتگو کی جائے اور ان کو یا تو مطمئن کیا جائے یاپھر قدم پیچھے کھینچے جائیں تبھی ملک کا بھلا ہوسکتاہے، چونکہ جمہوریت میں اختلاف ہی ترقی کا نکتہ ہے، جس دن احتجاج اور اختلاف ختم ہوجایے گا اس دن جمہوریت کی روح فنا ہوجائے گی. اس روح کو بچائے رکھنے کے لیے حکومت کو ان خواتین اور ان کے نمائندوں سے گفتگو کا آغاز کرنا چاہیے ورنہ عالمی سطح پر جمہوریت کی ریٹنگ میں ہندستان ابھی دس پوائنٹ نیچے آکر 41 سے 51 ویں نمبر پر پہنچا ہے، اگر ایسا ہی رہا تو یہ بہت جلد سینچری پار کر جائے گا کیونکہ ریٹنگ کے معیار میں اظہار رائے کی آزادی اور اختلاف کے احترام کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے جس میں ہماری مرکزی و ریاستی حکومتیں بہت تیزی سےمسلسل نیچے گر رہی ہیں۔

تحریر :محمد حنیف خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here