جھارکھنڈ کے 30 سالہ بائیں ہاتھ کے اسپنر شہباز ندیم نے رانچی ٹیسٹ میچ میں ڈیبیو کیا۔ ندیم نے اپنے پہلے میچ میں جنوبی افریقہ کے بلے باز ٹیمبا باوما کی پہلی بین الاقوامی وکٹ حاصل کی ہے۔

رانچی : جھارکھنڈ کے 30 سالہ بائیں ہاتھ کے اسپنر شہباز ندیم نے رانچی ٹیسٹ میچ میں ڈیبیو کیا۔ ندیم نے اپنے پہلے میچ میں جنوبی افریقہ کے بلے باز ٹیمبا باوما کی پہلی بین الاقوامی وکٹ حاصل کی ہے۔ ٹیمبا باوما ندیم کی گیند کو نہیں سمجھ سکے اور وکٹ کیپر وریدھیمان ساہا نے باوما کو اسٹمپ کر دیا ۔
چائنا مین کلدیپ یادو کے فٹ نہ ہونے کے بعد شہباز ندیم کو بھارتی ٹیم میں شامل کیا گیا۔ رانچی کے لوکل بوائےکو اپنے ہوم گراؤنڈ میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے کا ایک بہترین موقع ملا ، جس کا بھر پور فائدہ اٹھایا ۔

رانچی میں گیند سے کمال دکھا رہے ہیں شہباز ندیم

جب شہباز ندیم نے رانچی ٹیسٹ میچ سے بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا ، ان کے بڑے بھائی اسد اقبال اس وقت دہلی کے ایک اسپتال میں تھے جہاں ان کی اہلیہ فریحہ کی معمولی سرجری ہو رہی تھی ۔ بڑے بھائی نے شہباز کو کرکٹ کھیلنے کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔
شہباز ندیم کے والد 17 سال قبل دھنباد میں تعینات پولیس افسر تھے تو انہوں نے اپنے دو نوں بیٹوں سے کہا کہ ان میں سے صرف ایک ہی کھیل سکتا ہے۔ والد نہیں چاہتے تھے کہ دونوں ایسی زندگی کو منتخب کریں جو محفوظ مستقبل کی ضمانت نہ دے سکے ۔
شہباز کے والد نے بتایا کہ ان کے بڑے بھائی اسد بہار کی انڈر 15 ٹیم کے کپتان ہونے کے باوجود ، انہوں نے شہباز کو کھیلنے کی اجازت دی اور وہ خود انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے پر راضی ہوگئے اور آج وہ دہلی میں ایک مشہور کمپنی میں کام کر رہے ہیں۔ شہباز کے والد کو توقع نہیں تھی کہ ان کا بیٹا ویراٹ کوہلی کی زیرقیادت ٹیسٹ ٹیم میں ٹیسٹ کیپ حاصل کرلے گا۔ چنانچہ وہ اپنی بیٹی کے معمول چیک اپ کیلئے چندی گڑھ روانہ ہوگئےتھے ۔
ندیم نے کرکٹ میں عالمی ریکارڈ بھی بنائے ہیں ۔ انہوں نے پچھلے سال وجے ہزارے ٹرافی میں راجستھان کے خلاف 10 رن دے کر 8 وکٹیں حاصل کرکے لسٹ-اے کرکٹ میں بہترین بولنگ کا دو دہائی قدیم عالمی ریکارڈ توڑ دیا تھا۔ اس کے بعد بائیں ہاتھ کے اسپنر نے قومی ٹیم کے سامنے اپنا دعویٰ پیش کیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here