بھوکے بچوں کی تسلی کے لیے

ماں نے پھر پانی پکایا دیر تک

ملک کے اندر غرباء و مساکین، بیوہ و یتیم، لاچار  و مجبور عوام کی کمی نہیں ہے ہمارے ملک میں جس انداز سے کورونا وائرس کی وجہ سے حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں اس سے ہر کوئی واقف ہے.

ملک کے اندر کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے حکومتی احکامات قابل توجہ ہیں ریاستی حکومتوں کو ان کا نافذ کرنا بھی ملک کی عوام کے لئے کافی نفع بخش ہے

ملک تقریباً مکمل طور پر لاک ڈآؤن کے حالات میں ہے. روز مرہ کی زندگی بالکل ٹھپ ہے. ایک طرف تو ویسے ہی بے روزگاری اور غربت اس قدر ملک میں ہے کہ ہر روز اگر ٹائمس آف انڈیا کے 10 جنوری 2020 کی خبر پر غور کریں تو پائیں گے کہ ہمارے ملک میں روزانہ 10 افراد خودکشی کر رہے ہیں

کورونا وائرس کی آمد سے پہلے ملک کے اندر ہر روز 20 کروڑ عوام بھوکوں سوتی تھی وہ اپنے شام کے کھانے کا انتظام نہیں کر پاتی تھی. ہر سال ملک کے اندر 10 ملین لوگ بھوک کی وجہ سے موت سے دوچار ہوتے تھے۔

جہاں ایک طرف ملک کے وہ حالات تھے جب کورونا نہیں آیا تھا اور آج جب پورا ملک کورونا وائرس کی وجہ سے بند ہے سارے کام کاج ٹھپ پڑ گئے اشیاء خوردنی کی دقتیں ہونے لگیں، دھاڑی مزدور جو روز کما کر لاتے تو دو روٹی کا انتظام ہوتا تھا لیکن اب وہ ایسا کہاں سے اور کیسے کر سکتے ہیں؟ وہ اپنے اہل خانہ کی روزی روٹی کا انتظام کیسے کریں؟ گے اپنے نونہالوں کے دودہ دوا کا انتظام کیسے کریں گے؟ یہ بہت بڑے سوالات ہیں۔.

اپنی غربت کی کہانی ہم سنائیں کس طرح

رات   پھر  بچہ  ہمارا  روتے  روتے   سو گیا

وہ عوام جو ہوٹلوں پر کھانا کھاتی تھی اب وہ دو روٹی کا انتظام کیسے کرے جو گاؤں یا اپنے اپنے وطن چلے گئے اللہ کرے کہ وہاں اس طرح کی دقتوں کا سامنا نہ ہو لیکن جو شہروں میں ہیں انکا کیا ہوگا۔

اس جانب پوری جنتا کو فوجی پیمانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے. اس موقع پر ہمارے نبی رحمت للعالمین کے اخلاق و کردار کو زیادہ سے زیادہ ہم سب کو اپنے اپنے اندر اتارنے کی ضرورت ہے تاکہ دقتوں میں پھنسے افراد کے لئے ہم راحت کا سامان مہیا کرا سکیں۔

پیارے رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کافی پیاری بات سماجی کارکن کو ترغیب دیتے ہوئے کچھ یوں بیان فرمائی ہےکہ جس نے کسی مسلمان کی دنیاوی کسی تکلیف کو دور کیا اللہ تعالی اس شخص کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کسی تکلیف کو دور فرمائے گا، اور جو شخص کسی مشکل میں پھنسے شخص پر آسانی کرے گا اللہ تعالی اس شخص پر دنیا و آخرت دونوں جگہ میں آسانی فرمائے گا، اور اللہ تعالی اس بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک وہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہوتا ہے

اس فرمان رسول کی روشنی میں ایسے ایمرجنسی حالات میں ہم سب کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنی اپنی سوسائٹی کے عوام کی خبر لیں دیکھیں کہ کسے کیا ضرورت ہے کسے کن کن دقتوں کا سامنا ہے، کس کے یہاں بچے دودہ کے لئے بلک رہے ہیں، کس کے یہاں چولہا نہیں جلا کس کے گھر بچے حضرت عمر  کے انتظار میں ہیں کہ کوئی تو اس قوم میں ہوگا جو عمر بن کے آئے گا اور ہمارے لئے کچھ انتظام کرے گا۔

غربت  کی  تیز آگ  پہ اکثر پکائی بھوک

خوش حالیوں کے شہر میں کیا کچھ نہیں کیا

ہم سب کو اس جانب جلد از جلد توجہ دینی ہوگی تاکہ یہ اہم ترین کام آسانی سے ہوسکے، مزید حالات نہ بگڑیں اس کے لئے ابھی سے لائحہ عمل بنانے اور اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا آزاد رحمہ اللہ نے کہا تھا کہ قوم کے لئے وہ شخص مردہ ہے جو محض اپنے لئے ہی جیتا ہے۔ یعنی در حقیقت وہی زندہ تصور کیا جائے گا جو دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لئے ہمیشہ کوشش میں رہے گا۔ اور ایسے بندوں پر اللہ کی مدد لگاتار رہے گی۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی صحابی نے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے اچھا کون ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے بہترین عمل کون سا ہے تو پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ

اللہ کے نزدیک بہترین وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے لئے سب سے زیادہ نفع بخش ہوں وہ لوگوں کی تکالیف دور کرتے ہوں یا ان کے قرض کو ادا کرتے ہوں یا ان کے بھوک کو ان سے بھگاتے ہوں

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید آگے ارشاد فرمایا کہ کہ میرا اپنے کسی بھائی کی کسی بھی حاجت و ضروت میں چل کر جانا میرے نزدیک اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ مسجد نبوی میں ایک مہینہ اعتکاف کروں۔

پیارے نبی کی اس حدیث سے بھی ہم کو اندازہ لگانا چاہئے کہ ان حالات میں ہم کو کتنا زیادہ تند دہی سے سماج کے اس نازک حالت کو دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجانا چاہئے اور زبردست طریقے سے اس سمت توجہ دینی چاہئے۔.

اللہ تعالی ہم سب کو شریعت کی روشنی میں سماج کے لئے محنت و کوشش کی خصوصی توفیق عطا فرمائے. آمین

ڈاکٹر عبدالکریم علیگ

ممبئی

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here