دہلی: دہلی کے رانی جھانسی روڈ پر لگنے والی آگ میں اب تک 43 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ محکمہ فائر نے 54 افراد کو بچایا تھا۔ جس میں بعد میں بہت سارے لوگ مردہ پائے گئے۔ اس خوفناک آگ میں زیادہ تر افراد کی  دم گھٹنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے 43 میں سے 34 کی موت لوک نائک جئے پرکاش اسپتال (ایل این جے پی) میں اور 9 لیڈی ہارڈنگس اسپتال میں ہوئی۔

زخمیوں میں سے کچھ کو ان دو اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں کی ایک بڑی ٹیم علاج میں مصروف ہے۔ جائے وقوعہ پر پوسٹ نامہ نگاروں سے  معلوم ہوا کہ جس عمارت میں آگ لگی تھی وہ باہر سے بند تھی ، جب کہ لوگ اندر سے ‘بچاؤ بچاؤ’ کا نعرہ لگارہے تھے۔ مقامی لوگوں نے بہت سے پھنسے لوگوں کو نکال لیا اور ایمبولینس کے ذریعہ انھیں اسپتال لے جانے میں مدد کی۔

متاثرہ افراد کے لواحقین کے مطابق فیکٹری میں کام کرنے والے زیادہ تر نوجوان 20-30 سال کے تھے۔ فیکٹری کا نظام ایسا بنایا گیا تھا کہ مزدور وہاں کام کرتے تھے اور وہیں  رہنے ، کھانے پینے اور سونے کا نظام بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حادثہ کے وقت بیشتر مزدور سو رہے تھے اور انہیں آگ لگنے کی اطلاع نہیں ملی۔ فیکٹری میں بیگ بنتے تھے۔ اہل خانہ اپنے لوگوں کی تلاش میں موقع پر پہنچ چکے ہیں لیکن انھیں شکایت ہے کہ انہیں نہ تو کوئی معلومات دی جارہی ہیں اور نہ ہی کسی سے ملنے کی اجازت دی جارہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here