انسانی فکریات کی تشکیل ان عوامل سے ہوتی ہے جن سے کسی بھی سطح پر انسان کی زندگی متاثر ہوتی ہو،یہ اثر مثبت اور منفی دونوں ہوسکتے ہیں،رام مندر اور بابری مسجد کے قضیہ میں جو فیصلہ آیا ہے اس کے بھی اپنے اثرات ہوں گے جوظاہر تو ہوچکے ہیں مگر ان کو قبول دھیرے دھیرے کیا جائے گا۔مثبت پہلو پر تو ہر ایک کی نظر ہے جس کو امن سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن اس کے منفی نتائج پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے،حالانکہ کئی ماہرین قانون اس بات کا بر ملا اظہار کر چکے ہیں کہ اس فیصلے کے اثرات اقلیتی اور اکثریتی فکر میں خلیج کے طور پر سامنے آئیں گے

جو ہونا تھا ہوچکا، مسلمانوں کے لیے اب اس مقدمے میں پانے کے لیے کچھ نہیں بچاہے، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس مقدمے نے تنازع کو ختم کردیا ہے وہ شدید فکری غلطی پر ہیں سچائی یہ ہے کہ اب اکثریت کو ایک راہ مل گئی ہے، یوں بھی بی جے پی لیڈر ونے کٹیار بیان دے چکے ہیں کہ بابری مسجد کے بعد اب کاشی اور متھرا کی باری ہے، اس لیے کسی کو، خاص طور پر انتظامیہ کو اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ اب کچھ نہیں ہوگا۔رام مندر کے حق میں فیصلہ کے بعد ایک نئے ہندستان کاجنم ہوا ہے جہاں اکثریت اور اقلیت کے مابین فکری تفریق اور ذہنی خلیج لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جائے گی۔ایک میں احساس برتری پروان چڑھے گی اور دوسرے میں احساس کمتری میں اضافہ ہو گا جس سے دونوں میں بعد بڑھتا جائے گا اور انتہا بعد المشرقین ہوگی۔ اس لیے ان حالات سے نمٹنے کے لیے مسلمانوں کو تیاری کا آغاز کردیناچاہیے، ان کو تسلیم کرنا چاہیے کہ بابری مسجد سے متعلق فیصلہ ہندستانی مسلمانوں میں نئی فکر کو تشکیل دے گا۔یہ فکر وہ ہوگی جس کے تحت ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کو بھی ظلم سے تعبیر کیا جائے گا۔کیونکہ عدلیہ کے فیصلے پر سوال اٹھانے کو گناہ تصور کیا جائے گا۔حالانکہ اکثریتی فکر اس کے برخلاف ہو گی،ابھی کتنے دن ہوئے عدلیہ نے سبری مالا سے متعلق جب فیصلہ دیا تو ہر طرف اس کی نہ صرف مخالفت ہوئی بلکہ وزیر داخلہ نے یہاں تک کہہ دیا کہ عدلیہ کو ایسے فیصلے نہیں دینا چاہئے جن کا نفاذ مشکل ہو۔آج بھی سبری مالا سے متعلق عدالت کے فیصلے کو نزاعی ہی تصور کیا جاتا ہے جب کہ بابری مسجد سے متعلق آئے فیصلے میں متاثر فریق نے ابھی تک اپنی آواز بھی بلند نہیں کی ہے ،بس اتنا کہا کہ فیصلہ امیدوں کے مطابق نہیں آیا اس کا جائزہ لیا جائے گا۔پاپولر فرنٹ آف انڈیا واحد ایسی تنظیم ہے جس نے اس فیصلے کے خلاف پر امن احتجاج شروع کیا ہے۔کسی بھی فیصلے کی مخالفت یا موافقت انسان کا بنیادی حق ہے ،جس سے کسی بھی طرح سے دستبردار نہیں ہونا چاہئے،تاکہ آنے والی نسلوں کو بھی معلوم ہو کہ ہر طرح سے ہمارے پوروج حق کے ساتھ کھڑے ہوئے ۔اس طرح وہ فکری پسماندگی کے اندھے غار میں جانے سے بچ جائیں گے اور ان میں بھی حق کے ساتھ کھڑے ہونے اور غلط کے خلاف آواز بلند کرنے کی ہمت پیدا ہوگی۔

بابری مسجد اب حقیقت سے تاریخ میں تبدیل ہو گئی ہے جو عجب نہیں چند برسوں بعد تاریخ کے اوراق میں بھی نہ ملے، کیونکہ رائٹ ونگ کے لوگوں اور تاریخ دانوں کو مغلیہ افراد اور ان کی بنا کردہ نشانیوں سے اللہ واسطے بیر ہے،سوائے دارا شکوہ کے ،کیونکہ وہان کے نظریات کے خانے میں فٹ بیٹھتا ہے، اس لیے دھیرے دھیرے سبھی نشانیوں کو ختم کیا جائے گا، یوں بھی نئی تاریخ سازی کا پورا منصوبہ ہے، ایسے میں بابری مسجد اگر تاریخ کے اوراق سے بھی غائب ہوجائے تو کوئی بعید نہیں ہےں،ہندو مہاسبھانے مسجد کے لیے دی گئی زمین کے خلاف رویو پٹیشن کا عندیہ دیا ہے جس کی حمایت بھی متشدد نظریات کے حامل افراد کر رہے ہیں، ان کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ اول اگر حکومت نے مسجد کے لیے زمین دی تو اس کے خلاف دھرنا و مظاہرہ کیا جایے گا اور دوم بابر کے نام سے پورے ملک میں کہیں بھی مسجد نہیں تعمیر ہونے دی جائے گی،ہمیں کرنا بھی نہیں ہے کیونکہ اس سے کچھ ملنے والا نہیں لیکن اس شدت کے خلاف آواز ضرور بلند کرنا ہے ۔اس لئے عدلیہ کو خود بتانا چاہئے کہ اس نے کس مسجد کے لیے زمین دینے کا حکم دیا ہے؟ اور مسجد کا نام کیا ہوگا اس اس کی بھی عدالت کو ہی وضاحت کردینا چاہیے تاکہ ملک کے امن و امان کو کسی بھی طرح سے خطرہ لاحق نہ ہو. خیر!

عدالت کا جو فیصلہ آنا تھا آ چکا، رویو پٹیشن کے بارے میں غور کیا جا رہاہے کیونکہ بادی النظر میں فیصلہ حقائق کی بنیاد پر نہیں ہے، یہ بات صرف مسلم پرسنل بورڈ نہیں کہہ رہاہے بلکہ سابق جج اور تاریخ داں بھی یہی بات کہہ رہے، سابق جج اے کے گنگولی اور تاریخ داں ڈی این جھا اور سابق جج مارکنڈے کاٹجو نے بھی اس فیصلہ پر حیرت کا اظہار کیا، ڈی این جھا ان چار تاریخ دانوں میں سے ہیں جنہوں نے آزادانہ طور ”اے ہسٹارینس رپورٹس ٹو دی نیشن“تیار کرکے 1992 میں مسجد کی شہادت سے قبل حکومت کو سونپی تھی، پروفیسر سورج بھان سنگھ، اطہر علی اور اے آر شرما کے ساتھ کام کیا تھا.۔اس رپورٹ کے مطابق بھی مسجد کے نیچے کوئی مندر نہیں تھا،اور عدالت نے بھی تسلیم کیا ہے لیکن اب یہ سب تاریخ کا حصہ بن چکا، میرے خیال میںمسلم پرسنل لا بورڈ کو رویو پٹیشن ضرور ڈالنا چاہیے تاکہ حصول انصاف کا یہ عمل بھی مکمل ہو اور دنیا دیکھ لے کہ ہندستان میں کس طرح انصاف کو یقینی بنایا جاتاہے۔بابری مسجد کے فیصلے سے قبل اور اس کے بعد جس طرح سے ہندوستانی مسلمانوں نے حب الوطنی کا ثبوت دیا، اور اپنے افعال و اعمال سے جس طرح سے ملک کی سالمیت کو یقینی بنایا وہ بھی تاریخ میں زریں حروف میں لکھا جائے گا۔

خواہ کوئی کتنا بھی کہے اس مسئلے کو ہار جیت کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہئے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے،1992میں جب رتھ یاترا شروع ہوئی تھی تو اعلان کیا گیا تھا کہ مندر وہیں بنائیں گے ،عدلیہ نے بھی اس پر مہر لگا دی ہے۔ایسے میں اس فیصلہ کو صرف یہیں تک محدود نہ رکھا جائے ،ایک بات اور ذہن نشیں رہے 9نومبر 1989کو شیلا نیاس ہوا تھا اور اسی تاریخ کو 2019میں رام مندر کے حق میں فیصلہ آیا ہے ،کیا تاریخ کی ان کڑیوں کو نہیں جوڑا جائے گا؟یا نہیں جوڑا جانا چاہئے؟

  آٹھ نومبر کو دہلی کے نہرو میموریل میوزیم ولایبریبری میں مسلمانوں سے میٹنگ کے لیے کی تھی جس میں آر ایس ایسے کے جواینٹ جنرل سکریٹری کرشن گوپال شریک ہوئے تھے،یہ تنظیم کہنے کو حکومت میں شامل نہیں ہے لیکن حقیقت کیاہے وہ بھی پوشیدہ نہیں ہے ،اسی پروگرام میں کہا گیا تھا کہ ہمیں مسلمانوں کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ ہمارا ووٹر نہیں ہے ،ایک دوسرے صاحب نے میگزین ’دی کاروان ،ہندی“ کے شاہد تانترے سے ایسی بات کہی جس نے بہت کچھ واضح کردیا ،انہوں نے یقینی طور پر رام مندر کے حق میں فیصلے کی بات کہی جب تعجب کا اظہار کیا گیا تو انہوں نے صاف لفظوں میں کہا ”سپریم کورٹ کی کیا اوقات ہے یار سرکار کے سامنے“۔یہ پوری رپورٹ ویب میگزین پر دیکھی جا سکتی ہے۔

بابری مسجد کے بعد مسلمانوں کو اس طرح کے واقعات کو بھی ذہن میں رکھ کر نئے منصوبے تیار کرنے ہوں گے۔فیصلے سے یقینا مسلمانوں کو دھچکا لگا ہے لیکن ایسے حالات کو بھی اگر متحدہ بیداری کا ذریعہ بنا لیا جائے تو کیا برا ہے،رام مندر کے حق میں فیصلہ کو اگر بیداری کا اعلامیہ بنا لیا جائے تو مستقبل کے اندیشوں سے بھی نجات مل سکتی ہے ،حالات کو بھی سازگار بنایا جا سکتا ہے اور نئی منفی فکر سے بھی قوم کو بچایا جا سکتا ہے۔ تعلیمی منصوبے سے بہتر کوئی منصوبہ نہیں ہو سکتا ہے۔قوم کے اہل حل و عقد کو حالات کو سمجھنا ہو گااور طویل مدتی منصوبے کے ذریعہ ایک ایسا ذہن تشکیل دینا ہوگا جو ماضی کی طرح مستقبل میں بھی حب الوطنی اور ملک میں امن و امان کو اولیت دینے کے ساتھ اپنے حقوق کے تئیں فکر مند بھی ہو۔ جب تعلیم ہوگی تو ان کو اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کا علم ہوگا، ان کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ ان کے ایک ووٹ کی کتنی اہمیت ہے، منتشر اور متحد ووٹ میں کتنا فرق ہوتا ہے، اس لیے اس سطح پر نیے سرے سے منصوبہ بنایا جاسکتاہے۔

محمد حنیف خان

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here