قانو ن اس لئے وضع کئے جاتے ہیں تاکہ ان کا سہارا لے کر سماج میں توازن قائم کیا جا سکے،مجرموں کو سزا اور مظلوموں کو انصاف دلا یاجا سکے۔اس سے ایک ایسا مثالی اور پر امن معاشرہ وجود میں آتا ہے جس کی امید میں قانون وضع کیا گیا تھا،لیکن یہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کا نفاذ ایمان داری کے ساتھ کیا جائے۔قانون کا بد دیانتی کے ساتھ نفاذ کوئی بڑی بات نہیں ہے،یہ ایک عام بات ہے لیکن چونکہ قانون خود اس کی اجازت دیتا ہے اس لئے متعلقہ ادارہ/افراد کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی ہے۔لیکن اس کی حقیقت کو عدلیہ کے ساتھ ہی عوام بھی خوب سمجھتے ہیں۔ چونکہ اس طرح کی کمیاں اور خامیاں در اصل کمیاں یا خامیاں نہیں ہوتی ہیں بلکہ وہ عوام کے مفاد کے لئے اصول ہوتے ہیں مگر ان کا غلط استعمال اس کو کمی اور خامی کے طور پر پیش کرتا ہے۔مثلا قومی سلامتی ایکٹ/نیشنل سیکیورٹی (این ایس اے)ایک ایسا قانون ہے کہ اگر حالات خراب ہو جائیں تو اس قانون کے تحت اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ضلع مجسٹریٹ یا پولیس کمشنر اس قانون کے ذریعہ ایسے افراد جو ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہوں،دوسرے ملکوں سے ساز باز کر رہے ہوں،سماج میں تعصب و نفرت پھیلا رہے ہوں،جن سے سماج کو خطرہ،سماج میں نظم و نسق کے لئے جو افراد خطرہ بن جائیں ان کو اس ایکٹ کے تحت گرفتار کر سکتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ یہ ایک ایسا قانون ہے جس کا تعلق عدلیہ سے نہیں ہے۔بلکہ پولیس اور انتظامیہ سے ہے۔پارلیمنٹ نے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس کمشنر کو یہ اختیار دے رکھا ہے کہ وہ مندرجہ بالاحالات میں بغیر کسی رو رعایت کے ایسے افراد کو حراست میں لے کر نظر بند کردے۔ان دونوں افسران کے لئے یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ گرفتار کئے گئے شخص کو بتائیں کہ اس کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے۔اس سے بھی بڑھ کر عدالت بھی اس قانون کے تحت گرفتاری میں گرفتار شدہ شخض کو کوئی راحت نہیں دے سکتی ہے جب تک کہ خود پولیس اور انتظامیہ ان کے بارے میں نرم رویہ نہ اختیار کرے۔اگر خدا نخواستہ ان دونوں افسران نے کسی کو غلطی سے بھی گرفتار کر لیا ہے تو بھی عدالت میں اس کو چیلنج نہین کیا جا سکتا ہے،اور اگر کوئی چیلنج کرتا ہے تو ان افسران کو بس اتنا ثابت کرنا ہوگا کہ ان کو شک تھا کہ متعلقہ شخص کی عدم گرفتاری سے نقصان ہو سکتا ہے۔ہاں اس کی ایک ایڈوائزی کمیٹی ضرور ہوتی ہے جو یہ دیکھ سکتی ہے گرفتاری درست ہے یا نہیں لیکن اس کا فیصلہ رازدارانہ معاملے کی وجہ سے عام نہیں کیا جاتا ہے۔مقننہ نے یہ سب حقوق صرف اس لئے دیئے ہیں تاکہ ملک اور سماج میں امن و امان قائم رہے لیکن اگر اسی قانون کا غلط استعمال شروع کر دیا جائے۔مرکزی و ریاستی حکومتیں اس کا سہارا لے کر اپنے فکری اور سیاسی ناقدین اور مخالفین کو اس کے تحت نمٹانا یا پریشان کرنا شروع کردیں تو کیا ہو گا؟
کوئی بھی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا پولیس کمشنر حکومت کے بغیر تو کچھ کرنہیں سکتا ہے،اس کے اپنے بھی مفاد ہوتے ہیں،ایسے میں وہ حکومت کی منشا بھی سمجھتا ہے اور اس کے مطابق عمل کو اپنا فریضہ بھی،لیکن اس کے سماجی نقصانات کیا ہوتے ہیں اس کا اندازاہ لگانا بھی مشکل نہیں ہے۔اس وقت دو افراد ایسے ہیں جو ہمارے لئے اس قانون کے منفی استعمال کی نظیر بن سکتے ہیں۔بھیما کورے گاؤں معاملے میں پروفیسر آنند تیلتومبڑے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سی اے اے کے خلاف ور ڈاکٹر کفیل کی تقریر کی وجہ سے ان دونوں این ایس اے لگا دیا گیا ہے۔یہ اس وقت تک جیل سے باہر نہیں آ سکتے ہیں جب تک کہ پولیس اور انتظامیہ حکومت کے اشارے پر رہاکرنے کی اجازت نہیں دے گی۔حکومتیں اس قانون کا استعمال سب سے زیادہ ملزموں کو باہر نہ آنے کے معاملے میں کرتی ہیں۔ڈاکتر کفیل کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ ضمانت منطور ہوجانے کے چار دن بعد تک رہا نہیں کیا گیا ارو پھر ان پر این ایس اے لگا کر ان کو باہر نہیں آنے دیا گیا۔این ایس اے لگانے کا مطلب ہی یہی ہے کہ وہ سماج کے لئے خطرہ ہے اس سے نظم و نسق کا معاملہ خراب ہو سکتا ہے۔چونکہ پارلیمنٹ سے وضع کردہ قانون ہی اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ متعلقہ افسران محض شک کی بنیاد پر اس قانون کے تحت کسی کو بھی گرفتار کر سکتے ہیں اور ان کا معاملہ تو جگ ظاہر ہے،اس میں کچھ بتانے کی ضرورت ہی نہیں۔
حکومت اتر پردیش نیوزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے منتقمانہ اعلان کے مطابق سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں سے ابھی تک انتقام لے رہی ہے۔اس لاک ڈاؤن میں کثیر تعداد میں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب بھی شامل ہیں جو اس وبا کی وجہ سے یونیورسٹی میں ہونے کے بجائے اپنے گھروں پر تھے،جہاں سے ایس ٹی ایف نے ان کو گرفتار کر لیا ہے۔بہت سے ایسے مظاہرین تھے جن کی گرفتاری ہوئی تھی اور عدالتوں سے ان کو ضمانت بھی مل گئی تھی مگر ان کو دوبارہ این ایس اے کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔لکھنؤ پولیس کمشنر نے ان مظاہرین کے خلاف این ایس اے کے تحت کارروائی کا حکم نامہ جاری کیا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق صرف لکھنؤ مین تقریبا 50افراد پر اس قانون کے تحت کارروائی کی گئی ہے جن میں سے دس افراد کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔جبکہ 54افراد کے خلاف وصولی نوٹس دیا گیا تھا،جن میں سے کچھ کی جائداد کی قرقی بھی کی جا چکی ہے۔
سوال یہ ہے کہ سی اے اے کے خلاف مظاہرے کے پاداش میں قوانین کا سہارا لے کر حکومت کب تک اپنے فکری ایجنڈے کے مطابق مظاہرین کو پریشان کرتی رہے گی؟علی گڑھ مسلم یونیورستی مین کریک ڈاؤن پولیس کرتی ہے،ہاسٹلوں اور کمروں میں گھس کر بچوں کی پٹائی پولیس کرتی ہے،عوامی املاک کو تباہ پولیس کرتی ہے اور پولیس کی طرف طلبا پر قتل کی کوشش کے تحت مقدمہ لکھوایا جاتا ہے اور ان کی گرفتاری کی جاتی ہے۔یہ کہاں کا انصاف ہے؟در اصل حکومت اپنی طاقت اور قوانین کا سہارا لے کر یکطرفہ کارروائی کر رہی ہے،ہندستان کی تاریخ کا یہ پہلا ایسا مظاہرہ ہے،جس کے مظاہرین سے وصولی کے ساتھ ہی این ایس اے کے تحت ان پر کارروائی کی جا رہی ہے۔
دہلی پولیس مرکز کے ماتحت آتی ہے،اس نے سی سے اے کے خلاف مظاہرہ کے دوران دہلی میں ہوئے فسادات سے متعلق عدلیہ میں ایک حلف نامہ داخل کیا ہے،اس کو متعدد مقامات پر مظاہرے تو دکھائی دیئے مگر اس کو 26-27فروری کو ہوئے فسادات جس میں 53افراد کی موت ہوئی اس کو بھڑکانے اور ہوا دینے والے مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر،پریش ورما اور کپل مشرا نہیں دکھائی دیئے۔مظاہرہ کرنے والے لوگوں سے سماج کو خطرہ ہوسکتا ہے،وہ نظم و نسق کے لئے مسئلہ ہو سکتے ہیں اس لئے ان پر این ایس ایاور یو اے پی اے لگایا جا نا ضروری ہے جیسا کہ طالبہ صفورہ زرگر پر لگایا گیا تھامگر ان بی جے پی کے ان تینوں لیڈروں کی وہ تقریریں جن کی وجہ سے انوراگ ٹھاکر پر جہاں خود پارٹی نے کارروائی کی،پریش ورما کو الیکشن کمیشن نے تین دنوں کے لئے پابند کیا اور کپل مشرا پر ایک جج نے پولیس کو ایف آئی آر کے بارے میں فیصلہ لین ے کا حکم دیا۔اس کے باوجود پولیس کو ان کی تقریر اور ان کا عمل ایسا نہیں محسوس ہوا جس سے سماج میں بد امنی پھیلے۔در اصل حکومت،انتظامیہ اور پولیس کا یہی رویہ قانون پر سے عوام کا اعتماد مجروح کر دیتا ہے۔اس وقت دہلی اور یوپی مین پولیس سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو گرفتار کرکے یکطرفہ کارروائی کر رہی ہے۔قانونی طور پر اس کا ھربہ کامیاب ہو سکتا ہے اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اپنے اعلان کے مطابق بدلہ بھی لے سکتے ہیں لیکن سماج کی نظر میں ان کا یہ عمل منتقمانہ ہی تصور کیا جائے گا جس کے باطن میں نفرت اور تعصب کے سوا کچھ نہیں ہے۔
یوں بھی اس قانون کا ہر حکومت منفی استعمال کرتی آئی ہے۔در اصل یہ قانون آج کا نہیں ہے بلکہ انگریزوں کا وضع کیا ہوا ہے۔ ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ1915میں پہلی جنگ عظیم کے وقت ترمیم کی گئی تھی تاکہ ریاست کو شہریوں پر جبر یہ قابو حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔روالٹ کمیٹی نے پہلی جنگ عظیم کے بعد اس قانون کو برقرار رکھنے کی سفارش کی تھی۔حکومت ہند ایکٹ1935مین بھی اس کا نظم تھا۔موجودہ قانو ن ستمبر 1980میں اندرا گاندھی کی حکومت کے دوران پارلیمنٹ میں ترمیم و اصلاحات کے ساتھ منظوور کیا گیا تھا۔مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتوں کو یہ قانون خطرے کی صورت میں شہریوں کی گرفتاری اور ان کو حراست میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔جس کا انگریزوں کے ساتھ ہی ہماری دیسی حکومتوں نے بھی خوب منفی استعمال کیا،اس کے غلط استعمال کی وجہ سے اس کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا کیونکہ جو بھی اقتدار میں ہوتا ہے وہ اس قانون کا بے دریغ استعمال کرکے اپنے مخالفین کو جیلوں میں ٹھونس دیتا ہے۔1993کی ایک رپورٹ کے مطابق اس قانون کے تحت گرفتار کئے گئے افراد میں سے 72.3فیصد افراد کوثبوت کی عدم فراہمی کی بنا پر رہا کیا گیا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس قانون کا ابتدا سے ہی کس قدر منفی استعمال کیا گیا۔

قوانین کا منفی استعمال در اصل حکومتوں میں اخلاقیات کے فقدان کا نتیجہ ہے۔اول حکومتوں کو خود کو حاکمانہ اخلاق اور اطوار سے مزین کرنا ہوگا اور پھر اس کو کسی بھی قانون کے اخلاقی پہلو ؤں کو خود سمجھنے کے ساتھ ہی انتظامیہ اور پولیس کو بھی اس کی تربیت دینی ہو گی۔جب تک ان اخلاقی پہلوؤن پر توجہ نہیں دی جائے گی،قوانین کا ایسے ہی منفی استعمال ہوتا رہے گا اور عوام پریشان رہے،جس سے حکومت کو وہی مقصد حاصل نہیں ہو جس مقصد کے لئے وہ اس قانون کے تحت عوام کی گرفتاری کا دعوی کرتی ہے۔

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here