جواہر الال نہرو یونیور سٹی ایک مرتبہ پھر سرخیوں میں ہے ،  یونیورسٹی  میں تعلیمی سر گرمیاں پوری طرح سے بند ہے اور  یونیور سٹی میں  “وائس چانسلر کی کمیٹی  نے “نیو ہاسٹل مینول”کو نافذ کر نا چاہتی ہے جبکہ طلبہ پور ی طرح سے اس کے خلاف ہیں ۔ دراصل  اس “مینول” میں  چند ایسے نقاط ہیں،جن سے طلبہ شدید ناراض ہیں۔ ایک تو یہ کہ  ہا سٹل کی فیس میں 84 فیصد تک کا اضافہ ہونے والا ہے ،تفصیل یہ ہے۔

ابھی تک طلبہ کو سالانہ 32740 روپیہ ادا کرنے پڑتے تھے مگر اب 60100 روپیہ ادا کرنے پڑیں گےاس میں “میس بل” بھی شامل ہے ۔ بغیر “میس بل ” کے سالانہ “2740” روپیہ مگر اب “30100” روپیہ ادا کر نا پڑ سکتا ہے۔

ہاسٹل کے” ٹائم ٹیبل اور ڈریس کوڈ” ایک ایسا متنازع فیہ عمل ہے جس سے انتظامیہ کی نیت پر ہی سوالیہ نشان اٹھنا لازمی ہے ۔اس کے مطابق طلبہ رات “11:00” بجے کے بعد ہاسٹل سے باہر نہیں جا سکتے اور اگر جانا ہے تو اس کے لئے نگراں سے اجازت لینی ہوگی ورنہ ہاسٹل سے آپ کا اخراج ہو سکتا ہے ۔

اس کے خلاف ہزاروں کی تعدادمیں طلبہ “ایڈ مینسٹریٹو بلاک” پر پھر سے اکٹھا ہوئے اور وہاں ” وی سی تم با ہر آؤ ،باہر آکر بات کر و””وی سی مردا باد اور ہا ئے ہائے ” کے نعر ے لگائے اور بعدمیں “وسنت کنج پولیس اسٹیشن ” جاکر ‘جے این یو ، وی سی ‘ کی گمشو دگی کی رپورٹ لکھوائی ۔

طلبہ یونین صدر “آیشے گھوش” کا کہنا ہے کہ جب تک یہ “مینول ” واپس نہیں لیا جا تا ان کی لڑائی جاری رہے گی اور یونیورسٹی مکمل طور پر بند رہے گی ۔
آیشے گھوش ” کہتی ہیں ہا سٹل فیس میں اس قدر اضافہ سے ایک طرف تو غریب طلبہ کے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواب چکنا چور ہو سکتے ہیں ۔جے این یو ملک کی واحد ایک ایسی یونیورسٹی ہےجو غریبوں کے لئے ایک امید ہے جہاں بلا تفریق امیر غریب کے آپ صرف 250 روپیہ میں اپنا ایڈمیشن لے سکتے ہیں ۔جہاں “ماہانہ میس بل” کی رقم “2300سے 2500″ تک ہوتی ہے جبکہ”بی اے اور ایم اے ” کے ہر طلبہ کو یونیور سٹی کی طرف سے ماہانہ “2000” روپیہ بطور وظیفہ دیا جا تا ہے توآپ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں بالکل مفت تعلیم دی جا تی ہے۔

انتظامیہ کے اس فیصلے سے واضح ہوجا تا ہے کہ وہ  ملک کے اقلیتی اور پسماندہ طبقہ کے ان طلبہ کو روکنا چاہتی ہے  جو بڑی تعداد میں ہر سال اس یونیور سٹی کا حصہ بنتے ہیں اور پروفیسر، آئی اے ایس ،آئی پی ایس بنتے ہیں اور اپنی تعلیمی  صلاحیت کے بل بوتے  پر ملک کا مستقبل طے کر تے ہیں ۔

یو نیورسٹی کا یہ قدم  حکومت  کی اسی  سازش کا ایک حصہ ہے  جس میں وہ تعلیم کو بھی تجارت کا ذریعہ بنانا چاہتی ہے اور ہم یہ ہونے نہیں دینگے۔

رپورٹ:ابوحذیفہ خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here