اسلام میں جہیز کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ آپ کو سن کر حیرت ہوگی کہ عربی زبان میں جہیز کے لیے کوئی لفظ ہے ہی نہیں ۔ عہدِ نبوی میں جتنی شادیاں ہوئی ہیں ، کسی میں بھی جہیز کا کوئی تذکرہ نہیں آتا ہے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ کسی شادی میں کسی باپ نے اپنی بیٹی کو کچھ نہیں دیا ہوگا۔ ضرور دیا ہوگا ، لیکن وہ جہیز کی حیثیت سے نہ ہوگا ۔ سامان اکٹھے نہیں کیے گئے ہوں گے ، ان کی نمائش نہیں کی گئی ہوگی ، شادی سے پہلے لڑکے والوں کی طرف سے لسٹ نہیں دی گئی ہوگی کہ فلاں فلاں چیز چاہیے اور وہ فلاں کمپنی کی ہونی چاہیے ۔ آج معاشرہ میں جس بڑی مقدار میں اور جس دکھاوے کے ساتھ جہیز کا لین دین ہوتا ہے اس کی دین میں کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کی ہر بیوی کا مہر پانچ سو درہم تھا ۔ یہی مہر حضرت فاطمہؓ کا بھی تھا ۔ حالاں کہ حضرت علی ؓ شروع ہی سے آپ ؐکے پروردہ تھے ، آپؐ کے ساتھ رہتے تھے ۔ جب نکاح کا موقع آیا تو آپؐ نے ان سے پوچھا : تمہارے پاس کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا : میری ذاتی ملکیت میں کچھ نہیں ہے ۔ میں تو شروع ہی سے آپ کے ساتھ رہاہوں ، میرے پاس اپنا کچھ نہیں ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس جو زرہ ہے اسے بیچ لاؤ ۔ انھوں نے زرہ بیچی ۔ اس سے جو پیسے وصول ہوئے اس سے آپؐ نے گھر گرہستی کا سامان خرید وایا اور اسی سے مہر ادا کر وایا ۔
آج کل باراتیوں کی لمبی لسٹ بنتی ہے ۔ لڑکے کے چچا اور چچیاں ، خالو اور خالائیں ، پھوپھا اور پھوپیاں ، پڑوسی ، دوست و احباب ، غرض ایک لمبی فہرست تیار ہوتی ہے ۔ اس موقع پر کسی کو نظر انداز کیا جاتا ہے یا بھول کر اس کا نام چھوٹ جاتا ہے تو وہ ناراض ہوجاتا ہے ۔ پھر لڑکے والے لڑکی والوں سے کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے ، ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ جو باراتی آئیں ان کی خوب اچھی طرح خاطر داری ہو ۔ غور کریں ، یہ کتنی بڑی زیادتی ہے کہ لڑکے والے اپنے مہمانوں کو زبر دستی لڑکی والوں کا مہمان بنا دیتے ہیں ۔ عہد نبوی میں ہونے والی شادیوں میں بارات کا کوئی تصور نہیں تھا ۔حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کا شمار مدینہ کے انتہائی مال داروں میں ہوتا تھا ۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انتقال کے وقت انھوں نے جو سونا چھوڑا تھا اسے کلہاڑی سے کاٹ کاٹ کر ان کے ورثہ میں تقسیم کیا گیا تھا ۔ ان کا جب نکاح ہوا تو انھوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو بھی بلانے کی ضرورت نہیں سمجھی ۔ بعد میں جب آپ ؐ کو معلوم ہوا تو آپؐ نے ان سے فرمایا : اے عبد الرحمن ! ولیمہ کرو ، چاہے اس میں ایک بکری ہی ذبح کرو ۔ ہم غور کریں ، اللہ کے رسول ﷺ کی ذات کتنی با برکت اور محترم تھی ۔ ایک چھوٹی بستی میں نکاح کی مجلس ہوتی ہے ، لیکن آپؐ کو بلانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی ۔

جہیز _ سماج کا ناسور

        ہندوستان میں ہندو سماج کی جو قبیح رسمیں مسلم سماج میں بھی آ گئی ہیں ان میں سے ایک رسم جہیز کی ہے ۔ اس کی بنا پر نہ جانے کتنی لڑکیاں کنواری بیٹھی رہ جاتی ہیں اور کتنے خاندان تباہ و برباد ہو جاتے ہیں ۔ ہندو سماج میں مذہبی طور پر عورت کو ملکیت اور وراثت کا حق حاصل نہیں تھا ، اس بنا پر  اسے شادی کے موقع پر ہی کچھ دے دلا کر رخصت کیا جانے لگا ۔ بعد میں اس چیز نے ایک گھناونی رسم کی شکل اختیار کرلی ، جس کی پابندی لازمی ٹھہری ۔

  اسلام نے نکاح کے مصارف کا بار لڑکے اور اس کے گھر والوں پر ڈالا ہے اور لڑکی اور اس کے گھر والوں کو ہر طرح کے خرچ سے آزادرکھا ہے ۔ پھر نکاح کے بعد بیوی کے نان و نفقہ کی ذمہ داری شوہر پر عاید کی ہے ۔ بعض حضرات اس سلسلے میں غلط طریقے سے ‘جہیز فاطمی’ کا حوالہ دیتے ہیں ۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی صاحب زادی حضرت فاطمہؓ کے نکاح کے وقت ان کے ہونے والے شوہر حضرت علی ؓ سے ، جو آپ ہی کی زیر کفالت تھے ، کچھ رقم حاصل کی اور اس سے گھر گرہستی کے لیے کچھ ضروری سامان کا انتظام کیا ۔ اگر لڑکی والوں کی طرف سے اس کی فراہمی ضروری ہوتی تو آپ اپنی دوسری صاحب زادیوں کے نکاح  کے موقع پر بھی ضرور اس کا انتظام کرتے ، حالاں کہ آپ سے ایسا کرنا ثابت نہیں ہے ۔

       قابل مبارک باد ہیں وہ نوجوان جو اس قبیح رسم سے بے زاری کا اظہار کرتے ہیں ۔ وہ اپنے نکاح کے وقت جہیز نہیں لیتے اور دوسرے جوانوں تک بھی اس پیغام کو پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here