جمہوریت دنیا کا سب سے خوبصورت نظام حکومت ہے ،جس میں نہ صرف ہر ایک کو یکساں حقوق حاصل ہیں بلکہ سماج کے نچلے طبقے سے لے کر سب اونچی کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص کی زندگی کو خوبصورت بناکر ان کے حقوق کی تحفظ بھی کرتا ہے۔دنیا کے ہر کونے میں یہ نظام حکومت اسی لئے رائج ہے اور جہاں نہیں ہے وہاں کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔یہ اس کا خوبصورت اور خوابناک پہلو ہے لیکن اس کاسیاہ پہلو نہایت ڈراؤناہے ۔اس ڈراؤنے پہلو سے متعلق وقتا فوقتا دانشورون نے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا ہے۔حال میں 2018میں شائع اسٹیون لیوسکی اورڈینیل زیبلٹ کی کتاب جمہوریتیں کیسے مرتی ہیں اور تاریخ مستقبل کے بارے میں کیا بتارہی ہے‘‘ نظر سے گزری۔جس کے تناظر میں اگر ہندستان کا جائزہ لیا جائے تو ایک ایسی بھیانک صورت حال نظر آتی ہے جو رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے۔یہ کتاب جمہوریتوں کی موت کا ایک الگ بیانیہ قائم کرتی ہے ،جس کے مطابق جمہوریت کو جمہوری اوزاروں سے ہی مارا جا رہا ہے ۔جمہوری ممالک پر اب مطلق العنانی کا نفاذ تختہ پلٹ،ایمر جنسی یا ڈکٹیٹر شپ کے ذریعہ نہیں ہو رہا ہے بلکہ اس کے لئے آئین کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔یہ جمہوریت کے لئے ایک ایسا میٹھا زہر ہے جو کسی کو دکھائی نہیں دیتا ہے لیکن وہ زہر دھیرے دھیرے جمہوری نظام کو ختم کرتا جا رہا ہے۔جس میں کوئی آواز نہیں ہوتی ،کوئی شور و ہنگامہ نہیں ہوتا ۔یہ کام کرنے والے خود نہ صرف جمہوریت کے علمبردار ہوتے ہیں بلکہ جمہوری طور پر منتخب افراد ہوتے ہیں جو اپنے ایجنڈوں کے نفاذ کے لئے دھیرے دھیرے اس نظام کو اسی نظام کے ساز وسامان اور آلات سے ختم کردیتے ہیںاور اس کی جگہ نئی ترمیمات و اصلاحات کو نافذ کرتے ہیں۔دکھانے کے لئے عوامی فلاح اور ملک کی سالمیت کے لئے یہ عمل ہوتاہے لیکن در حقیقت ان کے پس پشت ایک خاص ایجنڈا ہوتا ہے۔اہم بات یہ کہ اس کے لئے جو اوزار استعمال کیا جاتا ہے اس میں سب سے پہلا اوزار عدلیہ ہے ۔اس کتاب میں وینزوئیلا،روس ،ہنگری اور امریکہ کی مثالیں دی گئی ہیں ،ہندستان کی مثال اس میں شامل نہیں ہے۔

اس تناظر میں اگر ہندستان کا جائزہ لیا جائے تو بہت صاف صاف نظر آتا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی نافذ نہیں ہے ،کسی ڈکٹیٹر کی حکومت نہیں ہے،جو بھی حکومت میں ہیں وہ منتخب ہو کر پارلیامنٹ میں آئے ہیں،اس طرح ملک میں جمہوری نظام رائج ہے ۔لیکن لوگ جو محسوس کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ حکومت صرف دو افراد کی ہے ،جو وہ چاہتے ہیں وہی ہوتا ہے۔وہ کیا چاہتے ہیں اس حوالے سے آئین میں متعدد نئی ترمیمات،سی اے اے،کشمیر معاملہ ،بابری مسجد-رام مندر فیصلے کے ساتھ اس طرح کے دیگر فیصلوں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔حالیہ تناظر میں اگر اس کو دیکھا جائے تو میڈیا کے ایک طبقے کی آواز بند کرنا اور دوسرے طبقے کو کھلی چھوٹ دینا اسی کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے۔حال میں دو ایسے معاملات رونما ہوئے ہیں جن کا اگر جائزہ لیا جائے تو بات بہت واضح ہو جائے گی۔ایک کاتعلق کشمیر اور دوسرے کا تعلق پورے ملک سے ہے۔

حکومت نے چند دنوں قبل کشمیر میں نئی میڈیا پالیسی کا اعلان کیا ہے۔جس کی رو سے اب میڈیا ہاؤس یا صحافی ہر خبر قارئین و ناظرین تک نہیں پہنچا سکیں گے ،بلکہ اس کے لئے اب معیار مقرر کر دئے گئے ہیں۔اس نئی میڈیا پالیسی کے مطابق صحافیوں اور اخبارات وغیرہ کی منظوری کے لئے ان کے بیک گراؤنڈ کی جانچ کی جائے گی،جس کے بعد ہی ان کو اس پیشے سے وابستہ ہونے کی اجازت مل سکے گی۔حکومت نے میڈیا پر پابندیا عائد کرنے کے لئے ایک وسیع پالیسی تیار کی ہے،جس کے لئے 63صفحات پر مشتمل دستاویز شائع کیا ہے۔ بنیاد یہ بنائی گئی ہے کہ حکومت ’’اینٹی نیشنل ‘‘ خبروں کو شائع کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی ہے ،چونکہ اس ریاست کا تعلق سرحد سے ہے، اس لئے سلامتی اور تحفظ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔اس سلسلے میں وہاں پہلے سے موجود اخبارات و چینل کے مدیران سے نہ تو مشورہ کیا گیا اور نہ ہی ان کو مطمئن کیا گیا ۔اس وقت کشمیر سے تعلق رکھنے والے اخبارات و چینل حکومت کی اس پالیسی کے خلاف نہ صرف مظاہرے کر رہے ہیں بلکہ اس کو ’’میڈیا کی موت‘‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔

کشمیر ایک مسلم آبادی والی یونین ٹریٹری ہے ،جہاں کشمیر اور انڈیا آزادی کے وقت سے ہی بر سر پیکار ہیں۔یہاں کے میڈیا مالکان ،مدیران اور صحافیوں کا سوال ہے کہ کیامڈبھیڑ میں فوجیوں کی شہادت اور ان سے لڑنے والوں کی اموات کی اطلاع اینٹی نیشنل عمل ہے؟یا آزادی کے نعرے کی خبر لکھنا اور اس کو ملک کے عوام تک پہنچانا اینٹی نیشنل  ہے۔ان کا کہنا ہے صحافت کوئی جرم نہیں ہے، حکومت ان کو دفاتر کے کلرکوں اور پریس رلیز کا دست نگر بنا رہی ہے جو ’’فریڈم آف اسپیچ ‘‘ اور آزادانہ صحافت کے لئے موت ہے۔وہ آزادانہ صحافت کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت سے اس طرح کے  متعدد سوالات کرتے ہیں۔حکومت نے ان سب کو درکنار کرتے ہوئے نئی میڈیا پالیسی نافذ کردی ہے۔یہ تو کشمیر کا معاملہ ہے جہاں اعلانیہ طور نئی میڈیا پالیسی کا نفاذ عمل میں آیا ہے ۔اس کے علاوہ پورے ملک میں اس طرح کی کسی پالیسی کے نافذ کا اعلان تو نہیں ہے اس کے باوجود ایسے صحافیوں کو مستقل نشانہ بنایا جا رہا ہے جو حکومت کی ناکامیوں ،انتظامیہ کی بد نظمیوں اور غبن سے لے کرمفاد عامہ میں کے لئے آ واز اٹھار ہے ہیں۔ مارچ میںلاک ڈاؤن کی ابتدا میںجب اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ ایودھیا میں ایک مذہبیی تقریب میںشریک ہوئے تو اس کی خبر پر دی وائر کے ایڈیٹر سدھارتھ وردراجن کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی اور اجودھیا سے دہلی لاک ڈاؤن کے دوران پولیس نوٹس لے کر آئی تھی۔بنارس میں مارچ میں دو صحافیوں کو اس لئے وجہ بتاؤ نوٹس دی گئی تھی کیونکہ انہوں نے یہ خبر دی تھی موسہر سماج  کے لوگ گھاس کھانے پر مجبور ہیں ۔جس سے انتظامیہ کی بد نظمی اور پی ڈی ایس نظام کی ناکامی واضح ہوتی تھی۔اس سے قبل مرزا پور میںاگست 2019میں پرائمری اسکول میں بچوں کو نمک روٹی دئے جانے پر صحافی کے خلاف ایف آر درج ہوئی تھی۔ابھی حال میں بنارس میں ایک خاتون صحافی پر حقائق کے انکشاف کے الزام میں قانون1989اور آئی پی سی کی متعدد دفعات  مثلا 269(کسی بیماری کے پھیلانے کے لئے غیر ذمہ داری سے کیا گیا کام جس سے زندگی کو خطرہ ہو)دفعہ 150(ایسے مواد کی اشاعت جس سے کسی کی توہین و تحقیر ہوتی ہو)ایس سی ایس ٹی ایکٹ  کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔انہوں نے اپنی رپورٹ میں لاک ڈاؤن کے دوران ہونے والی دشواریوں کو گاؤں والوں کے حوالے سے اجاگر کیا تھا۔یہ موضع ان مواضعات میں سے ایک ہے جسے وزیر اعظم نے گود لیا تھا۔ایس ٹی ایس سی ایکٹ کے تحت مقدمہ اس لئے ہوا کیو نکہ شکایت کرنے والی مالا دیوی نے الزام لگایا ہے کہ رپورٹ سے میرا اور میری ذات کا مذاق اڑایا گیا ہے،جس سے میری عزت و وقار کو ٹھیس پہنچی ہے۔اس ایف آئی آر کے پس پشت کون ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب کوئی صحافی مالا دیوی سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ ڈی ایم صاحب سے بات کرلیں۔

اس لاک ڈاؤن میں حکومت و انتظامیہ نے اپنی ذمہ داریاں کس طرح سے اداکی ہیں وہ جگ ظاہر ہیں۔جس کی قلعی کھولنے میں سچی صحافت کے علمبردار صحافیوں نے اہم کردار ادا کیا ۔پورے ملک میںایسے 55صحافیوں پر پورے  مقدمے ہوئے ،آیف آئی آر درج ،ہوئی یا وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا ۔جس کا انکشاف رائٹس اینڈ رسکس انالیسس گروپ(راگ)کی ایک رپورٹ سے ہوا ہے۔حکومت میڈیا پر کنٹرول اس لئے چاہتی ہے کیونکہ یہ وہ گیٹ وے ہے جس کے ذریعہ حکومت کی مطلق العنانی،بدنظمی اور آئین مخالف کاموں پر سوال اٹھائے جاسکتے ہیں۔آج ملک میں ایمرجنسی یا ڈکٹیٹرشپ تو نہیں ہے لیکن سنسر شپ کا ایسا ماحول بنادیا گیا ہے کہ سچی خبریں لکھنے اور شائع کرنے سے قبل کئی بار صحافیوں کو سوچنا پڑ رہا ہے۔اگر ملک کے عوام نے اس جانب توجہ نہیں دی تو یقینا جمہوریت کیسے مرتی ہے اس کا نظارہ اسی طرح کرتے رہنا ہوگا اور تاریخ یہ پیشین گوئی کر رہی ہے کہ جب جمہوریت کو جمہوری اوزاروں سے موت کے گھاٹ اتارا جا رہا تھا اس وقت ہندستان کے عوام خاموش تھے۔جب ہم مردہ جمہوریت آنے والی نسلوں کو سونپ کر جائیں گے تو وہ بھی ہمیں مردوں میں ہی شمار کریں گی۔اس لئے جمہوریت کے قتل کے آلات کو پہچاننا اور اس کو موت سے بچانے کے لئے میدان میںآنا ضروری ہے۔

محمد حنیف خان

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here