جامعہ ملیہ اسلامیہ میں  شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہرہ پر دہلی پولیس کی کارروائی میں منہاج الدین کی ایک آنکھ کی روشنی چلی گئی ۔

نئی دہلی : جامعہ میں ایل ایل ایم کی تعلیم حاصل کرنے والے 26 سالہ منہاج الدین نے بتایا ہے کہ پولیس کی کارروائی کے بعد اس کی ایک آنکھ سے روشنی  چلی گئی ہے۔ وہ بہار کے سمستی پور سے ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 15 دسمبر کو وہ یونیورسٹی کی لائبریری کے ابن سینا بلاک میں پڑھائی کر رہا تھا  ، اسی وقت پولیس کیمپس میں داخل ہوئی۔ انہوں نے اس کے بارے میں بتاتے ہوئے  کہا

بیس سے پچیس  پولیس اہلکار اچانک لائبری میں  داخل ہوئے اور تمام طلبہ پر لاٹھی بر سانا  شروع کردیا۔ سب اپنی جان بچانے کے لئے بھاگے اور میں بھاگ کر باتھ روم میں چھپ گیا۔

منہاج نے کہا کہ خود کو بچانے کے لئے واش روم بھاگ گیا۔ کچھ لوگوں نے ایک ویڈیو بھی بنائی ، جس میں خون بہہ رہا ہے۔ یہ تماشا قریب آدھے گھنٹے تک چلتا رہا۔ بچوں کو باتھ روم سے نکال  کر مارا گیا  ۔ تین پولیس اہلکار ایک  بچے کو مار  رہے تھے۔

بعد  میں منہاج الدین کی ایک ویڈیو بھی سامنے آگئی۔ اس میں منہاج الدین لائبریری کے باتھ روم میں بیٹھا ہوا تھا ۔ باتھ روم میں دیوار سے بالکل لگ کر ۔ اور اس نے اپنی ایک آنکھ پر رومال رکھا ہوا تھا ۔ طلباء کا کہنا تھا کہ منہاج الدین کو دوسرے طلبا کی مدد سے لا یا گیا ، کیونکہ وہ اپنے دم  پر  اٹھ نہیں سکتا  تھا۔

خبر کے مطابق  سینئر آئی(آنکھ ) ڈاکٹر منہاج الدین کی رپورٹ دیکھنے کے بعد  اس کی تصدیق کی  ہے کہ اس  کی بائیں آنکھ کی روشنی چلی گئی ہے۔ ڈاکٹر نے یہ بھی بتایا ہے کہ منہاج الدین کی کارنیا کو تکلیف ہوئی ہے یا نہیں ، اس کا پتہ اس وقت  لگایا جاسکتا جب  سوجن کم ہوگی  اور درد کم ہونے لگے گا  ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here