ابھی دو دن پہلے میگھنا گلزار کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ”چھپاک“کا ٹریلر لانچ ہوا،جس میں تیزابی حملے سے متاثرلچھمی اگروال اور ان جیسی سینکڑوں لڑکیوں کے ان تمام حالات کو دکھائے گئے ہیں جوصرف متاثرہ،نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کا پورا خاندان جھیلتا ہے، اس کا ٹریلر دیکھنے بعد یہ لگاکہ اے کاش یہ فلم اس سماج میں تھوڑی تبدیلی لا سکے،مردوں کی سوچ میں بدلاؤ لا سکے،اپناسسٹم ا س جانب توجہ دے سکے،میں اپنے دل کی بات بیان کرنا چاہتا ہوں کہ کاش کہ یہ معاشرہ اس درد کو سمجھ پاتا جو کہ ایک لڑکی اپنے اوپر تیزابی حملہ جھیلتی ہے۔تیزابی حملہ صرف اس کے چہرے پر نہیں ہوتا بلکہ اس کی خواہشات،خواب اور فکر وتدبر پر بھی ہوتا ہے۔اس تکلیف کو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس پر کبھی یہ مصیبت آئی ہے،کوئی اور ان تکلیفوں اور درد کو نہیں سمجھ سکتا۔یہ معاشرہ تو صرف ان کے بد نمام چہرے کو دیکھ کر غیر ذمہ دارانہ تبصرہ کرسکتا ہے لیکن اس بد نما چہرہ کے پیچھے دم توڑتے ہوئے اس کے خواب کو نہیں دیکھنا چاہتا۔عام طور پرتیزاب سے متاثرلڑکی اپنی سماجی زندگی سے مایوس ہو جاتی ہے کیوں کہ یہ معاشرہ اب اس کو اپنانے کو تیار نہیں ہوتا۔اکثر دیکھا گیا کہ بس،ٹرین،میٹرو وغیرہ میں ان کے ساتھ ماورائی مخلوق جیسا سلوک کیا جاتا ہے اور صرف اس لیے ہوتا ہے کہ اس معاشرہ میں جی رہے لوگوں میں ہر ایک کے ساتھ یہ حادثہ نہیں ہوا۔یا،انھوں نے قریب سے نہیں دیکھا۔اگر قریب سے اس درد اور تڑپ کا مشاہدہ کیا ہوتا تو اُن سے دوری اور نفرت کے بجائے قربت ہوتی،ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی۔

کیا لڑکیوں کی پرورش کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ ان کے جیسے کی تمنا چھین لی جائے،ان کی خواہشات کو دفن کردیا جائے اور یہ صرف اس لیے کہ مرد،خواتین سے اعلیٰ ہیں۔نہیں!یہ انسانیت کی سوچ نہیں ہوسکتی۔کیا یہ سچ نہیں کہ انگریز ہندوستان میں تجارت کی غرض سے داخل ہوئے اورہم نے کچھ نہیں کہا۔دھیرے دھیرے انھوں نے ہماری حکومتوں میں مداخلت کی۔ہم نے کچھ نہیں کہا،وہ ہمارے صوبہ میں داخل ہوئے،ہم نے کچھ نہیں کہا۔وہ شہر میں داخل ہوئے ہم نے کچھ نہیں کہا۔دھیرے دھیرے وہ ہمارے گھر میں داخل ہوگئے تو اس وقت آنکھ کھلی جب کہ ہمیں کوئی بچانے والا نہیں تھا۔اب ہم ایک دوسرے کے منہ تکنے کے سوا کچھ نہ کرسکے اور پھر غلامی کی زندگی جھیلنے پر مجبور ہوئے۔

تو کیا اب بھی ہم وہی کام کریں، کیا ہم کھلے عام تیزاب بیچنے والوں کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتے؟کیا ہم متاثرہ کو پناہ گاہ فراہم نہیں کرسکتے؟کیا ہم ان کے جینے کی امید نہیں دلا سکتے؟کیا ہم انھیں انصاف نہیں دلا سکتے؟کیا ہم ان کی رکی ہوئی تعلیم کو دوبارہ شروع نہیں کراسکتے؟کیا ہم ان سے ڈرنے کے بجائے ان سے دوستی نہیں کرسکتے؟ان سے اپنے بچوں کو روکنے کے بجائے ان کے قریب نہیں جانے دے سکتے؟

ان سبھی سوالوں کے جواب ہمارے پاس ہیں لیکن اس کے لیے ہمارے معاشرہ کو بالغ نظر،سنجیدہ،ترقی پسند اور مثبت افکار کاحامل ہونا ہوگا اور ایسی بیداری لانی ہوگی کہ ان سے نفرت کرنے کے بجائے ان سے محبت کرنے لگیں۔کم از کم ہمدردی کا مظاہرہ کریں۔ ان کے بد نماچہرہ سے ڈرنے کے بجائے ان بدبخت اور نالائق لوگوں کا بائیکاٹ کیا جائے جنھوں نے متاثرہ کا یہ حال کیا ہے۔

کاش کہ سرکاروں کو بھی اس درد اور تڑپ کاعلم ہوجسے وہ متاثرہ بیان نہیں کرسکتی۔اگر ان کو اس درد کا احساس ہوجاتا تو کھلے عام تیزاب بیچنے والوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنے میں ذرا بھی مضائقہ نہیں کرتے۔

بنگلہ دیش جیسا ملک بھی تیزاب کے خرید وفروخت پر سخت قانون بنا چکا ہے لیکن آسمان کی بلندیوں اور چاند پر قدم رکھنے والا ملک اب تک اس معاملے میں سستی کا مظاہرہ کررہا ہے۔

 گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کی پھٹکار کے بعد مرکزی حکومت نے بھی ارادہ ظاہر کیاتھا کہ تیزاب کے خرید وفروخت پر سخت قانون بنائے جارہے ہیں ساتھ ہی اس میں متاثرہ کی بحالی کے لیے بھی ٹھوس قدم اٹھانے کی بات کہی گئی ہے اور تیزاب کو زہر کے زمرہ میں شامل کرنے کی بات کہی گئی ہے۔

ان تمام قانونی یقین دہانیوں کے باوجود نہ جانے کتنی زندگیاں اور خواب نے دم توڑ دیا لیکن آج بھی بغیر روک ٹوک کے ہر گلی اور محلے میں تیزاب آئس کریم کی طرح بک رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنے تیزابی واردات کے باوجود سرکاریں عدم توجہی کی شکار ہیں،اسی لیے سپریم کورٹ کو کہنا پڑا کہ اس مسئلہ پر سرکاریں سنجیدہ نظر نہیں آتیں۔

مذکورہ باتوں میں شاید ہی آپ کو کچھ نیا لگے کیوں کہ ہماری نفسیات آج بھی یہی ہے کہ مرد خواتین سے اعلیٰ ہیں۔خواتین کو مرد کی ہر بات ماننا ضروری ہے۔ چھیڑ چھاڑ کی مخالفت کی تو تیزابی حملہ کردیا۔پیار کا پیغام ٹھکرادیا تو تیزابی حملہ،مرد کی کسی بات کا انکار کیا تو تیزابی حملہ،کیا ہم نفسیاتی بیماری کے شکار نہیں ہیں؟ہمارا سماج کس سمت جارہا ہے؟در اصل یہ حملہ ہم مردوں کا اُن سے بے بنیاد جنسی مخالفت اور دشمنی نکالنے کا طریقہ نہیں بلکہ ان کے پیچھے افضلیت ثابت کرنے کی بھی منشا ہوتی ہے جو کہ اس معاشرہ کے لیے ناسور سے کم نہیں۔

تو آئیے ہم اس مسئلہ کو لے کر سرکار سے کچھ مطالبہ اور سوال کرتے ہیں کیوں کہ کسی نے کہا ہے کہ جو سوال کرتے نہیں وہ بیوقوف ہیں۔جو کر نہیں سکتے،وہ بزدل ہیں اور جن کے ذہن میں آتا ہی نہیں وہ آج بھی غلام ہیں۔

نمبر ایک :ہمارے ملک میں تیزابی حملے کے خلاف کوئی خاص قانون نہیں۔تیزابی حملوں پہ کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق متاثرین میں اکثریت خواتین کی ہے، ہاں کبھی کبھار مردوں پر بھی یہ حملہ ہو جاتے ہیں۔اس کے خلاف ایک ٹھوس قانون بنایا جاسکتا ہے اور خواتین کے خلاف جسمانی، ذہنی اور جنسی تشدد میں درجہ بندی کی جاسکتی ہے۔

نمبر دو: اکثر واردات میں متاثرہ کی موت نہیں ہوتی بلکہ اس کا قدرتی چہرہ اور زندگی تباہ ہو جاتی ہے،اسی لیے ان سے خصوصی طور سے نمٹنے کی ضرورت ہے اور اس کو ہولناک اور خطرناک جرم کے درجہ میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے ہم مجرم کی تا عمر قید کا مطالبہ کرتے ہیں۔

نمبر تین : چونکہ تیزابی حملہ وحشیانہ اور غیر انسانی جرم ہے جو کہ متاثرہ کی خصوصی علاج اور دیکھ بھال کا مطالبہ کرتی ہے۔قطع نظر کورٹ کے فیصلہ کے، موجودہ قانون اس کے لیے کافی نہیں کیوں کہ متاثرین کی اکثریت ایک لمبے مدت تک کورٹ کا چکر لگاتے ہوئے تھک کر چور ہوگئے ہیں،لہٰذا اُن کے لیے فاسٹ ٹریک کورٹ بھی مہیا کرانا چاہیے جہاں ۳ مہینے میں اس کو سلجھایا جاسکے۔

نمبر چار : اگرچہ سپریم کورٹ نے پھٹکار لگائی ہے کہ تیزابی حملے کے متاثرین کو مکمل انصاف نہیں مل رہا ہے لہٰذا گورنمنٹ کو ایک ایجنسی کی تشکیل کرنی چاہیے جو کہ ان متاثرین کو انصاف دلانے میں مدد کرسکے۔

نمبر پانچ : متاثرین کو مکمل قانونی امداد مہیا کرانا جائے تاکہ انھیں انصاف کے لئے در، دربھٹکنا نہ پڑے۔

نمبر چھ : مرکزی اور صوبائی حکومتیں متاثرین کو معاوضہ اور سرکاری نوکری دینے میں ذرا بھی کوتاہی نہ کریں تاکہ ان کی زندگی کا بوجھ تھوڑا ہلکا ہوسکے۔

نمبر سات : متاثرین کے چہرہ کی سرجری بہت مہنگی ہوتی ہے جو کہ ان کے مناسب علاج کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے لہٰذا گورنمنٹ کو چاہیے کہ اس کے علاج کی ذمہ داری خود اٹھائے۔

نمبر آٹھ : گھریلو ضروریات کے لیے تیزاب کی خرید وفروخت کو کنٹرول کرتے ہوئے اس پر ترجیحی طور پر پابندی لگائی جائے۔صنعتی،تجارتی اور دیگر ضروریات کے لیے لائسنس اور شناختی کارڈ کے ذریعہ اس کی خریدو وفروخت کی جائے۔

نمبر نو : حملے کے متاثرین کے لیے جسمانی،ذہنی،نفسیاتی اور جذبی صدمہ جھیلنا بہت مشکل ہوتا ہے لہٰذا گورنمنٹ ان کے تمام طرح کے صدمے کے لیے ٹھوس کون سلنگ (صلاح کاری)اور دیگر اقدامات کرے۔

مذکورہ بالا تمام مطالبات کو منوانے کے لیے ہمارے معاشرہ کو بالغ نظر،سنجیدہ،ترقی پسند اور مثبت سوچ کو فروغ دینے والا بننا پڑے گا اور ایسی بیداری لانی ہوگی جہاں جرم کودیکھ کر خاموشی کے بجائے اس کے خلاف آواز اٹھائی جائے اور متاثرین سے دوری بنانے کے بجائے قربت اختیار کی جائے۔ان سے نفرت کے بجائے اخوت سے پیش آیا جائے۔ان سے ڈرنے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور مجرمین کو تا عمر قید کے ساتھ اس کے پورے خاندان کو سماجی طور پر بائیکاٹ کیا جائے،تبھی شاید اس معاشرہ میں سدھار پائے گا۔

تحریر ۔محمد منظر امن،ڈائریکٹر سلمی میمور یل فاؤنڈیشن

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here