بیکل اتساہی شخصیت، انفرادیت اور انجمن تھے، جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا: ڈاکٹر ماجد دیوبندی
مدرسۃ الہدیٰ سوسائٹٹی کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں رکن پارلیمنٹ اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کے ہاتھوں کتاب کا رسم اجرا، ضلع مجسٹریٹ نے پیش کی مبارکباد

بلرام پور: مدرسۃ الہدیٰ سوسائٹی کی پانچویں تعلیمی بیداری کانفرنس کے موقع پر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے اشتراک سے ’بیکل اتساہی اور ہندوستانی تہذیب‘ کے موضوع پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔ سابق راجیہ سبھا کے رکن، پدم شری بیکل اتساہی پر ترتیب دی گئی ’بیکل اتساہی یہ حرف ولفظ یہ حسن کلام آپ کے نام‘ کتاب کا اجرا عمل میں آیا ۔ واضح رہے کہ اس کتاب میں سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری، منی پور کی گورنر ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ، سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید اور کے رحمن خان سمیت کئی سیاسی لیڈروں ، پروفیسر اور ادیبوں کے علاوہ سینئرصحافیوں ،بیکل اتساہی کے ہم عصر شعرا اور ریسرچ اسکالرکے مضامین شامل ہیں ۔
کانفرنس کے صدارت کے فرائض عالمی شہرت یافتہ شاعر اور دہلی اردو اکادمی کے سابق وائس چیئرمین ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے انجام دیئے جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر شراوستی کے رکن پارلیمنٹ رام شرومنی ورما، سابق وزیر ڈاکٹر ایس پی یادو، بی جے پی کے سابق ضلع صدر راکیش سنگھ نے شرکت کی جبکہ مہمان اعزازی کے طور پر سابق وزیر اورسماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈرسلیل سنگھ ٹیٹو ، تلسی پور کے بلاک پرمکھ شفیق احمد خان ، تلسی پور کے چیئرمین فیروز خان پپو کے علاوہ بیکل اتساہی کی فیملی نے بھی شرکت کی ۔ اس موقع پر ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) محترمہ شروتی کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا ۔ محترمہ شروتی نے اپنے پیغام میں ، انوار خان میموریل پبلک لائبریری کے زیر اہتمام بیکل اتساہی سے متعلق ترتیب دی گئی کتاب کی سراہنا کرتے ہوئے مرتبین نثار احمد خان اور حبیب الرحمن کو مبارکباد پیش کی اور اپنی رہائش گاہ پر کتاب کا اجرا بھی کیا،ضلع مجسٹریٹ کی رہائش گاہ پر ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ ارون کمار شکلا بھی موجود رہے ۔ اس موقع پر

ڈاکٹر ماجد دیوبندی کو ’بیکل اتساہی ایوارڈ2021‘ اور سماجی کارکن عامر شاہ میرو بھائی کو ’انوار خان میموریل ایوارڈ2021 ‘ سے سرفراز کیا گیا ۔


کانفرنس کے صدارت کے فراءض انجام دیتے ہوئے ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے کہا کہ بیکل اتساہی ایک شخص نہیں بلکہ شخصیت تھے، وہ فرد نہیں انفرادیت تھے ۔ انہوں نے بیکل اتساہی کو انجمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سب کو ساتھ لے جانے کا ہنر جانتے تھے ۔ بیکل اتساہی آج ہمارے درمیان نہیں ہیں ، لیکن وہ ہمیشہ زندہ رہیں اور ہمیشہ ہ میں یاد آتے رہیں گے ۔ ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے بیکل اتساہی کے کلام پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے انہیں ہندوستانی تہذیب کا علمبردار قرار دیا ۔ رکن پارلیمنٹ رام شرومنی ورما نے اپنے خطاب میں تعلیمی بیداری کانفرنس کے انعقاد اور کتاب کے اجرا پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بیکل اتساہی کے چاہنے والے آج بھی ہمارے درمیان ہیں جبکہ وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں ۔ ہ میں ان کی سوچ کو آگے لے جانے کی ضرورت ہے ۔ تعلیم کے بارے میں بیدار ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے ۔


سابق وزیر ڈاکٹر ایس پی یادو نے بیکل اتساہی سے متعلق کتاب کومنظر عام پرلانے کے لئے نثار احمد خان اور حبیب الرحمن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بیکل صاحب کے اندر ایک کشش ہے، ہ میں ان کے ساتھ رہنے کا اعزاز حاصل ہے، ہم سب کو متحد کرنے کا کام کرتے تھے اور اپنی شاعری سے ہندومسلم کے درمیان اتحاد واتفاق پیدا کرتے تھے ۔ بی جے پی کے سابق ضلع صدر راکیش سنگھ نے مدرسۃ الہدیٰ سوساءٹی کی جانب سے ہر سال تعلیمی بیداری کانفرنس کا انعقاد کئے جانے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے تعلیم کی طرف توجہ مبذول کرائی ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے ذریعہ ہی ہم اپنے بچوں کا مستقبل روشن کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع بلرام پور کا تعلق پسماندہ اضلاع میں ہوتا ہے، لہٰذا تعلیم کی طرف ہم سب کو متوجہ ہونا چاہئے ۔ سینئر صحافی جاوید قمر نے بیکل اتساہی سے متعلق ایک تفصیلی مقالہ پیش کیا ۔ انہوں نے بیکل اتساہی کی زندگی، ان کی شاعری اور ان سے اپنی طویل رفاقت کا جذباتی ذکر کیا ۔
ڈاکٹر افروز طالب نے بیکل اتساہی کو گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار قرار دیتے ہوئے بیکل اتساہی کی شاعری اور ہندوستانی تہذیب پر مقالہ پیش کیا ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ریسرچ اسکالر حبیب الرحمن نے ’بیکل اتساہی کی غزلوں کا لسانیاتی مطالعہ‘ کے موضوع پر مقالہ پیش کیا ۔ انہوں نے مختلف اشعار کے ذریعہ ہندوستانی تہذیب اور اودھی تہذیب کا نمائندہ شاعر قرار دیا ۔ دہلی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور سیمینار کے کنوینر نثاراحمد خان نے بیکل اتساہی کا تہذیبی قدروں کا امین قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ بیکل صاحب کی شاعری ہندوستانی تہذیب کی پہچان اور ان کے آبائی وطن کی شناخت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بیکل اتساہی کی شاعری میں وطن کی مٹی کے تقاضوں کی مکمل ترجمانی موجود موجود ہے ۔ کانفرنس میں تمام مہمانوں کو مومنٹو پیش کیا گیا ۔ ساتھ ہی بیکل اتساہی سے متعلق کتاب کے اجرا پر تمام مہمانوں نے مرتبین کو مبارکباد پیش کی ۔ اس موقع پر گنا سمیتی کے چیئرمین عقیل احمد خان، ضلع پنچایت رکن ٹوپ سنگھ، وویک کمار گوئل، شاہد خان پردھان، مولانا خلیل احمد، مشیر خان، میرو شاہ عرف میرو بھائی، عارف خان، پردھان رحیم خان، پردھان ارشد خان، جاوید اشرف، تابش خان، لڈو لال جیسوال وغیرہ بڑی تعداد میں موجود تھے ۔

پریس ریلیز

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here