نئی دہلی : مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے جمعرات کے روز کہا کہ کسی ایک ادارے یا فرد کے جرم کو پوری برادری کے جرم کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ انہوں نے ایک  انٹرویو میں  اس بات پر بھی اعتماد کا اظہار کیا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں لاک ڈاؤن اور معاشرتی فاصلے سے متعلق ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پوری مسلم کمیونٹی اپنے گھر پر نماز اور افطار ادا کرے گی۔

  نقوی کا یہ بیان تبلیغی جماعت کے ایک پروگرام میں متعدد افراد کے کورونا سے متاثر ہونے کے بعد سوشل میڈیا اور کچھ دیگر مقامات پر متنازعہ بحث کے پس منظر کے خلاف سامنے آیا ہے۔ اسی تنازعہ کے درمیان ، اسلامی ممالک کی او آئی سی تنظیم نے حال ہی میں ہندوستان میں اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں تشویش ظاہر کی تھی  ، جس کے بعد نقوی نے کہا کہ ہندوستان مسلمانوں کے لئے جنت ہے اور یہاں اقلیتی برادریوں کے معاشرتی ، معاشی اور مذہبی حقوق مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here