شاہد اقبال : دی آؤٹ ریچ

 حکومت کے اس فیصلے کے خلاف سیکڑوں طلبہ سڑکوں پر نکلے ،پٹنہ میںایس ٹیٹ کے ریزلٹ کو جاری کرنے کے مطالبہ کے ساتھ مظاہرہ کیا اور نتیش کمار حکومت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی،طلبہ نے بہار بورڈ کے آفس کے باہر اپنے مطالبہ کو لےکر کافی ہنگامہ کیا،سابق ممبر پارلیمنٹ پپو یادو سے بھی ملاقات کی۔

پٹنہ: (اسٹاف رپورٹر) نتیش کمار کی حکومت بہار میں تعلیم کے ساتھ مسلسل مذاق کر رہی ہے،اسکولوں میں اساتذہ کی کافی کمی ہے جب اسکولوں میں پڑھانےوالے اساتذہ ہی نہیں رہیں گے تو اچھی تعلیم کیسے ہوگی،بہار میں سالوں سے نتیش کمار کی حکومت ہے ،طلبہ،کسان،مزدور ہر طبقہ کے لوگوں نے بڑی ہی امیدی کے ساتھ بہار کی کمان نتیش کمار کو سونپی تھی لیکن انہوں نے بہار کے عوام کو مایوس کیا ہے خاص طور سے طلبہ کا فی پریشان ہیں،سالوں سے اساتذہ بننے کا خواب سجائے ہزاروں طلبہ کا مستقبل   اب تاریک نظر آرہا ہے۔غالباً۹؍ سال بعد ۲۸؍ جنوری ۲۰۲۰ء کوبہار میں ایس ٹیٹ کا امتحان منعقد ہوا، جس میں ۲؍ لاکھ کے قریب طلبہ نے حصہ لیا ،امتحان کے بعد چند سینٹروں پر گڑبڑی کی خبریں بھی سامنے آئی ،اس کو دھیان میں رکھتے ہوئے  انتظامیہ نے چند سینٹروں پر دوبارہ امتحان بھی کرایا،اس کے بعد چند ماہ بعد ’انسر کی‘ جوابی کاپی بھی جاری کر دیا گیا،اور امتحان میں شامل ہزاورں طلبہ کی امیدیں جگ گئیں کی اب ہم اساتذہ بن جائیں گے،لیکن ریزلٹ نکلنے چند روز قبل ہی حکومت نے اس امتحان کو رد کرنے کا فرمان جاری کردیا جس سے طلبہ میں حکومت کے خلاف کافی ناراضگی دیکھا جا رہی ہے،حکومت کے اس فیصلے کے خلاف سیکڑوں طلبہ نے ایک ساتھ مل کر انصاف کے لیے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا ہے،عدالت نے پہلی سماعت میں حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایس ٹیٹ کے دستاویز کو چند ماہ تک ضائع نہ کریں،اس معاملے کی اگلی سماعت جولائی میں ہے۔ کورونا کو دھیان میں رکھتے ہوئے بہار کے طلبہ ابتک اس کے خلاف سیکڑوں پر نہیں نکلے تھے لیکن لاک ڈاؤن میں ڈھیل کے بعد آج کافی تعداد میں اور حکومت کو آگاہ کیا کہ جلد سے جلد ایس ٹیٹ کا ریزلٹ جاری کیا جائے ورنہ آنیوالے انتخاب میں حکومت کو اس کی سزا ملےگی۔مظاہرہ کر رہے طلبہ نے بی ایس ای بی کے چیئر مین آنند کشور کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ایس ٹیٹ کے درجنوں طلبہ نے اپنی مانگ کو لےکر سابق ممبر پارلیمنٹ پپو یادو سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ،انہوں نے طلبہ کو اپنی جانب سے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس امتحان میں صرف بی ایڈ والوں کو ہی شامل ہونے کی اجازت تھی۔واضح رہے کہ اس معاملے میں طلبہ کا کہنا ہے کہ نتیش کمار حکومت کو طلبہ کی کوئی فکر نہیں ہے ،روزانہ سیکڑوں کی تعداد میں نوجوان بے روزگار ہو رہے ہیں۔ ایسے وقت میں ایس ٹیٹ کا امتحان دینے کے بعد ریزلٹ سے چند دنوں پہلے امتحان کو رد کرنے کے فیصلے  سے حکومت کی منشا صاف ظاہر ہوتی ہے۔ مظاہرہ میں شامل زیادہ تر طلبہ نے کہا کہ جب تک ہمارے مانگ پوری نہیں ہوتی ہے اسی طرح مظاہرہ جاری رہے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here