جولائی (کولکاتا) : پروفیسر اعزاز افضل کی یاد میں قائم شہر کی معروف ادبی تنظیم ”بزمِ افضل“ کی جانب سے پروفیسر اعزاز افضل کی چوراسویں یومِ ولادت کے موقع پر پہلی بار ایک عالمی مشاعرے کا انعقاد بروز پیر ، مورخہ ۰۲ جولائی ۰۲۰۲ءشام ساڑھے سات بجے کیا گیا ۔ مشاعرے کی صدارت پروفیسر کوثر مظہری (شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی ) نے کی جب کہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹر افتخار شفیع (صدر، شعبہ اردو ، گورنمنٹ پی جی کالج ، ساہیوال ، پاکستان) شریک ہوئے۔ افتتاحی کلمات کے دوران ڈاکٹر نعیم انیس (معتمد عمومی ، بزمِ افضل) نے شرکاءکا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ”پروفیسر اعزاز افضل کی یاد میں یہ بزم ان کی وفات کے کچھ عرصہ بعد قائم کی گئی تھی جس کا بنیادی مقصد اردو زبان و ادب کی صالح اقدار کو فروغ دینا ہے۔ بزم کے زیرِ اہتمام ایک سہ ماہی ادبی جریدہ ”فکر و تحریر“ گزشتہ چھ برسوں سے پابندی کے ساتھ شائع ہورہا ہے جس میں ایک طرف جہاں بزرگ اور کہنہ مشق قلم کاروں کی گراں قدر نگارشات زینتِ قرطاس ہوتی ہیں وہیں نوواردانِ علم و ادب کی تحریروں کو جگہ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کا فریضہ بھی بخوبی انجام دیا جاتا ہے ۔ علاوہ ازیں بزم کی جانب سے وقفے وقفے سے شعری و نثری نشستوں، مشاعروں ، توسیعی خطبوںوغیرہ کا انعقاد بھی کیا جاتا رہا ہے۔ عالمی وبا کورونا کے پیشِ نظر اس مشاعرہ کا انعقاد نئی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے انٹرنیٹ کے وسیلے سے آن لائن کیا گیا ہے ۔“ ناظمِ مشاعرہ جناب ندیم قدوسی (رکن ”بزمِ افضل“) نے اپنے منفرد انداز میں یکے بعد دیگرے شعرائے کرام کو زحمتِ سخن دینا شروع کیا جن میں صدرِ مشاعرہ ، مہمانِ خصوصی اور ناظمِ مشاعرہ کے ساتھ جناب جاوید دانش (کینیڈا)، جناب نیر اعظمی (کولکاتا) ، جناب مصطفےٰ اکبر ( کولکاتا) ، ڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی (کولکاتا) ، جناب ضمیر یوسف (ہوڑہ ) ، محترمہ کوثر پروین کوثر (کولکاتا) ، ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی ( پٹنہ ) ، ڈاکٹر عنبر عابد (بھوپال) ، جناب خورشید علیگ (بحرین) ، جناب احمد کمال حشمی (شمالی ۴۲پرگنہ) ، جناب مبارک علی مبارکی (کولکاتا) ، جناب جاوید ہمایوں (کولکاتا) ، جناب نسیم فائق (کولکاتا ) ، جناب پرویز اختر (کولکاتا) ، جناب اصغر مودتی (شارجہ ) ، جناب شاہد اقبال (کولکاتا) ، محترمہ شیریں ظفر (کولکاتا) اور جناب علیم اللہ (نئی دہلی) شامل ہوئے۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر افتخار شفیع نے اپنی گفتگو میں کہا کہ شہر کولکاتا فورٹ ولیم کالج اور سفرِ غالب کے حوالے سے ہماری یادوں کا مرکز ہے اور اردو ادب کی تاریخ میں ناقابلِ فراموش مقام کا حامل بھی۔ کالج میں دورانِ تدریس جب بھی فورٹ ولیم کالج کی ادبی خدمات کا ذکر آتا ہے کولکاتا سے ایک قلبی لگاو کا احساس ہوتا ہے۔ اس انسیت میں ڈاکٹر نعیم انیس کی رفاقت اور ان کی قائم کردہ بزمِ افضل کی آج منعقدہ تقریب میں شرکت سے مزید اضافہ ہوا۔ صدرِ مشاعرہ پروفیسر کوثر مظہری بزمِ افضل کے اراکین خصوصاً ڈاکٹر نعیم انیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سامعین سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ گزشتہ پانچ چھ مہینوں سے ساری دنیا جس وبا سے متاثر ہے اس نے ہمیں اپنے گھروں میں قید ہوجانے پر مجبور کردیا ہے۔ عوام و خواص ہر کوئی ایک دوسرے سے دوری بنائے ہوئے ہے۔ عام آدمی خصوصاً معاشی پریشانیوں سے دوچار ہے اور کورونا کے سبب دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں نے اپنے پیاروں کو ہمیشہ کے لےے کھو دیا ہے۔ ایسے میں شاعر و ادیب کا حساس ذہن بھلا کیسے خاموش رہ سکتا ہے۔ آج کے اس عالمی مشاعرے میں کم و بیش دو درجن شعرا کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو قلم کار سماجی مصائب و آلام کو قلم بند کرنے کی اپنی روایت سے آج بھی منحرف نہیں ہوئے ہیں اور یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ آج کی بزم میں تمام شعرا نے معیاری کلام پیش کیا اور سوائے ایک شاعر کے تمام شعرا نے تحت اللفظ میں کلام پیش پھر بھی آخری وقت تک شعرا اور سامعین کی اچھی خاصی تعداد آن لائن رہی ۔ یہ اس مشاعرے کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ صدرِ مشاعرہ کی گفتگو کے بعد جناب اختر حسین (صدر، بزمِ افضل ) نے ہدیہ تشکر پیش کیا۔

پریس ریلیز

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here